جنرل نیوز

عید کی حقیقی مسرتیں: زندوں سے ملاقات، مرحومین کی زیارت اور دلوں کی طہارت, مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا بیان

عید کی حقیقی مسرتیں: زندوں سے ملاقات، مرحومین کی زیارت اور دلوں کی طہارت, مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا بیان

حیدرآباد 19مارچ(پریس ریلیز ) خطیب وامام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز نامپلی حیدرآباد مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے بتلایا کہ عید کا دن اپنے دامن میں صرف ظاہری خوشیاں ہی نہیں سمیٹے ہوتا بلکہ یہ دلوں کی دنیا کو آباد کرنے اور رشتوں کی خوشبو کو تازہ کرنے کا ایک روحانی پیغام بھی لے کر آتا ہے۔ ماہِ رمضان کی ریاضتوں کے بعد جب بندہ عید کی صبح اللہ تعالیٰ کے حضور سجدۂ شکر ادا کرتا ہے تو گویا اسے ایک نئی زندگی، ایک نیا جذبہ اور ایک نیا عہد نصیب ہوتا ہے۔

اسی عہد کی تکمیل کا پہلا مرحلہ زندوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور ملاقات ہے۔ انسان اپنے والدین، بزرگوں، رشتہ داروں اور احباب کے پاس حاضر ہوتا ہے، مصافحہ کرتا ہے، معانقہ کرتا ہے اور بغل گیر ہو کر محبت کا اظہار کرتا ہے۔ یہ لمحات محض رسمی نہیں ہوتے بلکہ دلوں کی گہرائیوں سے نکلنے والے جذبات کا اظہار ہوتے ہیں۔ ان ملاقاتوں سے دلوں میں جمی ہوئی گرد صاف ہوتی ہے، کدورتیں مٹتی ہیں اور محبت و اخوت کی فضا قائم ہوتی ہے۔

مگر عید کی یہ خوشی اس وقت کامل ہوتی ہے جب انسان اپنے اُن عزیزوں کو بھی یاد کرے جو اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ جن کے ساتھ کبھی عید کی خوشیاں منائی جاتی تھیں، آج وہ قبروں کی خاموش وادیوں میں محوِ استراحت ہیں۔ ایسے میں قبور کی زیارت ایک خاموش مگر بامعنی ملاقات بن جاتی ہے—ایسی ملاقات جس میں آنکھیں نم ہوتی ہیں، دل دعاگو ہوتا ہے اور روح اپنے ماضی سے جڑ جاتی ہے۔

قبور کی زیارت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی عارضی ہے اور ہر ملاقات ایک دن جدائی میں بدل سکتی ہے۔ جب انسان اپنے مرحومین کی قبروں پر حاضر ہوتا ہے، ان کے لیے دعائے مغفرت کرتا ہے، قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو گویا وہ اپنے تعلق کو وفات کے بعد بھی زندہ رکھتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف مرحومین کے لیے باعثِ رحمت بنتا ہے بلکہ زندہ انسان کے دل میں عاجزی، فکرِ آخرت اور محبت کی گہرائی پیدا کرتا ہے۔

یوں عید کا دن ہمیں ایک جامع پیغام دیتا ہے: پہلے زندوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرو، ان سے محبت کا اظہار کرو، ان کی دلجوئی کرو؛ پھر اُن مرحومین کی طرف متوجہ ہو جاؤ جو تمہاری دعاؤں کے محتاج ہیں۔ یہ دونوں ملاقاتیں—ایک زندوں کے ساتھ اور دوسری قبور پر—انسان کی زندگی کو توازن عطا کرتی ہیں اور اسے حقیقتِ حیات سے روشناس کراتی ہیں۔

اگر ہم عید کو اسی شعور اور احساس کے ساتھ منائیں تو یہ محض ایک تہوار نہیں رہے گی بلکہ ایک ایسی روحانی تربیت بن جائے گی جو ہمارے دلوں کو نرم، ہمارے رشتوں کو مضبوط اور ہماری زندگی کو بامقصد بنا دے گی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں عید کی ان حقیقی مسرتوں کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

متعلقہ خبریں

Back to top button