حضرت امام بخاریؒ کے منہجِ تحقیق کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت: مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

حضرت امام بخاریؒ کے منہجِ تحقیق کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت: مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری
حیدرآباد 24مارچ(پریس ریلیز)علم و حکمت کے درخشاں افق پر جب بھی ائمۂ حدیث کا تذکرہ ہوتا ہے تو دل عقیدت سے جھک جاتے ہیں اور زبانیں اُن نفوسِ قدسیہ کے تذکرے سے معطر ہو اٹھتی ہیں، جنہوں نے اپنی زندگیاں دینِ اسلام کی حفاظت اور احادیثِ نبوی ﷺ کی خدمت میں وقف کر دیں۔ ایسے ہی ایک عظیم المرتبت امام، -حضرت امام محمد بن اسماعیل البخاری رحمۃ اللہ علیہ ہیں، جن کی علمی بصیرت، تحقیقی معیار اور روحانی کیفیات رہتی دنیا تک اہلِ علم کے لیے مشعلِ راہ بنی رہیں گی۔ عہدِ حاضر میں جبکہ فکری انتشار، علمی تنگ نظری اور اختلافات کی شدت بڑھتی جا رہی ہے، ایسے میں ائمۂ دین کے منہج کو اپنانا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔اسی تناظر میں چیئرمین لینگویجز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے تحریکِ لسانیات کے زیرِ اہتمام مرکزی دفتر بنجارہ ہلز، روڈ نمبر 12 پر منعقدہ جاری سہ روزہ درسِ بخاری کی پہلی نشست سے خطاب کرتے ہوئے نہایت بصیرت افروز اور فکر انگیز خیالات کا اظہار فرمایا۔ انہوں نے اہلِ علم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنی صفوں میں تنگ نظری کو ختم کرنا اور برداشت کو فروغ دینا وقت کی اشد ضرورت ہے۔ علمی اختلافات کو جوش و جذبات، فتویٰ بازی اور زبان درازی کا میدان بنانے کے بجائے دلائل و براہین اور علمی اسلوب کے ساتھ پیش کیا جانا چاہیے، کیونکہ طریقت میں نئے اسالیب کا بیان کرنا ہرگز بے ادبی یا گستاخی کے زمرے میں نہیں آتا۔
انہوں نے احادیث کی مستند ترین کتاب کے مصنف حضرت امام بخاریؒ کی حیاتِ مبارکہ، علمی عظمت اور تحقیقی معیار پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ ادب کے دائرے میں رہ کر علمی اختلاف اسلامی تاریخ کا روشن باب ہے۔ ادب اور تحقیق کا ٹکراؤ کبھی نہیں ہوتا، مگر بدقسمتی سے کم علمی اور جہالت نے اسی بنیاد پر عقیدہ کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے اس امر کی وضاحت کی کہ روایتِ حدیث میں Abu Hanifa کو “امیر المؤمنین” کا درجہ حاصل ہے، جو ان کے مقامِ علم و فقاہت کی عظمت کا بین ثبوت ہے۔
مولانا نے اپنے خطاب میں صحیح البخاری میں مذکور احادیث کی علمی شرح، دلائل اور دیگر کتبِ حدیث سے موازنہ بھی پیش کیا، اور حضرت امام بخاریؒ کی تعلیمی زندگی، اساتذہ اور علمی اسفار کا تفصیلی تذکرہ فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ بعض افراد ہر مسئلہ پر صرف بخاری شریف سے دلیل کا مطالبہ کرتے ہیں، حالانکہ علمِ حدیث ایک وسیع اور گہرا فن ہے جس میں فہمِ حدیث اور اصولِ روایت دونوں یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے امام بخاریؒ کے بچپن کے اس ایمان افروز واقعہ کا بھی ذکر کیا کہ کم عمری میں آپ کی بینائی چلی گئی تھی، جس پر آپ کی والدہ ماجدہ نے نہایت الحاح و زاری کے ساتھ دعا کی، یہاں تک کہ خواب میں بشارت دی گئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی بینائی کو لوٹا دیا۔ اسی طرح انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ صحیح البخاری کی تصنیف کا محرک بھی ایک خواب بنا، جو امام بخاریؒ کے روحانی مقام اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کی روشن دلیل ہے۔
مزید فرمایا کہ امام بخاریؒ نے تقریباً سولہ برس کی مسلسل محنت کے بعد صحیح البخاری کو مرتب فرمایا، اور اپنی پوری زندگی میں عشقِ رسول ﷺ کا یہ عالم تھا کہ حضور نبی اکرم ﷺ کا موئے مبارک اپنے لباس میں محفوظ رکھتے تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحیح البخاری کی تالیف کا آغاز حرمِ پاک سے ہوا اور اس کا اختتام روضۂ رسول ﷺ کے سامنے ہوا، جو اس کتاب کی روحانی نسبت اور عظمت کو مزید جِلا بخشتا ہے۔
مولانا نے کہا کہ روایتِ حدیث اور فہمِ حدیث ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ امام بخاریؒ نے مختلف ممالک کا سفر کر کے احادیث جمع کیں، خصوصاً کوفہ اور بغداد جیسے علمی مراکز سے انہیں بڑی تعداد میں روایات حاصل ہوئیں، جہاں صحابۂ کرامؓ اور تابعین کی علمی مجالس آباد تھیں۔ صحیح البخاری میں کم و بیش 9082 احادیث شامل ہیں، جن میں 2513 احادیث بغیر تکرار کے ہیں، اور تقریباً 90 ہزار افراد نے براہِ راست امام بخاریؒ سے احادیث کا سماع کیا۔
آخر میں مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں ائمۂ دین کے علمی منہج، تحمل مزاجی اور تحقیقی اسلوب کو اپنانا چاہیے، تاکہ امت میں اتحاد، فہمِ دین اور صحیح عقیدہ کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں علمِ نافع اور عملِ صالح کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔



