جنرل نیوز

سابق صدر مجلس ا عادل آباد سراج قادری کا انتقال – نماز جنازہ میں عوام و معززین کی بڑی تعداد شریک

سابق صدر مجلس اتحاد المسلمین عادل آباد سراج قادری کا انتقال

71 سالہ سراج قادری طویل علالت کے بعد داعیٔ اجل کو لبیک، نماز جنازہ میں عوام و معززین کی بڑی تعداد شریک

عادل آباد۔24/مارچ (اردو لیکس)عادل آباد شہر کی ممتاز سیاسی، سماجی اور ادبی شخصیت اور کل ہند مجلس اتحاد المسلمین عادل آباد کے سابق صدر سراج قادری مختصر علالت کے بعد 71 سال کی عمر میں کل شب انتقال کرگئے

 

۔ ان کے انتقال کی خبر سنتے ہی شہر کے سیاسی، سماجی، علمی اور مذہبی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔ خاندانی ذرائع کے مطابق مرحوم گزشتہ چند ماہ سے مختلف عوارض، بالخصوص پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا تھے۔ حیدرآباد میں علاج کے بعد انہیں عادل آباد منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ اپنے بڑے فرزند فہیم قادری کی رہائش گاہ پر زیر علاج تھے۔ پیر کی شب تقریباً 10 بجے انہوں نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔

 

مختصر وقت میں حاصل کردہ تفصیلات کے مطابق مرحوم نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1987 میں مجلس اتحاد المسلمین سے کیا اور تقریباً 39 سالہ طویل سیاسی سفر کے دوران مختلف جماعتوں سے وابستہ رہتے ہوئے عوامی خدمات انجام دیتے رہے۔ انہوں نے سال 2000 میں بلدی انتخابات میں حصہ لیا، بعد ازاں 2003 میں تلگو دیشم پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔اور مقامی بلدیہ کے کونسلر منتخب ہوئے اور عوامی مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کیا۔ 2006 میں بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) میں شمولیت اختیار کی۔ بعد کے دور میں انہوں نے دوبارہ مجلس اتحاد المسلمین میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے اپنی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا۔

 

مرحوم ایک فعال، ملنسار اور ہر دلعزیز شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ان کی وفات پر ضلع انچارج و رکن اسمبلی یاقوت پورہ جعفر حسین معراج نے مرحوم کے فرزند فہیم قادری سے فون پر بات کرتے ہوئے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور تعزیت پیش کی۔ تعزیت کے لئے مرحوم کی رہائش گاہ پر بڑی تعداد میں سیاسی و سماجی شخصیات، علماء کرام اور عوام الناس پہنچے، جن میں مجلس اتحاد المسلمین کے مقامی قائدین، سمیت دیگر معززین شامل تھے۔ مرحوم کی نماز جنازہ منگل کے روز بعد نمازِ عصر مسجد محمدیہ عیدگاہ میدان بھکتاپور میں ادا کی گئی،حافظ محمد منظور احمد نے نماز جنازہ پڑھائی

 

۔ جس میں علماء، حفاظ، رشتہ داروں، دوست احباب اور عوام الناس کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ بعد ازاں انہیں عیدگاہ سے متصل قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ مرحوم کے پسماندگان میں اہلیہ، دو صاحبزادے اور دو صاحبزادیاں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

متعلقہ خبریں

Back to top button