کل ہند مرکزی رحمت عالم کمیٹی کی ۲۴ ویں لیلۃ القدر کانفرنس سے فاضل بغداد علامہ مفتی محمد مختار الحسن بغدادی ،خطیب الہند علامہ مفتی محمد تنویر القادری (رامپور )، علامہ ڈاکٹر سید شاہ عبدالمعزحسینی قادری شرفی کے خطابات

قرآن ہر دور میں بھٹکی ہوئی انسانیت کیلئے ہدایت ، حضور پاک کی ناموس کا تحفظ ہر مسلمان کا ایمان فریضہ
کل ہند مرکزی رحمت عالم کمیٹی کی ۲۴ ویں لیلۃ القدر کانفرنس سے فاضل بغداد علامہ مفتی محمد مختار الحسن بغدادی ،خطیب الہند علامہ مفتی محمد تنویر القادری (رامپور )، علامہ ڈاکٹر سید شاہ عبدالمعزحسینی قادری شرفی کے خطابات
حیدرآباد۔17/مارچ2026ء ( راست ) قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی جانب سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو عطا کیا گیا ایک عظیم معجزہ ہے ۔ جس کی عظمت اور بلندی و رفعت کا عالم یہ ہے کہ رب تعالیٰ نے اس کتاب کو لاریب کہا ہے یعنی جس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں اور اس عظیم آسمانی کتاب ’’قرآن پاک ٗ ٗکو رب تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر پر نازل فرمایا جس کو رب تعالیٰ نہ رحمۃ اللعالمین کے لقب سے نوازا ، تو سونچئے اس کتاب کی عظمت اور صاحب ِ قرآن کی عظمت جس کے بارے میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ۔ آج عالم اسلام میں مسلمانوں کے جو حالات ہیں وہ ہمارے سامنے ہیں ۔ ہم نے قرآن پاک کو جو اس کا حق ہے ویسے سمجھا ہی نہی کہیں ہم نے اسے شادی کا تحفہ بنادیا جو بیٹیوں کو جہیز میں دیا جاتا ہے چلئے اس کا دینا ثواب ہے لیکن اپنی بیٹیوں کو یہ نصیحت و تاکید بھی کی جائے کہ اسے صرف گھر میں سجاکر مت رکھو بلکہ اس کو پڑھ کر اس پر عمل کرو تاکہ تمہاری دنیا و آخرت کامیاب ہوجائے ۔ قرآن کو پڑھنا ، قرآن کو سننا ، قرآن کو دیکھنا ثواب ہے لیکن قرآن صرف اس لئے نہیں آیا کہ ختم القرآن کروایا جائے اور دوسروں سے پڑھایا جائے بلکہ قرآن ساری انسانیت کی ہدایت اور رہنمائی کیلئے نازل کیا گیا اور ہمیں خود اس کی تلاوت کرنی چاہئے ۔ ان خیالات کا اظہار کل ہند مرکزی رحمت عالم کمیٹی کی عظیم الشان چوبیسویں لیلۃ القدر کانفرنس و تحفظ ناموس رسالت ؐ منعقدہ 16/مارچ 2026ء بروزپیر بعد نمازِ تراویح گورنمنٹ جونیر کالج گراؤنڈ چنچل گوڑہ پرپہلے مہمان مقرر عالمی شہرت یافتہ عالم دین ، مفکر اسلام، خلیفۂ حضور تاج الشریعہ علامہ مفتی محمد مختار الحسن بغدادی قادری صاحب قبلہ (فاضل صدام یونیورسٹی بغداد شریف ، شیخ الحدیث دارالعلوم نور الحق چرہ محمد پور )نے اپنے خطاب میں کیا ۔محمد شاہد اقبال قادری صاحب (صدر کل ہند مرکزی رحمت عالم کمیٹی )نے مہمان مقررین کا پر جوش استقبال کیا ۔ کانفرنس کی قیادت پیر طریقت حضرت مولانا سید محمد رفیع الدین حسینی رضوی قادری شرفی صاحب ( شرفی چمن ) اور نگرانی عالیجناب محمد شوکت علی صوفی صاحب نے کی ۔ مہمانانِ خصوصی کی حیثیت سے معروف عالم ِ دین ، سیاح ایشیاء و آفریقہ ،ادیب شہیر حضرت علامہ حافظ و قاری محمد انیس احمد مصباحی ازہری صاحب (سابق صدر المدرسین دارالعلوم غوثیہ ضیاء القرآن ، کرلا ، ممبئی)، حضرت مولانا محمد اخلاق اشرفی صاحب (چیرمین ورلڈ قرآنک مشن )، مولانا مشتاق احمد نظامی صاحب ، مولانا ممتاز اشرفی صاحب ، مولانا شاکر اشرفی صاحب ،ڈاکٹر محمد عظیم برکاتی (ایڈوکیٹ) ، جناب سید اعزاز محمد قادری ، ڈاکٹر عظمت رسول صاحب نے شرکت کی ۔ کانفرنس کا آغاز حافظ و قاری کلیم الدین حسان صاحب کی قراء ت کلامِ پاک سے ہوا۔ بارگاہِ رسالتمآب میں معروف ثناء خواںمحمد داؤد قادری ، محمد صدیق رضوی نے ہدیہ نعت پیش کی ۔ نظامت کے فرائض مولانا کمالی حسین رضوی نے انجام دئیے ۔ مولانا نے اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عصر حاضر میں ہمیں قرآن کو سمجھنا اور اس پر سختی سے عمل پیرا ہونا لازمی ہے ۔ یہ کوئی معمولی کتاب نہیں ہے جس کی عظمت کا عالم ہے کہ یہ ہدایت ، شفاء اور بخشش و قرب ِ خداوندی کا عظیم ذریعہ ہے ۔ آج کی رات نزول قرآن مجید کی عظیم رات ہے وہ مبارک رات ہے ، جس رات کو ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا گیا ہے اس رات اور اس ماہِ مبارک کو کئی فضیلتوں کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کے نزول سے مزین فرماکر اللہ تعالیٰ نے اُمت محمدیہ کی بخشش کے سامان مہیا فرمادیا ہے ۔ اب کون ایسا بد نصیب شخص ہوگا جو اس عظمت والے مہینے میں اپنی بخشش نہ کروالے ۔ اس ماہ مبارک کی فضیلتوں میں ہے کہ اس میں نیکیوں کا اجر ستر گنا بڑھادیا جاتا ہے ۔ للہ مسلمانو اپنے گھروں میں قرآن کی تعلیم کو اس قدر عام کردو کہ تمہاری نسلیں اپنا ہر کام قرآن کے حکم کے مطابق کرے ۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دوسرے مہمان مقرر عالمی شہرت یافتہ ممتاز عالم دین ،مفکر اسلام علامہ مفتی محمد تنویر القادری صاحب (رامپور ، یو پی )نے کہا کہ قرآن مجید عظیم آسمانی کتاب ہے جس کو رب تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضور اکرم محمد عربی ﷺپر نازل فرمایا اور نبی پاک سے رب تعالیٰ کی محبت کی انتہاء یہ ہے کہ اسے اپنے محبوب کی زبان’’ عربی ٗ ٗ میں نازل فرمایا اور تو اور اپنے محبوب کی پیاری اُمت کے مہینے رمضان المبارک میں شب قدر کی مبارک رات جس کو ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا اس رات میں اس کا نزول فرمایا ۔ کیا یہ ہمارے لئے رب تعالیٰ کا عظیم انعام نہیں ہے ۔ للہ مسلمانو ! ہم نے قرآن کی عظمت کو پس پشت ڈال دیا ہے جس کتاب کو ہماری ہدایت کا ذریعہ بنایا گیا ، جس میں حرام و حلال کا فرق ، رشتوں کی اہمیت ، ایمان و کفر کی حقیقت ، عبادت واذکار کی اہمیت ، بڑوں اور چھوٹوں کا ادب ، زندگی گذارنے کا نظام ، لباس ، کھانے پینے ، اُٹھنے بیٹھنے ، چلنے پھرنے ، سونے جاگنے کے آداب ، کسی کے گھر پر جاؤ تو اس کا حکم ، کسی کو مہمان بناؤ تو اس کا حکم ، میاں بیوی کے حقوق ، والدین کے حقوق ، بچوں کے حقوق ، اساتذہ کے حقوق ،حضور پاک ﷺ کی عظمت و بلندی ، تمام انبیاء میں ہمارا آقا کا مقام ، دیگر امتوں میں امت محمدیہ کا مقام ، غرض زندگی کا ایسا کوئی شعبہ نہیں جس کے متعلق اللہ پاک نے قرآن مجید میں نہ بتایا ہو ۔ للہ مسلمانو ! قرآن کی عظمت اور اس کی تعلیمات کو سمجھو ، عصر حاضر میں عالم اسلام کے مسلمانوں کے جو حالات ہیں وہ قرآن اور صاحب قرآن ﷺ سے دوری کا نتیجہ ہے ۔ جیسا کہ قرآن پاک کا واضح پیغام ہے تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو ۔ جہاں پر ہمارے ایمان کی بات آتی وہاں پر ہمارے غالب ہونے کی بات بھی ہے تو پھر ہم کیسے ان دشمنان اسلام اور شیطانوں کے آلہ کاروں سے خوف کھائیں ، جب کہ ہمارے رب کا وعدہ ہم پر آچکا ہے کہ تم ہی غالب رہو گے ۔ تو ہمیں سوچنا چاہئے کہ ہمارے ان حالات کی وجہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رسی کو چھوڑنا ، قرآن اور صاحب ِ قرآنؐ سے محبت کو چھوڑنا ہے ۔ آج ہمیں چاہئے کہ ہم اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی اطاعت میں اپنی زندگی گذاریں ۔ قرآن پر سختی سے عمل پیرا ہوجائیں اور صاحب ِ قرآن ﷺ کی محبت کو لازم سمجھیں تبھی ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہونگے ۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ ڈاکٹر سید شاہ عبدالمعز حسینی رضوی قادری شرفی صاحب (کامل الحدیث جامعہ نظامیہ)نے کہا کہ رب تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں ماہِ رمضان المبارک عطا فرمایا ، جس میں بندوں کی ہدایت و اصلاح تربیت و آخرت کی تیاری اور مغفرت و نجات کا سامان ہے اور اس ماہ مبارک کی فضیلت ہے کہ اس میں قرآن کا نزول ہوا ۔ رب تعالیٰ نے اپنے محبوب پر اس ماہ کی عظیم شب یعنی لیلۃ القدر میں قرآن پاک کو نازل فرمایا ۔یہی وہ قرآن ہے جو ساری انسانیت کیلئے ہدایت کا واحد راستہ اور سرچشمہ ہے اور جو مکمل دستورِ حیات ہے ، یہی وہ قرآن ہے جس کو شفاء کہا گیا ہے یہی وہ قرآن ہے جس کو عظمت والی کتاب کہا گیا ہے ، یہی وہ قرآن ہے جس کے متعلق رب تعالیٰ نے کہا کہ اگر یہ قرآن کسی پہاڑ پر نازل کیا جاتا تو وہ ریزہ ریزہ ہوجاتا ۔یہی وہ کتاب ہے جس کی عظمت کو سمجھنے والے جہاں صحابہ کرام ہیں وہیں اور اولیائے عظام ہیں جنہوں نے قرآن پاک کو نہ صرف پڑھا بلکہ قرآن پاک کو سمجھا اور اس پر سختی سے عمل کیا تبھی تو وہ قرآن والے ہوئے اور انہوں نے قرآن سے ایسا فیض حاصل کیا کہ وہ ہر شئے کو قرآن پاک کے میزان سے تولا کرتے تو انہیں کسی سوال کو حل کرنے میں کوئی پریشانی نہ ہوتی ۔ اسی لئے علامہ اقبال ؔ نے کہا کہ ۔۔وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر :: اور ہم خوار ہوئے تارکِ قرآن ہوکر ۔۔ اور آج ہم نے قرآن پاک کی عظمت کو فراموش کردیا ، ہم نے قرآن پاک کو جزدانوں کے حوالے کردیا ، ہم نے قرآن پاک کو صرف فیصلوں اور قسموں کیلئے استعمال کرنا شروع کردیا ، ہم نے قرآن کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا چھوڑ کر اسے نظام حیات بنانا چھوڑ کر صرف ایک کتاب کا درجہ دے دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم ساری دنیا میں رسواء ہورہے ہیں ۔ لہذا ہمیں چاہئے کہ ہم خود بھی قرآن کو سمجھیں اور اپنی اولاد کو بھی قرآن کی تعلیم سے آراستہ کریں ۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا حافظ و قاری محمد اقبال احمد رضوی القادری نے کہا کہ عصر حاضر میں قوم مسلم کو قرآن کے پیغام کو سمجھنے اور دوسروں تک پہونچانے کی ضرورت ہے ۔ قرآن مجید کا نزول جہاں ساری انسانیت کیلئے ہدایت ہے وہیں یہ شفاء ہے ، دواء ہے ، نظام حیات و کائنات ہے ، غرض دین اسلام کو سمجھنے کیلئے قرآن کو پڑھنا ضروری ہے دعویٰ عشق و محبت کرنا آسان ہے لیکن قرآن اور صاحب قرآن نبی پاک ﷺسے محبت ، سنت پر عمل پیرا ہونا ، قرآن کی تعلیمات پر سختی سے عمل کرنا حقیقی محبت ہے تب ہی ہم رب تعالیٰ کے حضور مقبول بندوں میں شامل ہونگے ۔ قرآن پاک کو رب تعالیٰ نے زبان عربی میں نازل فرمایا ۔ لیکن کمال معرفت یہ ہے کہ دنیا کے ہر ملک میں ، ہر شہر میں ، ہر قطعے میں ، ہر زبان میں قرآن پڑھا جاتا ہے اور سمجھا جاتا ہے آج ہماری نسلوں کو ہمیں قرآن سے جوڑنے کی ضرورت ہے تاکہ دشمنانِ اسلام کی سازشیں ناکام ہوجائیں ۔ مولانا ڈاکٹر محمد عبدالنعیم قادری نظامی ( نائب صدر رحمت عالم کمیٹی ) ، مولانا ظہیر الدین رضوی نے شرکت کی ۔ آخر میں صلوٰۃ و سلام اور عالم اسلام کے مسلمانوں خصوصا ً فلسطین کے مسلمانوں کیلئے رقت انگیز دعاء پر کانفرنس کا اختتام عمل میں آیا ۔محمد عادل اشرفی ، سید لئیق قادری ، محمد عبدالکریم رضوی، سید طاہر حسین قادری ، محمد عبدالمنان عارف نے انتظامات کئے ۔



