جنرل نیوز

کانگریس حکومت انتخابی منشور اور مسلم ڈیکلریشن پر عملی آوری مںی مکمل طور پر نا کام : بی آر ایس اقلیتی قائدین نظام آباد کی پریس کانفرنس 

،کانگریس حکومت انتخابی منشور اور مسلم ڈیکلریشن پر عملی آوری مںی مکمل طور پر نا کام

تمام وعدوں پر عمل آوری کا مطالبہ بصورت دیگر بڑے پیمانے عوامی احتجاج کا انتباہ

بی آر ایس اقلیتی قائدین نظام آباد کی پریس کانفرنس

نظام آباد 23/ مارچ (اردو لیکس) ریاستی کانگریس حکومت اپنے انتخابی منشور اور مسلم اقلیتی ڈیکلریشن پر عمل آوری پر مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے ان خیالات کا اظہار نظام آباد میں بی آر ایس پارٹی دفتر تلنگانہ بھون پر منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ضلع اقلیتی سل بی آر ایس پارٹی نوید اقبال ، اور صدر ٹاؤن اقلیتی سل بی آر ایس پارٹی نے کیا ان قائدین نے کہا کہ گذشتہ پونے تین سال کے دوران چیف منسٹر اےریونت ریڈی حکومت نے اسمبلی انتخابات کے موقع پر عوام سے جھوٹے اور دلفریب وعدوں کے زیر اقتدار حاصل کیا تھا تاہم ان وعدوں کو عملی جامہ پہنانے میں کوئی دلچسپی نہیں دیکھائی ان قائدین نے کانگریس حکومت کے انتخابی منشور کو میڈیا کے نمائندوں کے روبرو پیش کی اور بتایا کہ چھ گیارنٹی اسکیم جن میں ابھئے ہستم اسکیم کے تحت خواتین کو مہا لکشمی اسکیم کے ذریعہ دو ہزار پانچ سو روپے ، پانچ سو روپے میں پکوان گیاس سلنڈر کی فراہمی ، خواتین کو مفت بس کی سفر کی سہولت گروہا جوتی کے تحت دو سو یونٹ گھریلو برقی کی فراہمی، اندرما ایلو اسکیم کے تحت غریب خاندانوں کو اراضی کے ساتھ مکانات کی تعمیر کے علاوہ حصول تلنگانہ کی جدو جہد میں حصہ لینے والوں کو 250 مربع اراضی کی فراہمی، یوا وکاسم کے تحت ودیا بھروسہ پانچ لاکھ روپے کا ودیا بھروسہ کارڈ، ہر منڈل سطح پر تلنگانہ انٹرنیشنل اسکول کا قیام میں لائے جانے گاچیوتا چار ہزار روپے ماہانہ وظیفہ کی فراہمی ، دس لاکھ روپے کا راجیو آروگیا انشورنس ،رعیتو بھروسہ اسکیم کے تحت خول دار کاشت کار کو ہر سال 15 ہزار ، کاشت کار کو 12ہزار، ہر فصل پر پانچ سو روپے کا بونس

مینارٹی ڈیکلریشن کے تحت 4ہزار کڑور کا سب پلان جس میں بے روزگار نوجوان خواتین کو ایک ہزار کڑور روپے ، عبدالکلام تحفہ تعلیم اسکیم کے تحت میٹرک کامیاب طلباء وطالبات کو دس ہزار روپے ، اسطرح انٹرمیڈیٹ پندرہ ہزار ، اور گریجویشن کو پچس ہزار ، ایم فل ، اور پی ایچ ڈی کو ایک لاکھ روپے کی اسکالرشپ ، سکھ کمیونٹی کے لئے سکھ مینارٹی فینانس کارپوریشن کا قیام ، آئمہ و موؤذن کو بارہ ہزار اور دس ہزار روپے دینے کا ہر ماہ مشاہیرہ دینے کاوعدہ کیا تھا تاہم اس میں اضافہ نہیں کیا بلکہ مقررہ وقت پر اس کی اجرائی بھی عمل میں نہیں لائی جارہی ہے جس کے لئے ہر بار نمائندگی کرنے کی ضرورت بیش آرہی ہے

شادی مبارک اسکیم کے تحت کے تلنگانہ کے پہلے وزیر اعلیٰ کے سی آر ملک بھر اپنی نوعیت کی

اسکیم شادی مبارک کا آغاز کیا تھا اور اس کے ذریعے ایک لاکھ سے زائد رقم فراہم کی جارہی تھی جس سے کئی لاکھ خاندانوں نے استفادہ حاصل کیا تھا اس اسکیم کے تحت کانگریس حکومت نے

ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپیوں کے ساتھ ایک تولہ سونا دینے کا وعدہ کیا تھا اس کو فراموش کر دیا گیا مینارٹی ایکٹ1988

میں ترمیم اور ہر سال اسمبلی میں اس کی رپورٹ پیش کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا اس کے علاوہ ، وقف اراضی پر ناجائز قبضوں کی برخاست کر کے ان کی اراضیات کووقف بورڈ کے حوالے کرنے کا وعدہ کیا، لیکن کس قسم کی کارروائی نہیں کی گئی

قبرستانوں کا تحفظ ، نئے قبرستانوں کے لئے اراضی کی فراہمی ، سٹ ون اور قلی قطب شاہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی

کی ترقی و ترویج کے لیے اقدامات ، سٹ ون کے ذریعے اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام کا آغاز ، کے علاوہ قلی قطب شاہ ڈیولپمنٹ

اتھارٹی کے لئے انفراسٹرکچر کی فراہمی ، کانگریس دور میں اقلیتوں کے تعلیمی نقصانات میں قابل ذکر

ٹمریز تعلیمی

اداروں کے ایکٹ

انٹیگریٹڈ پالیسی کے تحت ضم کر نا جس سے اقلیتوں کے تہذیبی اور ثقافتی بلکہ 75فیصد طلباء کے تناسب پر اثر ہوگا تلنگانہ ایجوکیشن پالیسی 2026-2027

میں ایک بھی اقلیتی نمائندے کو شامل نہ کرنا حکومت کی اقلیتی تعلیمی ترقی کی عدم۔ دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے

مولانا اردو نیشنل یونیورسٹی کی پچاس ایکڑ اراضی کو واپس لینے کی نوٹس دینا کانگریس حکومت کی اقلیتی اداروں کی بد نیتی کو ظاہر کرتا ہے

15 مئی 2025 میں چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے مامڑپلی میں حج رباط کے تعمیر کا اعلان کیا تھا جو تا حال شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا ، کانگریس کے نوید اقبال نے کہا کہ برسراقتدار کانگریس حکومت میں ڈھائی سال کے دوران 48 فرقہ وارانہ واقعات پیش آئے جس پر بیشتر واقعات میں قانونی کارروائی نہیں کی گئی

نوید اقبال نے کہا کہ ریاست کے مختلف مسلمانوں کی مساجد ، درگاہوں ، چھلوں کو شہید و مسمار کیا گیا انہوں نے تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایاکہ ضلع عادل آباد کے جینور فسادات کے متاثرین کو ایکس گریشاء دینے کا وعدہ کیا گیا تھا تا حال حکومت نے انہیں معاوضہ فراہم نہیں کی ہے 2024میں چلکور میں مسجد جاگیرداری کوشہید کیا گیا اس کے علاوہ 2024 میں آدی بٹلہ میں واقع قبرستان کو مسمار شہید کردگیا

2025 میں چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے حلقہ اسمبلی کوڑنگل میں واقع درگاہ اور چھلہ کو مسمار کیا گیا حال حکومت نے ویملواڑو میں مندر کی توسیع کے لئے حضرت خواجہ تاج الدین رحمۃ اللہ کی 25ہزار مربع اراضی کو قانون کی خلاف کرتے ہوئے حاصل کی ہے جبکہ اراضی وقف گزٹ میں درج ہے اس کے علاوہ ضلع کلکٹر نے بھی اس ضمن میں نوٹ لکھا تھا جس کو نظر انداز کر دیا گیا نوید اقبال نے کہا کہ مختلف سیاسی و ملی تنظیمیں مسلمانوں کے ساتھ ریاستی حکومت کی جانب سے ہونے والی ناانصافی پر آواز بلند نہ کرنے اور ان کی خاموشی پر اپنے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ ریاستی حکومت کی جانب مسلمانوں کے تعلق سے اختیار کے جانے معاندانہ رویہ کے خلاف اپنا احتجاج درج کرائیں انہوں نے کہا کہ یو پی میں جس طرح یوگی حکومت مساجد

قبرستانوں ، درگاہوں ، چھلو ں کو منہدم و مسمار کررہی تلنگانہ میں چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کی کانگریس حکومت میں اس پرعمل کی جارہی ہے

نوید اقبال نے کہا کہ مرکزی حکومت کی تعلیمی پالیسی کے تحت تعلیمی اداروں وندے ماترم بڑھانے کے تعلق سے ریاستی حکومتوں کو احکامات جاری کئے گئے ہیں ان احکامات کے خلاف ریاستی حکومت وندے ماترم کے

نہ پڑھانے کے تعلق سے سرکاری طور پر اعلان کی عدم اجرائی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا اس پریس کانفرنس میں بی آر ایس ٹاؤن اقلیتی سل صدر عمران شہزاد ، عبد المتین جوبلی، ثناء اللہ ، ایم اے باری، عزیز خان ، محمد سمیع الدین ، عمرو چاوش، شیخ صادق ، مبشیر ، عمران ، شیخ یونس ،شانو، عارف ، و دیگر موجود تھے

متعلقہ خبریں

Back to top button