نظام آباد میونسپل کارپوریشن میں مالی سال 2026-27 کے مجوزہ بجٹ کو متفقہ طور پر منظوری دی گئی

نظام آباد میونسپل کارپوریشن میں مالی سال 2026-27 کے مجوزہ بجٹ کو متفقہ طور پر منظوری دی گئی
اجلاس میں مہیش کمار گوڑ، دھن پال سوریہ نارائنا، ضلع کلکٹر، مئیر، ڈپٹی مئیر و کارپوریٹرس کی شرکت

نظام آباد: 28/ مارچ(اردو لیکس)میونسپل کارپوریشن نظام آباد مالیاتی سال 2026-27کیلئے پیش کردہ بجٹ کو آج منعقدہ میونسپل کارپوریشن کانفرنس ہال میں خصوصی اجلاس جس کی صدارت مئیر اوما رانی نے کی۔اس کو منظوری دیدی گئی۔ اس اجلاس میں رکن قانون ساز کونسل مہیش کمار گوڑ، رکن اسمبلی اربن نظام آباد دن پال سوریہ نارائنا، ضلع کلکٹر ایلاتر پارٹھی،میونسپل کارپوریشن کمشنر دلیپ کمار اور دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں 2026-2027 کے مجوزہ بجٹ کے ساتھ ساتھ2025-2026 کا نظرثانی شدہ تخمینہ بجٹ بھی پیش کیا گیا جسے کونسل کے اراکین نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔بجٹ میں یکم /اپریل 2025 تک ابتدائی بقایا 9471.33 لاکھ روپے رہا جبکہ 2025-26کے نظرثانی شدہ تخمینی آمدنی 13717.11 لاکھ روپے کے ساتھ مجموعی رقم 23188.44 لاکھ روپے ظاہر کی گئی۔
آئندہ مالی سال2026-27 کے لیے عمومی فنڈ کی آمدنی 14763.60 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ پلان اور نان پلان گرانٹس کے تحت 9937.00 لاکھ روپے حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا۔ مجموعی اخراجات کا تخمینہ 24700.60 لاکھ روپے رکھا گیا ہے۔اجلاس کے دوران کارپوریٹرس نے اپنے اپنے حلقوں کے مسائل پیش کیے جس پر ایم ایل سی مہیش کمار گوڑ، ایم ایل اے دھن پال سوریہ نارائنا اور ضلع کلکٹر نے مثبت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ان کے حل کی یقین دہانی کرائی۔
اس موقع پر مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ سیاست کو انتخابات تک محدود رکھتے ہوئے نظام آباد شہر کی ترقی کے لیے پارٹی وابستگی سے بالاتر ہوکر سب کو مل کر کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے شہر کے لیے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے خصوصی فنڈز کی منظوری کیلئے پر ریاستی قیادت کے مثبت رویہ کا بھی ذکر کیا۔ مہیش کمار گوڑ نے میونسپل عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈس مختص کرنے میں تمام ڈیویژنوں کو یکساں اہمیت دینے کی ہدایت دی۔انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کی ضرورت کے مطابق نظام آباد میں ماسٹر پلان پر عمل آوری ناگزیر ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ماسٹر پلان کا مسودہ تیار ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریٹرس کے ہمراہ اجلاس کا انعقاد عمل میں لایا جائیگا تاکہ ڈرافٹ پلان میں کوئی ترمیم کی جاسکے تاکہ کسی کے ساتھ نا انصافی نہ ہوں۔ ضلع کلکٹر ایلا ترپاٹھی نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ ذمہ داری سے کام کریں اور عوامی نمائندوں کے وقار سے سمجھوتہ کئے بغیر کام کریں۔ انہیں کارپوریٹرس کے ذریعہ اٹھائے گئے عوامی مسائل کو حل کرنے کیلئے لگن کے ساتھ سنجیدگی سے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ مئیر کی اجازت سے ایک ماہ کے اندر ایک خصوصی اجلاس منعقد کریں تاکہ متعلقہ ڈیویژنوں میں موجود مسائل پر تبادلہ خیال اور ان کا حل تلاش کرسکے۔انہوں نے کہا کہ کارپوریشن کے ریونیو ذرائع میں اضافہ کیلئے پلاٹوں کی ریگولائزیشن درخواستوں کو فیلڈ انسپکشن کے ذریعہ شفاف طریقہ سے حل کیا جائے اور اہل افراد کو پرمیٹ دئیے جائیں۔
انہوں نے کمشنرکو مشورہ دیا کہ وہ واٹس گروپ تشکیل دیں تاکہ صفائی کے کاموں کی مناسب نگرانی کو یقینی بنایا جاسکے اور عملے کی کارکردگی پر سخت نگرانی رکھی جاسکے۔انہوں نے ہدایت دی کہ آؤٹ سورسنگ عملہ کی حاضری، چہرہ کی شناخت کے نظام کے ذریعہ نافذ کی جائے۔ اس اجلاس میں ڈپٹی مئیر سلمیٰ تحسین،کانگریس کارپوریٹر عبود بن حمدان، محمد انور، مجلسی کارپوریٹرس محمد شکیل احمد فاضل، محمد ادریس خان، عبدالرحمن ارشد، عبدالسلیم، محمد سراج الدین، عبدالعلی باغبان، میر ممتاز علی، بی جے پی شراونت ریڈی، بنٹو رامو کے علاوہ عہدیداروں نے شرکت کی۔ یہاں اس بات کا ذکر بے محل نہ ہوگا کہ میونسپل کارپوریشن نظام آباد 16/ فروری کو کارپوریٹرس کی حلف برداری تقریب منعقد ہوئی تھی جبکہ مئیر اور ڈپٹی مئیر کا انتخاب 20/ فروری کو عمل میں آیا تھا۔



