کیا صدقۃ الفطر صرف گندم سے ہے یا دیگر اجناس سے بھی؟

از قلم:مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی
توپران ضلع میدک تلنگانہ
اسلام ایک جامع، کامل اور ہمہ گیر دین ہے جو انسان کی روحانی، اخلاقی اور معاشرتی زندگی کے ہر گوشے میں مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلام نے جہاں بندے اور رب کے تعلق کو مضبوط بنانے کے لیے نماز، روزہ اور حج جیسی عظیم عبادات مقرر فرمائی ہیں وہیں معاشرے میں ہمدردی، مواسات اور غریب پروری کے جذبات کو فروغ دینے کے لیے مختلف صدقات اور مالی عبادات بھی مقرر فرمائی ہیں۔
انہی اہم عبادات میں سے ایک عظیم عبادت صدقۃ الفطر ہے جسے عرفِ عام میں فطرانہ کہا جاتا ہے۔ صدقۃ الفطر درحقیقت رمضان المبارک کی عبادتوں کا ایک حسین اختتام اور روحانی تکمیل ہے۔ اس کے ذریعے روزہ دار اپنے روزوں میں رہ جانے والی کوتاہیوں اور لغزشوں کا کفارہ ادا کرتا ہے اور ساتھ ہی معاشرے کے محتاج اور ضرورت مند افراد کو عید کی خوشیوں میں شریک کرنے کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ قرآن مجید میں اگرچہ صدقۃ الفطر کا ذکر صراحت کے ساتھ نہیں آیا لیکن صدقات اور تزکیہ کا عمومی حکم موجود ہے
جسے مفسرین نے صدقۃ الفطر پر بھی منطبق کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ (سورۃ الاعلیٰ: 14-15) ترجمہ: بے شک وہ کامیاب ہوگیا جس نے اپنے آپ کو پاک کیا اور اپنے رب کا نام لیا اور نماز ادا کی۔ امام ابن کثیر رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ یہاں تزکیٰ سے مراد صدقۃ الفطر بھی لیا گیا ہے کیونکہ عید الفطر کی نماز سے پہلے صدقہ ادا کیا جاتا ہے۔( تفسیر ابن کثیر ج 8 ص 427۔) احادیث نبویہ میں صدقۃ الفطر کی فرضیت نہایت وضاحت کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرض رسول الله ﷺ زكاة الفطر صاعًا من تمر أو صاعًا من شعير على العبد والحر والذكر والأنثى والصغير والكبير من المسلمين ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں پر صدقۃ الفطر فرض قرار دیا، ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو، ہر مسلمان پر خواہ وہ غلام ہو یا آزاد، مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا۔ (صحیح البخاری کتاب الزکاۃ باب فرض صدقة الفطر حدیث 1503 ج 2 ص 271)سی طرح ایک اور روایت میں صدقۃ الفطر کی مختلف اجناس کا ذکر ملتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف گندم تک محدود نہیں ہے۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں كنا نخرج زكاة الفطر صاعًا من طعام أو صاعًا من شعير أو صاعًا من تمر أو صاعًا من أقط أو صاعًا من زبيب ترجمہ: ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں صدقۃ الفطر ایک صاع دیا کرتے تھے، کبھی اناج سے، کبھی جو سے، کبھی کھجور سے، کبھی پنیر سے اور کبھی کشمش سے۔( صحیح البخاری کتاب الزکاۃ حدیث 1506 ج 2 ص 272۔) اس حدیث سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ صدقۃ الفطر صرف گندم کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ مختلف غذائی اجناس کے ذریعے بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔
احادیث میں صدقۃ الفطر کی مقدار ایک صاع بیان ہوئی ہے جو تقریباً ڈھائی سے تین کلو کے برابر ہوتی ہے۔ فقہائے احناف کے نزدیک گندم کی مقدار نصف صاع مقرر کی گئی ہے جبکہ جو، کھجور اور کشمش وغیرہ ایک صاع کے حساب سے دیے جاتے ہیں۔ اس تفصیل سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ شریعت اسلامیہ نے لوگوں کی مالی حیثیت اور معاشرتی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے نہایت حکیمانہ انداز میں آسانی اور سہولت کو ملحوظ رکھا ہے۔
