مضامین

رمضان ختم ہو گیا ہے، اسلام نہیں

از قلم: مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی

استاد جامعہ عربیہ توپران ضلع میدک تلنگانہ 

Mufti

رمضان المبارک اپنی تمام تر رحمتوں، برکتوں اور مغفرتوں کے ساتھ رخصت ہو گیا، مگر یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ رمضان کا ختم ہونا دین کے ختم ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کے ہر لمحے کو محیط ہے، نہ کہ صرف ایک مہینے کو۔ افسوس کہ آج بہت سے مسلمان رمضان کو عبادات کا موسم سمجھتے ہیں اور اس کے بعد دوبارہ غفلت کی زندگی میں لوٹ جاتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ کے لیے معبود ہے، اور بندگی ہمیشہ کے لیے فرض ہے۔

 

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ… لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ” (سورۃ البقرۃ: 183، تفسیر ابن کثیر، ج 1، ص 497) اس آیت میں روزوں کی فرضیت کے ساتھ اس کا مقصد واضح کر دیا گیا کہ تقویٰ پیدا ہو۔ تقویٰ کا مطلب یہ ہے کہ انسان ہر وقت اللہ کو حاضر و ناظر جانے، اس کے احکام کی پابندی کرے اور گناہوں سے بچے۔ اگر رمضان کے بعد بھی انسان کی زندگی میں تقویٰ باقی نہیں رہتا تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ رمضان کی حقیقت کو صحیح طور پر نہیں سمجھا گیا۔

 

نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: "أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ” (صحیح البخاری، حدیث: 6464، ص 1127؛ صحیح مسلم، حدیث: 783، ص 273) یعنی اللہ تعالیٰ کو وہ عمل زیادہ پسند ہے جو ہمیشہ کیا جائے چاہے وہ کم ہی کیوں نہ ہو۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں وقتی جوش و جذبہ مطلوب نہیں بلکہ مستقل مزاجی مطلوب ہے۔ رمضان میں اگر ہم نے نمازوں کی پابندی کی، قرآن کی تلاوت کی، صدقہ و خیرات کیا، تو اصل کامیابی یہ ہے کہ یہ اعمال رمضان کے بعد بھی جاری رہیں۔

 

رمضان میں جو کیفیت پیدا ہوتی ہے وہ دراصل ایک نورانی کیفیت ہوتی ہے۔ انسان گناہوں سے بچتا ہے، دل نرم ہوتا ہے، آنکھیں نم ہوتی ہیں، اور اللہ کی یاد غالب ہوتی ہے۔ لیکن جیسے ہی رمضان ختم ہوتا ہے، شیطان دوبارہ سرگرم ہو جاتا ہے اور انسان کو غفلت میں ڈال دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ” (صحیح البخاری، حدیث: 1899، ص 327) رمضان میں شیاطین قید ہوتے ہیں، مگر بعد میں وہ آزاد ہو کر انسان پر حملہ کرتے ہیں۔

 

افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ رمضان کے بعد مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد عبادات سے غافل ہو جاتی ہے۔ رمضان میں فجر کی اذان سے پہلے آنکھ کھل جاتی تھی، سحری کے لیے بیداری ہوتی تھی، اور پھر فجر کی نماز کے لیے مسجد کا رخ کیا جاتا تھا۔ باپ اپنے بچوں کو ساتھ لے کر مسجد جاتے تھے، انہیں نماز کی عادت ڈالتے تھے، قرآن کی آوازیں گھروں اور مسجدوں میں گونجتی تھیں۔ مگر جیسے ہی رمضان ختم ہوا، وہی باپ خود بھی فجر کے وقت بستر میں پڑا رہتا ہے، اور بچے بھی اس کے ساتھ سوئے رہتے ہیں۔ نہ خود اٹھنے کی فکر، نہ بچوں کو اٹھانے کی فکر۔ یہ رویہ نہایت خطرناک ہے۔

 

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ” (سنن ابی داود، حدیث: 495، ص 105) یعنی اپنے بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو۔ جب رمضان میں ہم بچوں کو مسجد لے جا سکتے ہیں، تو رمضان کے بعد کیوں نہیں؟ کیا اللہ صرف رمضان میں عبادت کا مستحق ہے؟ ہرگز نہیں۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ” (صحیح البخاری، حدیث: 5027، ص 856) یعنی تم میں بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن سے تعلق صرف رمضان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ پوری زندگی کا حصہ ہونا چاہیے۔

 

