جی او 317سے متاثرہ ملازمین اوراساتذہ کو انصاف کی فراہمی کا مطالبہ ون ٹائم ریلیف کے تحت آبائی مقامات پر پوسٹنگ دی جائے۔کے کویتا کا چیف منسٹر ریونت ریڈی کو کھلا مکتوب

جی او 317سے متاثرہ ملازمین اوراساتذہ کو انصاف کی فراہمی کا مطالبہ
ون ٹائم ریلیف کے تحت آبائی مقامات پر پوسٹنگ دی جائے۔کے کویتا کا چیف منسٹر ریونت ریڈی کو کھلا مکتوب
صدرتلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے جی او317سے متاثرہ سرکاری ملازمین اور اساتذہ کو فی الفو رانصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیاہے۔انہوںنے ون ٹائم ریلیف کے تحت سرکاری ملازمین کو ان کے آبائی مقامات پر پوسٹنگ دینے کی اپیل کی اور اس خصوص میں چیف منسٹر ریونت ریڈی کو آج ایک کھلا مکتوب تحریر کیا۔کویتا نے یاددلایاکہ ریاست میں اضلاع کی تنظیم جدید کے بعد مختلف متحدہ اضلاع اور زونس میں برسرکار سرکاری ملازمین اور اساتذہ کو سینیارٹی کی بنیاد پر نئے اضلاع اور زونس میں تعینات کیاگیاتھا۔اس عمل کے تحت کم سرویس کے حامل ملازمین اور اساتذہ کو بھی مختلف اضلاع میں پوسٹنگ دی گئی تھی
۔اس سلسلہ میں 6ڈسمبر 2021کو جی او نمبر317جاری کیاگیا۔کویتا نے کہاکہ اس جی او میں مقامات کے تعین سے متعلق واضح رہنمائی نہ ہونے کے باعث ہزاروں ملازمین اور اساتذہ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔صدرتلنگانہ جاگروتی نے یاددلایاکہ ماضی میں بھی اس مسئلہ پرتوجہ مبذول کروائی گئی تھی۔مگر آج تک اس مسئلہ کا موثر حل سامنے نہیں آیا۔کویتا نے کانگریس حکومت پر شدید تنقید کی اور کہاکہ سال 2023میں اسمبلی انتخابات کے موقع پر جی او 317پر نظر ثانی اور انصاف کی فراہمی کا وعدہ کیاگیاتھا تاہم اس وعدہ کو آج تک پورا نہیں کیاگیاہے۔انہوںنے کہاکہ اس مسئلہ کی یکسوئی کےلئے کابینی ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی تاہم کمیٹی کی رپورٹ کو تاحال منظر عام پر نہیں لایاگیا۔جس کی وجہ سے متاثرین کی صحیح تعداد بھی واضح نہیں ہوسکی۔انہوںنے مطالبہ کیاکہ فی الفور واضح احکامات کی اجرائی کے ذریعہ جی او 317کے متاثرین کے مسائل کو حل کیاجائے
۔کویتا نے کہاکہ مقامات کے تعین سے متعلق قواعد میں تبدیلی کے باعث تلنگانہ کے طلبہ کے ساتھ بھی ناانصافی ہورہی ہے۔انہوںنے کہاکہ آٹھویں جماعت سے انٹر میڈیٹ تک چار سال تلنگانہ میں حصول تعلیم پر ہی مقامی قرار دینے کے اصول کے باعث ریاست کے طلبہ جو اعلیٰ تعلیم کےلئے دیگر ریاستوں کا رخ کرتے ہیں ۔غیر مقامی قرار دیئے جارہے ہیں۔جبکہ دیگر علاقوں سے آکر یہاں تعلیم حاصل کرنے والے افراد مقامی بن کر مواقع حاصل کررہے ہیں۔
کویتا نے مطالبہ کیاکہ ماضی کے اصول کے مطابق پہلی جماعت سے دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو مقامی تسلیم کیاجائے اور اس سلسلہ میں احکامات جاری کئے جائیں۔انہوںنے ایس سی ‘ایس ٹی ویلفیر ہاسٹلس اور کستوربا گاندھی بالیکا ودیالےہ کی طالبات کو سینٹری پیاڈس جیسی بنیادی سہولت فراہم نہ کئے جانے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔انہوںنے کہاکہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں طلبہ کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے معاملہ میں ناکام ثابت ہورہی ہیں۔انہوںنے مطالبہ کیاکہ پی ایم شری اسکیم کے تحت دیگر اسکولوں کی طرح مذکورہ بالا اداروں میں زیر تعلیم طالبات کو بھی مفت سینٹری پیاڈس فراہم کئے جائیں اورہر ماہ طلبہ کو کاسمیٹک اخراجات جاری کئے جائیں
۔کویتا نے پرزورانداز میںکہاکہ عوامی مسائل کی یکسوئی میں تاخیر ناقابل قبول ہے ۔حکومت متاثرین کو انصاف کی فراہمی کےلئے فی الفور اقدامات روبہ عمل لائے۔



