تجزیہ و رائے: آزاد صحافت اور مسلم نمائندگی کا چیلنج

تحریر: صحافی خضر احمد یافعی عادل آبادی
عادل آباد ۔ 28/ مارچ (اردو لیکس)
موجودہ دور میں جب میڈیا رائے عامہ کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، ایسے میں مسلمانوں کی مؤثر نمائندگی اور اسلامک کلچر کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے لئے آزاد، غیر جانبدار اور باوقار صحافت ناگزیر ہوچکی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قوم کے مسائل کو ایوانوں تک پہنچانے اور ان کے حل کے لئے میڈیا سب سے طاقتور ذریعہ بن سکتا ہے، بشرطیکہ اسے مضبوط بنیادیں فراہم کی جائیں۔
تاہم ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ قوم و ملت کا درد رکھنے کا دعویٰ کرنے والے حلقوں میں عملی تعاون کی کمی واضح نظر آتی ہے۔ اردو صحافت اور مسلم صحافیوں کو اکثر مشوروں سے نوازا جاتا ہے، لیکن مالی اور ادارہ جاتی سطح پر مدد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس رویے کے باعث وہ صحافی جو خلوص نیت سے قوم کی آواز بننا چاہتے ہیں، شدید معاشی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اردو میڈیا میں خدمات انجام دینے والے بیشتر صحافیوں کو باقاعدہ تنخواہیں میسر نہیں ہوتیں۔ چند اداروں میں محدود سطح پر ڈیسک یا اینکرنگ اسٹاف کو معمولی معاوضہ دیا جاتا ہے،
جبکہ فیلڈ میں کام کرنے والے صحافی اکثر بغیر کسی مستقل آمدنی کے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔ ایسے حالات میں پیشہ ورانہ معیار کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔
سیاسی میدان میں بھی صورت حال کچھ مختلف نہیں۔ مختلف جماعتوں سے وابستہ مسلم قائدین کی ایک بڑی تعداد نہ تو اردو اخبارات کی سرپرستی کرتی ہے، نہ اشتہارات کے ذریعے انہیں سہارا دیتی ہے، اور نہ ہی میڈیا کو ایک مضبوط پلیٹ فارم بنانے میں سنجیدگی دکھاتی ہے۔ اکثر مواقع پر صحافیوں کو صرف وقتی مفادات کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، جو صحافت کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم کے مالدار افراد، صنعت کار اور مخیر حضرات محض زبانی دعوؤں تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی میدان میں آگے آئیں۔ بغیر کسی تشہیر یا احسان جتائے، اردو میڈیا کے لئے بنیادی سہولیات جیسے نیوز روم، اسٹوڈیو، جدید کیمرے، تکنیکی عملہ اور باقاعدہ تنخواہوں کا نظام قائم کریں۔ اس سے نہ صرف صحافی معاشی طور پر مستحکم ہوں گے بلکہ وہ بغیر کسی دباؤ کے پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بہتر انداز میں ادا کر سکیں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ وہ افراد جو مالی تعاون نہیں کر سکتے، انہیں چاہیے کہ مثبت رہنمائی، حوصلہ افزائی اور دعا کے ذریعے اس مشن کا حصہ بنیں۔ تنقید برائے تنقید یا حوصلہ شکنی کے بجائے تعمیری رویہ اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اگر قوم واقعی اپنی آواز کو مضبوط بنانا چاہتی ہے تو اسے اپنے صحافیوں اور میڈیا اداروں کو مضبوط کرنا ہوگا۔ کیونکہ مضبوط میڈیا ہی ایک باشعور اور باوقار معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے۔



