سوشل میڈیا پر دینی کلمات کا غلط استعمال: ایک فکر انگیز جائزہ

تحریر: صحافی خضر احمد یافعی، عادل آبادی
عادل آباد۔30/مارچ (اردو لیکس)موجودہ دور میں سوشل میڈیا نے جہاں اظہارِ رائے کو آسان بنایا ہے، وہیں اس نے معاشرتی رویّوں میں بھی نمایاں تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز پر عوامی خدمات، سیاسی سرگرمیوں اور سماجی پروگراموں کی تشہیر ایک عام رجحان بن چکی ہے۔ یہ عمل بظاہر مثبت دکھائی دیتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے عوامی نمائندے اپنی کارکردگی عوام تک پہنچاتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ بعض ایسے پہلو بھی سامنے آئے ہیں جو غور و فکر کے متقاضی ہیں۔
آج کل یہ دیکھا جا رہا ہے کہ بعض افراد، جو خود کو سیاسی یا سماجی قائد کے طور پر پیش کرتے ہیں، اپنی معمولی نوعیت کی عوامی خدمات یا پروگراموں کو سوشل میڈیا پر نمایاں کرنے کے لئے خاص انداز اپناتے ہیں۔ ان ویڈیوز یا ریلس میں اسلامی نعتوں، دینی ترانوں یا حضور اکرم ﷺ کی شان میں پڑھے گئے کلمات کو بطورِ پس منظر استعمال کیا جاتا ہے، حالانکہ ان پروگراموں کا دین سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس طرزِ عمل نے ایک اہم دینی و اخلاقی سوال کو جنم دیا ہے کہ آیا یہ طریقہ اسلامی نقطۂ نظر سے درست ہے یا نہیں۔
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں دیکھا جائے تو دینِ اسلام اخلاصِ نیت، عاجزی اور ریاکاری سے اجتناب کی تلقین کرتا ہے۔ کسی بھی نیک عمل کی بنیاد نیت پر ہوتی ہے، اور اگر نیک کلمات یا دینی اشعار کو محض اپنی تشہیر یا ذاتی وقار بڑھانے کے لئے استعمال کیا جائے تو اس میں اخلاص کا عنصر متاثر ہو سکتا ہے۔ علمائے کرام کے مطابق دینی شعائر اور مقدس کلمات کا استعمال انتہائی احترام اور احتیاط کا متقاضی ہے، اور انہیں دنیاوی مفادات یا غیر متعلقہ سرگرمیوں کے ساتھ جوڑنا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اسلام میں عوامی خدمت ایک مستحسن عمل ہے، اور اگر کوئی شخص اخلاص کے ساتھ خدمت انجام دیتا ہے تو وہ یقیناً قابلِ تحسین ہے۔ تاہم، اس خدمت کو نمایاں کرنے کے لئے ایسے ذرائع اختیار کرنا جو دینی تقدس کے منافی ہوں، ایک قابلِ اصلاح پہلو ہے۔ اس سلسلے میں اعتدال اور شعور کی ضرورت ہے تاکہ دین اور دنیا کے معاملات میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔
مزید برآں، سوشل میڈیا کے اس دور میں یہ ذمہ داری صرف عوامی نمائندوں تک محدود نہیں بلکہ عام صارفین پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسی چیزوں کی حوصلہ افزائی نہ کریں جو دینی اقدار کے خلاف ہوں۔ اگر معاشرہ اجتماعی طور پر اس حساسیت کو سمجھ لے تو اس طرح کے رجحانات میں خود بخود کمی آ سکتی ہے۔
آخر میں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ تنقید کسی فردِ واحد یا گروہ کو نشانہ بنانے کے لئے نہیں بلکہ ایک عمومی رجحان کی نشاندہی ہے۔ مقصد صرف یہ ہے کہ ہم بحیثیتِ مسلمان اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں، آیا وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے یا نہیں۔ اگر کہیں اصلاح کی گنجائش ہو تو اسے قبول کرتے ہوئے مثبت تبدیلی کی جانب قدم بڑھانا ہی حقیقی کامیابی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص، درست نیت اور دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین



