محمدعلی روڈ پرروزہ دار خواتین کے لیے افطار کا خصوصی انتظام: اقبال میمن کی سماجی خدمت کی روشن مثال،1200 خواتین شرکت کرتی ہیں

ممبئی،ماہِ رمضان المبارک میں جہاں ایک طرف عبادات، خیرات اور سماجی ہمدردی کے جذبات عروج پر ہوتے ہیں، وہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو خاموشی سے معاشرے کی خدمت کر کے اس مبارک مہینے کی روح کو عملی شکل دیتے ہیں۔ جنوبی ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقے محمد علی روڈ پر واقع بیگ محمد پارک کا میدان گزشتہ چند برسوں سے ایک ایسی ہی خوبصورت روایت کا گواہ بن رہا ہے جہاں عید کی خریداری کے لیے آنے والی سینکڑوں خواتین کے لیے باعزت طریقے سے افطار کا انتظام کیا جاتا ہے۔
اس کارِ خیر کے روحِ رواں معروف سماجی کارکن اور کامیاب تاجر اقبال میمن آفیسر ہیں، جو نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی سطح پر پانچ سو سے زائد میمن جماعتوں سے وابستہ افراد کے درمیان اپنی سماجی خدمات کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔رمضان کے دنوں میں محمد علی روڈ، بھنڈی بازار، مینارا مسجد اور اطراف کے علاقوں میں عید کی خریداری کے لیے بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں۔ خاص طور پر خواتین شام کے وقت بازاروں میں خریداری میں مصروف رہتی ہیں۔
ایسے میں افطار کا وقت آ جاتا ہے اور اکثر خواتین کو بازار کی بھیڑ بھاڑ میں یا سڑک کے کنارے روزہ کھولنا پڑتا ہے۔ اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اقبال میمن نے چند سال قبل ایک ایسا انتظام شروع کیا جس نے اس علاقے کی فضا کو بدل کر رکھ دیا۔
چھ برس سے جاری خدمت کا سلسلہ
اقبال میمن کے مطابق یہ سلسلہ اب تقریباً چھ برس سے جاری ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ
“ہم نے یہ کام کووڈ سے دو سال پہلے شروع کیا تھا۔ پھر وبا کے دوران یہ سلسلہ کچھ عرصہ بند رہا، لیکن اس کے بعد دوبارہ شروع ہو گیا اور اب لگاتار جاری ہے۔”
ہر روز بیگ محمد پارک کے میدان میں تقریباً ایک ہزار سے بارہ سو خواتین کے لیے افطار کا انتظام کیا جاتا ہے۔ یہاں دسترخوان بچھائے جاتے ہیں، کھجور، پھل، پانی اور دیگر اشیائے افطار مہیا کی جاتی ہیں تاکہ خواتین سکون اور احترام کے ساتھ روزہ کھول سکیں۔
افطار کی اصل روح: عزت اور سکون
اقبال میمن کا کہنا ہے کہ اس انتظام کے پیچھے سب سے بڑا مقصد روزہ کی حرمت اور احترام کو برقرار رکھنا ہے۔ وہ کہتے ہیں:
“اکثر ہم نے دیکھا کہ خواتین بازار کے اندر یا سڑک پر ہی افطار کر لیتی ہیں، کیونکہ خریداری کے دوران افطار کا وقت ہو جاتا ہے۔ روزہ ایک مقدس عبادت ہے اور اسے عزت و احترام کے ساتھ کھولنا چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ خواتین بیٹھ کر سکون کے ساتھ، ایک خوشگوار ماحول میں افطار کریں۔”
ان کے مطابق مرد حضرات کو تو مساجد میں افطار کا انتظام مل جاتا ہے، لیکن بازاروں میں خریداری کرنے والی خواتین کے لیے ایسی سہولتیں کم ہوتی ہیں۔ اسی کمی کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے یہ قدم اٹھایا۔
مالی تعاون کا منفرد انداز
اس افطار پروگرام کے لیے مالی تعاون کا ایک منفرد طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ اقبال میمن بتاتے ہیں کہ
“ایک دن کی افطاری کے لیے عام طور پر لوگ اپنے مرحوم والدین یا عزیزوں کے نام سے تعاون کرتے ہیں۔ اس کے لیے تقریباً پچاس ہزار روپے کی رقم دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی مخیر حضرات اپنی استطاعت کے مطابق ایک لاکھ یا دو لاکھ روپے تک تعاون کرتے ہیں۔”
