ایران پر حملے اور عالمی معیشت: آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کی اہمیت

ڈاکٹرتبریز حسین تاج۔حیدرآباد
دنیا کی معیشت ایک دوسرے پر منحصر نظام کے طور پر کام کرتی ہے، جہاں کسی ملک کی سلامتی اور خود مختاری کو خطرہ پہنچانا نہ صرف انسانی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ عالمی اقتصادی استحکام کو بھی جھٹکا پہنچا سکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں نے عالمی سطح پر ایک خوفناک فضا پیدا کر دی ہے، جس کے اثرات دنیا کی معیشت پر بھی واضح طور پر محسوس کیے جا رہےہیں۔
ایران کے قبضے میں موجود آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ دنیا کے تیل کا تقریباً پانچواں حصہ اسی گذرگاہ سے گزرتا ہے۔ چند دن سے ایران کی جانب سے پابندیوں یا کسی بھی قسم کی کشیدگی کی خبریں عالمی مارکیٹ میں ہلچل پیدا کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ حقیقت میں، بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتیں شدید کشیدگی کی صورت میں بیس ڈالر سے اوپر برقرار رہ سکتی ہیں، اور اگر بندش طویل ہو تو برنٹ کروڈ $150 تک جا سکتی ہے۔
اگر یہ صورتحال شدت اختیار کرے اور حوثی یا دیگر گروہ بحیرہ احمر میں بھی مداخلت کریں، تو دنیا کے اہم تجارتی راستے — بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز — بلاک ہو سکتے ہیں۔ بحیرہ احمر شمال میں سوئز خلیج کے ذریعے بحیرہ روم اور جنوب میں باب المندب کے راستے عرب سمندر سے جُڑا ہے۔ اس کے بغیر عالمی سمندری تجارت میں رکاوٹ پیدا ہو گی، خاص طور پر یورپ، مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے درمیان توانائی کی نقل و حمل متاثر ہوگی۔
قدرتی وسائل اور تجارتی راہوں کی حفاظت کے لیے عالمی طاقتوں کو ذمہ دارانہ اور تعاون پر مبنی حکمت عملی اپنانا چاہیے۔ اسرائیل اور امریکہ کی طاقت کا بے جاہ استعمال نہ صرف ایران بلکہ عالمی معیشت بھی متاثر کر سکتا ہے، جس کا خمیازہ عام لوگ اور بین الاقوامی بازار یکساں طور پر بھگتیں گے۔
ہندوستان پر اس بحران کے ذیلی اثرات:
بھارت کا تقریباً 90 فیصد ایل پی جی اور خام تیل ہرمز کے راستے سے درآمد ہوتا ہے، اس لیے سپلائی میں خلل سے گھریلو بجلی، پیٹرول اور سی این جی کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں تیل کی قیمتوں میں ہر $10 کا اضافہ ہندوستان کے جی ڈی پی کو تقریباً 0.15 فیصد تک کم کر سکتا ہے اور مہنگائی میں 0.3 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے، ساتھ ہی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی بڑھ سکتاہے۔بڑھتی توانائی قیمتوں نے روپئے پر دباؤ ڈالا ہے اور اسے 13 مارچ 2026 کو ریکارڈ کم سطح تک لے گئے، جس سے تجارتی اور سرمایہ مارکیٹس میں عدم استحکام پیدا ہوا ہے
آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے خطرے کے تناظر میں یہ واضح ہے کہ عالمی سیاست میں طاقت کے کھیل سے زیادہ مؤثر راستہ یہ ہے کہ تعاون، سفارتکاری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی جائے، تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر نہ ہو اور اقتصادی مندی کا خطرہ پیدا نہ ہو۔