اگر کوئی شخص صاحبِ وسعت اور مالدار ہو تو اس کے لیے بہتر اور افضل یہ ہے کہ وہ کھجور، کشمش یا دیگر قیمتی غذائی اجناس سے صدقۃ الفطر ادا کرے تاکہ محتاجوں کو زیادہ فائدہ پہنچے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل بھی اسی پر تھا۔ لیکن اگر کسی کے مالی حالات کمزور ہوں تو وہ گندم کے حساب سے صدقۃ الفطر ادا کر سکتا ہے اور یہ بھی بالکل درست اور جائز ہے کیونکہ شریعت نے اس معاملے میں تنگی نہیں بلکہ آسانی رکھی ہے تاکہ ہر مسلمان اس اہم عبادت میں شریک ہو سکے۔ رسول اللہ ﷺ نے صدقۃ الفطر کی حکمت نہایت جامع الفاظ میں بیان فرمائی ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں فرض رسول الله ﷺ زكاة الفطر طهرة للصائم من اللغو والرفث وطعمة للمساكين یعنی رسول اللہ ﷺ نے صدقۃ الفطر کو اس لیے فرض فرمایا کہ یہ روزہ دار کو لغو اور بے ہودہ باتوں سے پاک کر دے اور مسکینوں کے لیے کھانے کا انتظام بن جائے۔ پھر فرمایا فمن أداها قبل الصلاة فهي زكاة مقبولة ومن أداها بعد الصلاة فهي صدقة من الصدقات یعنی جو شخص اسے نماز عید سے پہلے ادا کرے تو وہ مقبول زکوٰۃ ہے اور جو نماز کے بعد ادا کرے تو وہ عام صدقہ شمار ہوگا۔ (سنن ابی داؤد کتاب الزکاۃ حدیث 1609 ج 2 ص 247۔) صدقۃ الفطر ادا کرنے کا افضل اور مستحب
وقت یہ ہے کہ اسے عید کی نماز سے پہلے ادا کر دیا جائے تاکہ غریب اور محتاج لوگ بھی عید کے دن اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں أمر رسول الله ﷺ بزكاة الفطر أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة یعنی رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ صدقۃ الفطر لوگوں کے نماز عید کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے(۔ صحیح البخاری حدیث 1509 ج 2 ص 273۔ )صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عید سے ایک یا دو دن پہلے بھی صدقۃ الفطر ادا کر دیا کرتے تھے تاکہ مستحقین تک بروقت پہنچ سکے۔( صحیح البخاری حدیث 1511۔ )فقہائے احناف کے نزدیک صدقۃ الفطر عید الفطر کے دن فجر طلوع ہونے کے وقت واجب ہوتا ہے۔ علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں وتجب صدقة الفطر بطلوع الفجر يوم الفطر عند أبي حنيفة ترجمہ: امام ابو حنیفہ کے نزدیک صدقۃ الفطر عید کے دن فجر طلوع ہونے کے وقت واجب ہوتا ہے۔( رد المحتار علی الدر المختار ج 2 ص 367۔) اسی طرح بدائع الصنائع میں ہے سبب وجوب صدقة الفطر هو الفطر من صوم رمضان ووقته طلوع الفجر من يوم الفطر
ترجمہ: صدقۃ الفطر کے واجب ہونے کا سبب رمضان کے روزوں کا اختتام ہے اور اس کا وقت عید کے دن فجر کا طلوع ہونا ہے۔ (بدائع الصنائع ج 2 ص 74۔ )خلاصہ یہ ہے کہ صدقۃ الفطر صرف گندم تک محدود نہیں بلکہ احادیث مبارکہ میں جو، کھجور، کشمش اور دیگر غذائی اجناس کا بھی ذکر موجود ہے۔ صاحب استطاعت افراد کے لیے بہتر ہے کہ وہ قیمتی اجناس سے صدقۃ الفطر ادا کریں جبکہ کمزور مالی حالت والے لوگ گندم کے ذریعے بھی یہ فریضہ ادا کر سکتے ہیں۔ صدقۃ الفطر کا اصل مقصد روزہ دار کی روحانی تطہیر اور معاشرے کے محتاج افراد کی مدد ہے
تاکہ ہر مسلمان عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکے اور اسلامی معاشرے میں ہمدردی، مساوات اور بھائی چارے کی فضا قائم ہو۔