ان کے مطابق اس کارِ خیر کے لیے کبھی کوئی باقاعدہ تشہیر یا اشتہار نہیں کیا گیا۔ لوگ خود ہی اس خدمت کے بارے میں جانتے ہیں اور دل کھول کر تعاون کرتے ہیں۔
بغیر تشہیر کے خدمت
اقبال میمن اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انہوں نے اس کام کے لیے کبھی تشہیری مہم نہیں چلائی۔
“ہم نے کہیں کوئی اشتہار نہیں دیا، نہ کسی سے باقاعدہ اپیل کی۔ لوگوں نے خود دیکھا اور تعاون شروع کر دیا۔ اصل مقصد خدمت ہے، نہ کہ شہرت۔”
ان کے مطابق رمضان کے دوران اس جگہ کا ماحول نہایت پر سکون اور خوشگوار ہوتا ہے جہاں خواتین باعزت طریقے سے افطار کرتی ہیں اور پھر خریداری کے لیے واپس بازار کا رخ کرتی ہیں۔
رمضان میں افطار کی فضیلت
اسلامی تعلیمات میں روزہ دار کو افطار کرانے کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو شخص کسی روزہ دار کو افطار کرائے، اسے بھی روزہ دار کے برابر ثواب ملتا ہے۔ اسی جذبے کے تحت مسلمان رمضان میں بڑے پیمانے پر افطار کا اہتمام کرتے ہیں۔
تاہم اقبال میمن کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد محض رسمی افطار پارٹی کرنا نہیں بلکہ ایک حقیقی ضرورت کو پورا کرنا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ
“آج کل بڑی بڑی افطار پارٹیاں ہوتی ہیں جن میں لوگ ایک دوسرے کو دعوت دیتے ہیں، لیکن یہاں جو خواتین آتی ہیں وہ ہمارے لیے مہمان ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ انہیں عزت کے ساتھ افطار کرایا جائے۔”
ذاتی ترجیحات میں تبدیلی
اقبال میمن نے بتایا کہ اس خدمت کے بعد ان کی اپنی زندگی کی ترجیحات بھی بدل گئی ہیں۔
وہ کہتے ہیں:
“میں پہلے تقریباً بیس سال تک ہر رمضان میں عمرہ کے لیے جاتا تھا اور کبھی ناغہ نہیں ہوا۔ لیکن جب سے یہ افطار کا سلسلہ شروع ہوا ہے، میں نے رمضان میں عمرہ جانا چھوڑ دیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہاں خدمت کرنا زیادہ ضروری ہے۔”
اسی طرح وہ بڑی بڑی افطار پارٹیوں میں بھی شرکت نہیں کرتے۔ ان کے بقول:
“مجھے بہت سی افطار پارٹیوں کی دعوت ملتی ہے، لیکن میں نہیں جاتا۔ میں کہتا ہوں کہ میرے گھر اور یہاں اتنے مہمان ہیں تو میں دوسروں کا مہمان کیوں بنوں۔”
معاشرتی پیغام
محمد علی روڈ کے علاقے میں رمضان کے دوران اس اقدام کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ مقامی دکانداروں اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف رمضان کی روح زندہ ہوتی ہے بلکہ معاشرے میں باہمی ہمدردی اور احترام کا جذبہ بھی مضبوط ہوتا ہے۔
بہت سے لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ جس بازار سے ہزاروں خواتین خریداری کرتی ہیں اور جس سے دکانداروں کو روزگار ملتا ہے، وہاں خواتین کے لیے افطار کا انتظام ایک خوش آئند مثال ہے۔
ایک خوبصورت روایت
بیگ محمد پارک میں ہونے والا یہ افطار انتظام اب محمد علی روڈ کے رمضان کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ روزانہ سینکڑوں خواتین یہاں آ کر سکون کے ساتھ روزہ افطار کرتی ہیں اور اس کے بعد دوبارہ خریداری میں مصروف ہو جاتی ہیں۔
اقبال میمن اور ان کے رفقا کی یہ خاموش خدمت دراصل اس بات کی یاد دہانی ہے کہ رمضان صرف عبادات کا مہینہ ہی نہیں بلکہ دوسروں کی مدد اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا مہینہ بھی ہے۔
محمد علی روڈ کی گہماگہمی کے درمیان یہ دسترخوان دراصل انسانیت، خدمت اور احترام کا ایسا پیغام دیتے ہیں جو رمضان المبارک کی اصل روح کی بہترین ترجمانی کرتے ہیں۔