*نماز کے بارے میں سخت وعید آئی ہے*

نبی ﷺ نے فرمایا: "بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ” (صحیح مسلم، حدیث: 82، ص 58) جب فجر کی نماز ہی چھوٹ جائے تو باقی دن کی بنیاد ہی کمزور ہو جاتی ہے۔ فجر کے وقت اٹھنا ایمان کی علامت ہے، اور اس میں سستی نفاق کی علامتوں میں سے ہے۔نبی ﷺ نے فرمایا: "أَثْقَلُ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلَاةُ الْفَجْرِ وَالْعِشَاءِ” (صحیح البخاری، حدیث: 657، ص 123) یعنی منافقین پر سب سے بھاری نماز فجر اور عشاء کی ہے۔ اس لیے جو شخص فجر میں سستی کرتا ہے اسے اپنی حالت پر غور کرنا چاہیے۔

 

عبادات سے دوری کی ایک بڑی وجہ دنیا کی محبت ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "حُبُّ الدُّنْيَا رَأْسُ كُلِّ خَطِيئَةٍ” (شعب الایمان للبیہقی، حدیث: 10501، ج 7، ص 334) دنیا کی محبت انسان کو اس قدر مشغول کر دیتی ہے کہ وہ آخرت کو بھول جاتا ہے۔ آج موبائل، سوشل میڈیا، کاروبار اور فضول مصروفیات نے انسان کو ایسا جکڑ لیا ہے کہ اسے نماز کے لیے وقت نہیں ملتا، مگر دنیا کے کاموں کے لیے وقت ہی وقت ہوتا ہے۔دل کی سختی بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم” (سورۃ الزمر: 22، تفسیر ابن کثیر، ج 4، ص 54) جب دل سخت ہو جاتا ہے تو عبادت میں لذت ختم ہو جاتی ہے۔ نہ قرآن اثر کرتا ہے، نہ نصیحت فائدہ دیتی ہے۔

 

اصلاح کے لیے سب سے پہلا قدم سچی توبہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ” (سورۃ النور: 31، تفسیر ابن کثیر، ج 3، ص 283) توبہ انسان کو نئی زندگی دیتی ہے۔ اس کے بعد نماز کی پابندی ضروری ہے، کیونکہ یہی دین کی بنیاد ہے۔اپنے گھروں کا ماحول بھی دینی بنانا ضروری ہے۔ بچوں کو نماز کی عادت ڈالیں، انہیں مسجد لے جائیں، قرآن سنائیں، اور خود بھی عمل کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا” (سورۃ التحریم: 6، تفسیر ابن کثیر، ج 4، ص 392) یعنی اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔

 

روزانہ ذکر و اذکار کا اہتمام کریں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لَا يَذْكُرُ رَبَّهُ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ” (صحیح البخاری، حدیث: 6407، ص 1105) ذکر دل کو زندہ رکھتا ہے اور انسان کو گناہوں سے بچاتا ہے۔‌نفلی عبادات کو جاری رکھنا بھی ضروری ہے۔ شوال کے چھ روزے رکھنے کے بارے میں نبی ﷺ نے فرمایا: "مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْرِ” (صحیح مسلم، حدیث: 1164، ص 413) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کے بعد بھی عبادات کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ” (سورۃ الحجر: 99، تفسیر ابن کثیر، ج 2، ص 587) یعنی اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ تمہیں موت آ جائے۔ اس آیت میں صاف اعلان ہے کہ عبادت کسی خاص وقت کے ساتھ محدود نہیں بلکہ زندگی کے آخری لمحے تک جاری رہنی چاہیے۔

 

رمضان ہمیں سکھا کر گیا کہ ہم کیا بن سکتے ہیں۔ ہم راتوں کو جاگ سکتے ہیں، ہم قرآن پڑھ سکتے ہیں، ہم گناہوں سے بچ سکتے ہیں، ہم مسجد سے جڑ سکتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم وہی زندگی رمضان کے بعد بھی جاری رکھ سکتے ہیں؟ یا ہم نے رمضان کو صرف ایک وقتی جذبہ سمجھ لیا تھا؟نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيمِ” (صحیح البخاری، حدیث: 6607، ص 1140) یعنی اعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے۔ اگر رمضان کے بعد ہماری حالت خراب ہو جائے تو یہ خطرے کی علامت ہے، اور اگر بہتر ہو جائے تو یہ کامیابی کی علامت ہے۔

 

آج ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ رمضان میں جو باپ اپنے بچوں کو مسجد لے کر جاتا تھا، وہی رمضان کے بعد خود بھی فجر کے وقت سویا رہتا ہے اور بچے بھی اس کے ساتھ سوئے رہتے ہیں۔ نہ اذان کی پرواہ، نہ نماز کی فکر۔ حالانکہ یہی بچے کل امت کا مستقبل ہیں۔ اگر ہم نے انہیں ابھی سے نماز کا عادی نہ بنایا تو کل وہ دین سے دور ہو جائیں گے۔نبی ﷺ نے فرمایا: "كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ” (صحیح البخاری، حدیث: 893، ص 180) یعنی تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال ہوگا۔ باپ سے اس کے بچوں کے بارے میں سوال ہوگا، کہ اس نے انہیں دین سکھایا یا نہیں۔

