اسپشل اسٹوری

“حجرِ اسماعیل” – صدیوں سے خانۂ کعبہ کی تاریخ کا گواہ۔ چند معلومات و حقائق

ریاض ۔ کے این واصف 

برسہابرس سے عازمین و زائرین کعبۃ اللہ سے متصل ایک نصف دائرہ نما دیوار (حطیم) دیکھتے آرہے ہیں۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے کچھ تاریخ حقائق پیش ہیں۔ کعبہ شریف کی شمالی سمت میں “حجرِ اسماعیل” واقع ہے جسے “الحطیم” بھی کہتے ہیں۔ (“حجر” کے ح کو زیر سے پڑھین )مسجد الحرام کے اندر یہ مقام بہت ہی خاص حیثیت کا حامل ہے۔اگرچہ “حجرِ اسماعیل” سے اس کی سادگی واضح طور پر عیاں ہوتی ہے، لیکن کعبے کی تعمیر کے حوالوں اور مکہ میں جانشینی سے متعلق واقعات کے مطابق اس مقام میں، تاریخی اعتبار سے بہت گہرے مفہوم پنہاں ہیں۔

 

“حجرِ اسماعیل” کعبے کی تعمیر کا لازمی حصہ سمجھتا جاتا ہے۔ تاریخی واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرب ابراہیم اور ان کے فرزند حضرت اسماعیل نے خانۂ خدا کی بنیاد رکھی تھی تو “حجرِ اسماعیل” کو بیت العتیق کی اصل عمارت میں شامل کیا تھا۔لیکن جب قبیلۂ قریش نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے انقلابی مشن سے قبل کعبے کو دوبارہ تعمیر کیا تو انھوں نے مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے”حجرِ اسماعیل” کو کعبے کا حصہ نہ بنایا۔ چنانچہ کعبہ کی عمارت اس شکل کی بن گئی جیسی یہ ہمیں آج نظر آتی ہے۔

 

اس دن سے آج تک “حجر”، تعمیراتی پہلو کی ایک مخصوص صورت ہے جو کعبہ کے شمالی جانب ایک نیم دائرہ کی صورت میں نظر آتی ہے۔ اس کی دیواریں 1.3 میٹر بلند اور 30 سینٹی میٹر چوڑی ہیں۔“حجرِ اسماعیل” کے بارے تاریخ میں جو واقعات درج ہیں ان کے مطابق حضرت اسماعیل اور ان کی والدہِ ماجدہ حضرت حاجرہ علیہما سلام، کعبۂ مقدس کے اس خاص مقام پر رہا کرتے تھے۔ بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ یہاں پر حضرت اسماعیل کے مویشی رکھے جاتے تھے۔

 

یہیں سے “حِجر” کی اصطلاح کا تصور سامنے آیا ہے جس کا مطلب ہے “علیحدہ کی گئی یا چاروں جانب سے محسور و مسدود جگہ” جو اصل مقام سے دوُر ہو۔اسلامی دور میں آنے والے ہر زمانے میں “حجر”، کعبے کے تعمیری منظر کا مستقل عُنصر رہا ہے۔ اس کے ڈھانچے میں کئی بار تبدیلیاں کی گئیں جن میں سے سے زیادہ قابلِ ذکر تبدیلی اس وقت ہوئی جب عبداللہ ابن الزبیر نے حضرت ابراہیم کی بچھائی ہوئی بنیادوں پر از سرِ نو کعبے کی تعمیر کر دی۔ اس تعمیر میں “حجر” کو کعبے کی عمارت کے اندر شامل کر دیا گیا۔ تاہم جب بنو امیہ کا دور آیا تو انھوں نے “حجر” کو پھر سے کعبے کی عمارت سے باہر اس مقام پر تعمیر کروایا جہاں یہ آج تک موجود ہے۔

 

آج بھی طواف کرنے والوں یا سحنِ مطاف میں آنے والوں کا دل چاہتا ہے کہ “حجر” کے اندر خالی جگہ پر نماز پڑھیں یا نفل ادا کرین۔ کیونکہ پیغمبرِ اسلام سے منسوب ایسی روایتیں ہیں کہ “حجر” کے اندر ادائیگیِ صلوۃ، کعبۂ مقدس کے اندر نماز پڑھنے کے برابر ہے کیونکہ کعبہ جب پہلی بار تعمیر ہوا تھا تو “حجر” کعبے کے اندر تھا۔اب سے کچھ عرصہ قبل تک بھی “حجر” یا الحطیم میں زائرین کو نوافل ادا کرنے کی اجازت تھی جو اب ختم کردی گئی ہے۔

 

مختلف صدیوں میں کعبے کی دیکھ بھال کے دوران “حجر” کا بھی بہت خیال رکھا گیا ہے۔اس کے نصف دائرے کی دیوار کو پالش کیے گئے سفید ماربل سے تعمیر کیا گیا ہے جبکہ “حجر” کے فرش پر نفیس ترین ماربل کا استعمال ہوا ہے تاکہ فنی تعمیر کی نسبت سے یہ مقام اور مسجدالحرام سے ہم آہنگ ہو جائیں۔ آج ایک مسلسل نظام کے تحت، اس جگہ کی دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے جس کا مقصد اس تاریخی نشانِ امتیاز کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

 

سعودی دور میں دانش مند قیادت نے “حجرِ اسماعیل” پر بھر پور توجہ دیتے ہوئے اس کو مسجد الحرام کی دیکھ بھال کے جامع نظام کا حصہ بنا دیا ہے۔اس مقام کی باقاعدگی سے دیکھ بھال میں ماربل کی بحالی، رکاوٹی دیوار اور پتھروں کو محفوظ بنانا اور اس بات کو یقینی بنانا کے جب جب مسجد الحرام کی وسعت کی جائے، “حجر اسماعیل” اس کے ڈیزائن سے ہم آہنگ رہے، مسجد الحرام اور “حجرِ اسماعی” کی حفاظت سعودی حکومت کے مکمل اور مسلسل منصوبے کا ایک حصہ ہے۔

 

آج “حجرِ اسماعیل” نہ صرف اپنی تعمیراتی اہمیت بلکہ ایک تاریخی اور مذہبی علامت ہونے کی وجہ سے کعبہ شریف سے واسبتہ انتہائی نمایاں سنگِ میل ہے۔ یہ خانۂ خدا کی تعمیر کے مختلف مراحل اور بیتی ہوئی ان صدیوں کی جیتی جاگتی گواہی ہے جنھوں نے مسجد الحرام کے عین وسط میں واقع اس مقام کے تقدس کو محفوظ رکھا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button