مضامین

اسلام اور اسکی بدلی ہوئی شکلیں: ایک مخلصانہ تنقیدی جائزہ

سیف الاسلام فاروقی، حیدرآباد

اللہ عزوجل نے رسول اللہ ﷺ کے ذریعے بلاشرکت غیرے خالص بندگی رب والی زندگی گزارنے کے لئے فطرت کے عین مُطابق کتاب و سنت کی شکل میں دین مبین عطا کیا ہے , لیکن مذہبی علماء کرام نے اسکے بلکل برعکس رویہ اختیار کرتے ہوئے گزشتہ ایک صدی کی کاوشوں سے پوری ملت اسلامیہ کو تنزلی کا شکار بناکر انکی وضع قطع، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت و اذہان کو عین مذہبی بنادیا ہے اور دین کے قرآنی تصور کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

 

اسکی چند شکلیں ذیل میں پیش کی جارہی ہیں:

 

1۔ مسلکی اسلام:

اس اسلام کی اتباع کرنے والے مذہبی مسلمان انکے مسلک کی بالادستی اور مفادات کو ترجیح دینے کو ہی دین سمجھتے ہیں اور کسی دوسرے مسلک کے محاسن کو بیان کرنے سے عملی طور پر گریز کرتے ہیں بلکہ لگتا ہے کہ گناہ بھی سمجھتے ہیں اور علمی و تقابلی مطالعہ بیان کرنے کے کلچر کو پروان نہیں چڑھاتے ہیں۔

 

2۔ جماعتی اسلام

اس اسلام کی اتباع کرنے والے مذہبی مسلمان اپنی جماعت کے مفادات کی بالادستی اور مفادات کو ترجیح دینے کو ہی عین دین سمجھتے ہیں۔ ان پر چونکہ مذہبیت کا غلبہ ہوتا ہے اس لئے اس جماعت سے تعلق و وابستگی رکھنے والے عملی طور پر ملت اسلامیہ سے کٹ کر عصبیت اور حزبیت کا عملی طور پر مظاہرہ کرتے ہیں اور اپنی محدود جماعت کے علماء کرام و اکابرین ہی کو ترجیح دیتے ہیں اس طرح سے ملت اسلامیہ کے علماء کرام اور اکابرین کے فیضان سے عملی طور پر محروم رہتے ہیں اور اس وجہ سے ہونے والے نقصان پر مطمئن بھی رہتے ہیں۔

 

3۔ وطنی اسلام

اس اسلام کی اتباع کرنے والے سیکولر مذہبی مسلمان اپنے وطن کی بالادستی اور مفادات کو ترجیح دینے کے لئے اسلام کا استعمال کرتے ہیں، طاغوت کی کھینچی ہوئی لکیروں کی اس شدت کے ساتھ تائید کرتے ہیں جیسے دین اور اسکے اقدار کی کرنی چاہیئے- اللہ عزوجل اور رسول اللہ ﷺ نے ہم کو امت مسلمہ کی حیثیت سے متعارف کروایا تھا لیکن وطنیت کی لکیروں سے وفاداری اور مذہبیت میں سرشار ایسے مسلمانوں کو ایک دوسرے سے نفرت اور قتل کرنے پر بھی آمادہ کردیا ہے۔

 

4۔ سلفی اسلام

اس اسلام کی اتباع کرنے والے مذہبی مسلمان اگرچیکہ کتاب و سنت اور منہج سلف الصالحین جیسی اصطلاحات کا استعمال کرتے ہیں تاہم عملی طور پر اپنے مسلک کی بالادستی اور مفادات کو ہی ترجیح دیتے ہیں اور صریح طور پر اسلامی احکامات کی بغاوت کرنے والے مسلم حکمرانوں کی اتباع کو کتاب و سنت پر مقدم ثابت کرنے کے لئے بیجا طور پر جرآت اور جسارت کرتے ہوئے خبیث اور مبغوض کاوشیں کرتے ہیں۔

 

5۔ دیوبندی اسلام

اس اسلام کی اتباع کرنے والے مذہبی مسلمان علماء کرام اور اکابر پرستی کے مرض میں ایسے مبتلا ہوتے ہیں گویا کہ انکے مسلک اور علماء کی بالادستی اور مفادات کو ترجیح و فوقیت دینا ہی عین دین قرار پاتا ہے اور روزمرہ کی زندگی میں دین کا وہ تصور پیش کرتے ہیں جو دراصل مذہب کا تصور ہوتا ہے۔