 

اسی طرح ایک اور بڑی غفلت یہ ہے کہ قرآن سے تعلق ختم ہو جاتا ہے۔ رمضان میں قرآن کی آوازیں گونجتی ہیں، مگر بعد میں گھروں میں خاموشی چھا جاتی ہے۔ نہ تلاوت، نہ سننا، نہ سمجھنا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ” (سورۃ ص: 29، تفسیر طبری، ج 23، ص 140) یعنی یہ بابرکت کتاب ہم نے اس لیے نازل کی ہے تاکہ لوگ اس میں غور کریں۔اگر ہم قرآن سے دور ہو جائیں گے تو ہماری زندگیوں سے برکت ختم ہو جائے گی، ہمارے فیصلے غلط ہوں گے، اور ہم گمراہی کی طرف چلے جائیں گے۔

 

رمضان کے بعد ایک اور خرابی یہ آتی ہے کہ انسان دوبارہ گناہوں کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ نگاہوں کی حفاظت ختم، زبان پر قابو ختم، دل میں خوف ختم۔ حالانکہ رمضان ہمیں سکھا کر گیا تھا کہ ہم گناہوں سے بچ سکتے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ” (صحیح البخاری، حدیث: 1903، ص 329) یعنی جو شخص جھوٹ اور برے کام نہیں چھوڑتا، اللہ کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ اصل مقصد گناہوں کو چھوڑنا تھا، نہ کہ صرف بھوکا رہنا۔

 

اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایک مضبوط ارادہ کریں۔ سب سے پہلے اپنی نماز کو درست کریں، خاص طور پر فجر کی نماز۔ فجر کے لیے جلد سونے کی عادت ڈالیں، موبائل کا استعمال کم کریں، اور الارم کے ساتھ نیت بھی مضبوط کریں۔ اپنے بچوں کو بھی ساتھ اٹھائیں، چاہے شروع میں مشکل ہو، مگر آہستہ آہستہ عادت بن جائے گی۔قرآن کے ساتھ تعلق قائم کریں، چاہے روزانہ ایک صفحہ ہی کیوں نہ ہو، یا کم از کم سننے کا معمول بنا لیں۔ ذکر و اذکار کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، کیونکہ یہی دل کو زندہ رکھتے ہیں۔اپنی صحبت کو بھی درست کریں۔ نیک لوگوں کے ساتھ رہیں، مسجد کے ماحول سے جڑے رہیں، اور ایسے دوستوں سے بچیں جو دین سے دور کرتے ہیں۔ امام ابن القیمؒ فرماتے ہیں: "المرء على دین خلیله” (مدارج السالکین، ج 2، ص 295) یعنی انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے۔

 

رمضان کے بعد شوال کے روزے رکھنا بھی بہت اہم ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْرِ” (صحیح مسلم، حدیث: 1164، ص 413) یہ عمل رمضان کی برکتوں کو جاری رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔اپنا روزانہ محاسبہ کریں۔ ہر رات سوچیں کہ آج کیا کیا؟ نمازیں کیسی پڑھیں؟ کوئی گناہ تو نہیں کیا؟ یہ محاسبہ انسان کو سیدھا رکھتا ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ نیکی کے بعد نیکی کی توفیق ملنا قبولیت کی علامت ہے۔ اگر رمضان کے بعد بھی انسان کی زندگی میں بہتری آ جائے، نماز کی پابندی ہو جائے، قرآن سے تعلق قائم ہو جائے، تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا رمضان قبول ہو گیا۔

 

حقیقت یہ ہے کہ رمضان ایک تربیتی کیمپ تھا، اور اب اصل امتحان شروع ہوا ہے۔ جو شخص رمضان کے بعد بھی اپنی عبادات کو جاری رکھتا ہے، وہی کامیاب ہے۔ ہمیں اپنے آپ کو بدلنا ہوگا، اپنی عادات کو درست کرنا ہوگا، اور اپنے گھروں کو دینی ماحول دینا ہوگا۔آخر میں یہی کہنا ہے کہ زندگی بہت مختصر ہے، موت کسی بھی وقت آ سکتی ہے، اور ہمیں اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ اس لیے ہمیں غفلت چھوڑنی ہوگی اور عمل کی طرف آنا ہوگا۔ رمضان نے ہمیں جگایا تھا، اب ہمیں سوتے نہیں رہنا بلکہ بیدار رہنا ہے۔

 

اللہ تعالیٰ ہمیں استقامت عطا فرمائے، ہمیں نماز، قرآن اور ذکر کا پابند بنائے، اور ہمیں رمضان کی برکتوں کو سارا سال قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

 

متعلقہ خبریں

Back to top button