” یہ کیسی عید ہے؟ "

ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ
اسسٹنٹ پروفیسر۔ ویمنس یونی ورسٹی
نظم
یہ کیسی عید ہے؟
کہاں کی خوشی ہے؟
یہاں گھروں میں چراغ نہیں جلتے
یہاں آنکھوں میں اندھیرا پلتا ہے
وہ کہتے ہیں—امن ہے!
اور قانون بھی انہی کا ہے!
مگر یہ کیسا امن ہے
جو لاشوں کے بیچ اُگتا ہے؟
یہ کیسا قانون ہے
جو صرف
طاقتور کے ہاتھ میں جچتا ہے؟
ایوانوں میں جشن ہے
اور گلیوں میں ماتم بکھرا ہے
وہاں مسکراہٹیں بکھرتی ہیں
یہاں کفن بچھتے ہیں
لوگ عید منا رہے ہیں
اور ہم جنازے اٹھا رہے ہیں
کوئی عیدی بانٹ رہا ہے
کوئی قبریں سجا رہا ہے
یہ کیسی دنیا ہے؟
جہاں
زندہ رہنا بھی جرم ٹھہرتا ہے
جہاں
خاموشی بھی الزام بن جاتی ہے
دیڑھ ماہ کا بچہ…
کس جرم میں مارا گیا؟
نہ اس نے سرحد دیکھی
نہ کوئی دشمن پہچانا
پھر بھی
وہ اس آگ کا ایندھن بنا دیا گیا
یہ جنگ نہیں—
آئینے میں انسانیت کا جھلسا ہوا چہرہ ہے
یہ طاقت نہیں—
ضمیر کی گہرائی میں
ایک خاموش زخم کی گواہی ہے
سن لو اے دنیا کے فیصلے لکھنے والو!
جب معصوم خون بہتا ہے—
تو تمہاری ہر جیت
تاریخ کی سب سے بڑی ہار لکھتی ہے!