 

6۔ بریلوی اسلام

اس اسلام کی اتباع کرنے والے مذہبی مسلمان بھی اپنے مسلک کی بالادستی اور مفادات کو ترجیح دیتے ہیں اور اس کی دعوت دینے ہی کو مکمل دین سمجھتے اور سمجھاتے ہیں۔

 

7۔ اسلام

اس اسلام کی اتباع کرنے والے مسلمان و علماء کرام مذہبی نہیں ہوتے بلکہ کتاب و سنت اور منہج سلف الصالحین کی مخلصانہ اتباع کرتے ہیں اور اس راہ میں پیش آنے والی ہر ممکنہ آزمائش و ابتلاء کا عہد الست سے ایفائے عہد کرتے ہوئے بغیر رتی برابر منافقت اور دین سے غداری کئے نبھاتے اور سچ کرکے دیکھاتے ہیں۔ اور اس یقینی دن آنے تک دین کی بالادستی، قیام اور اسکے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔

 

دین کے اصل اور جامع تصور پر کتاب و سنت کی روشنی میں مستند علماء اور بزرگوں کی تحریر کردہ کتابیں موجود ہیں ان سے استفادہ فرمائیں اور راست طور پر اللہ عزوجل کی عطا کردہ عقل سلیم کا استعمال کرتے ہوئے کتاب و سنت اور منہج سلف الصالحین سے دین سیکھیں، جب جب مسلک اور جماعتیں مضبوط ہوتی ہیں تب تب ہماری زندگیوں میں دین کمزور اور مذہبیت مضبوط ہو جاتی ہے۔

 

اللہ عزوجل نے انسانیت کو قیامت تک کے لئے بندہ بن کر رہنے صرف اور صرف دین اسلام کو پسند کیا اور اسی دین کو ضابطہ حیات بنایا ہے لیکن بقول مولانا الطاف حسین حالی رح "وہ بدلا گیا آکے ہندوستاں میں” کے مصداق امت مسلمہ نے اپنے اوپر ظلم کرتے ہوئے جہالت کے ساتھ دین کے حصے بخرے کرتے ہوئے اس کو مذہب کے درجے پر پہنچا دیا ہے، اس کا واحد کتاب و سنت والا ربانی حل صرف "فردوه إلى الله والرسول” ہے۔

 

اگر ہم ان مسلکوں جماعتوں، جمعیتوں، اداروں، تنظیموں اور فرقوں کو ہی عین دین سمجھنے کی مزید حماقت، جہالت اور ضد و ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ عزوجل سے بغاوت کا رویہ جاری رکھیں گے تو معلوم ہو جیسا کہ حدیث میں فرمایا گیا ہے "بدأ الإسلام غريباً وسيعود غريباً” اس حدیث میں موجود غریب کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ عزوجل نے قیامت تک کے لئے دین نازل فرمایا لیکن ہم نے دین سے انحراف کرتے ہوئے اس کی شکل بدل کر دین کو اجنبی بنادیا اور اسکی جگہ مذہب کو ایجاد کرلیا ہے جس کی وجہ سے ہم پر ذلت و مسکنت مسلط ہو گئی ہے اور زوال و نکبت ہمارا مقدر بن گئی ہے۔

 

حرفِ آخر کے طور پر مختصراً عرض یہ کہ، اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں مختلف مقامات پر تکرار کے ساتھ صرف دین کی اصطلاح کا استعمال کیا ہے جیسے "ویکون الدین کلہ للہ” اور "اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينا” یعنی اسلام کو مذہب نہیں بلکہ دین کہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ زمین پر حقیقی غلبہ، اطاعت اور بندگی صرف اللہ عزوجل کی ذات کے لئے مخصوص ہونا چاہیئے، اگر ہم اللہ عزوجل کے کامل احکامات نہیں سمجھیں گے اور اتباع نہیں کریں گے تب تک ہم مکافاتِ عمل کے طور پر نسل در نسل غلام ہی رہیں گے اور ہماری اگلی نسل دین کو مذہب بنانے کے جرم پر ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

 

وماعلینا الا البلاغ المبین

متعلقہ خبریں

Back to top button