بیلسٹک میزائل حملہ۔ ریاض میں موبائل فونز میں سائرن بج اٹھے

ریاض ۔ کے این واصف
سعودی شہری دفاع نے کہا ہے کہ ریاض میں بدھ کو بیلسٹک میزائل انٹرسیپٹ کیے جانے کے بعد رہائشی علاقے پر “شارپنل” گرنے سے چار ایشیائی شہری زخمی ہوگئے جبکہ محدود مادی نقصان بھی ہوا ہے۔ زخمیوں کا تعلق کن ممالک سے تھا اس کی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔
مقامی افراد کے مطابق ریاض میں صلاۃ التراویح کے وقت نمازیوں کے موبائیل فونز میں سائرن بج اٹھے۔ لوگ مسجد میں محفوظ تھے اس لیے کسی قسم کی افراتفری نہیں مچی جو لوگ گھروں سے باہر تھے نے انٹرسپٹ کئے گئے مزائلز کے گرتے ہوئے ملبہ اور آسمان میں آگ کے گولوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
سعودی خبر رساں ایجنسی “ایس پی اے” کے مطابق شہری دفاع کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔ترجمان نے کہا کہ شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی کوششیں بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
اس سے قبل وزار ت دفاع کے ترجمان نے کہا تھا کہ ریاض میں چار بیلسٹک میزائلوں کو روک کر تباہ کیا گیا، اس کا ملبہ مختلف علاقوں میں بکھرا، ابتدائی جائزوں کے مطابق کوئی نقصان نہیں ہوا۔جبکہ بدھ کی دوپہر ایک ڈرون کو ریاض میں ڈپلومیٹک کوارٹر (حی السفارات) کے قریب مار گرایا گیا۔
ترجمان نے کہا تھا کہ فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ریاض کو نشانہ بنانے والے بیلسٹک کے خطرے سے نمٹ رہے ہیں۔الشرقیہ ریجن (ایسٹرن پراونس) میں ریفائنری کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، ایک ڈرون کو مار گرایا گیا۔ اس آپریشن میں بھی کوئی نقصان نہیں ہوا۔



