جنرل نیوز

پروفیسر سیما صغیر کی یاد میں تعزیتی نشست کا انعقاد – علمی و ادبی خدمات کو خراجِ عقیدت

حیدرآباد ۔ (پریس نوٹ) “حرف زار لٹریری سوسائٹی” اور “دیارِ ادب انڈیا علیگڈھ” کے اشتراک سے خیابان ادب علیگڑھ میں پروفیسر سیما صغیر کی چوتھی برسی کے موقع پر ایک تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ ڈاکٹر مجیب شہزر کے جاری صحافتی بیان کے مطابق نشست کی صدارت معروف فکشن نگار پروفیسر طارق چھتاری نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر مجیب شہزار نے انجام دیے۔

 

نشست میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے نامور اساتذہ اور دانشوروں نے مرحومہ کی تعلیمی، تحقیقی اور انسانی خدمات پر روشنی ڈالی۔پروفیسر طارق چھتاری نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ پروفیسر سیما صغیر ایک بلند پایہ استاد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انتہائی مخلص اور وضع دار خاتون تھیں۔ ان کی علمی بصیرت اور ادب سے وابستگی آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔ ان کی کمی علمی حلقوں میں ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔

 

پروفیسر صغیر افراہیم نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ سیما صغیر صاحبہ نے اپنی تحریروں اور تدریس کے ذریعے علم و ادب کی جو خدمت کی ہے، وہ ناقابلِ فراموش ہے۔ وہ اردو زبان و ادب کے تئیں ہمیشہ فکر مند رہتی تھیں اور ان کا کام ان کے علمی وقار کا ثبوت ہے۔

 

پروفیسر عبدالعلیم نے کہا کہ مرحومہ کا اخلاق اور ان کی علمی لگن مثالی تھی۔ انہوں نے نہ صرف یونیورسٹی کی سطح پر اپنی پہچان بنائی بلکہ سماجی اور ادبی محاذ پر بھی ہمیشہ سرگرم رہیں۔ ان کی شخصیت میں متانت اور علمیت کا حسین امتزاج تھا۔

 

ممتاز صحافی پریم کمار نے خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر سیما صغیر ایک ایسی روشن دماغ شخصیت تھیں جنہوں نے صحافتی اور ادبی حلقوں میں بھی اپنا اثر چھوڑا۔ وہ رواداری اور گنگا جمنی تہذیب کی علمبردار تھیں۔

 

ڈاکٹر اویس جمال شمسی نے کہا کہ پروفیسر صاحبہ کی ادبی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ان کی یاد میں منعقدہ یہ نشست اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ آج بھی اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

 

نشست کے آخر میں مولانا مفتی رخسار احمد ازہری نے مرحومہ کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے رقت آمیز دعا فرمائی۔اس موقع پر ڈاکٹر راشد الاسلام راشد، پروفیسر وسیع بیگ بلال، ڈاکٹر کمال احمد، سید بصیر الحسن وفا نقوی

 

مینیجر نعیم صاحب، ایم خورشید خان، زبیر احمد، ماسٹر ریاض الحسن، ثنا فاطمہ، محمد افضل بیگ ،محمد فراز مجیب اور شہر کے دیگر معززین و دانشور بڑی تعداد میں موجود تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button