تلنگانہ

کانگریس حکومت پر بے روزگار نوجوانوں کو ملازمتوں سے محروم رکھنے کی سازش کا الزام  – راشن کارڈس کی منسوخی کی کوششیں بھی انتہائی ظالمانہ: کے کویتا

کانگریس حکومت پر بے روزگار نوجوانوں کو ملازمتوں سے محروم رکھنے کی سازش کا الزام

راشن کارڈس کی منسوخی کی کوششیں بھی انتہائی ظالمانہ: کے کویتا

 

صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے ریاستی حکومت پر شدید تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت مختلف جی اوز کے ذریعہ بے روزگار نوجوانوں کو ملازمتوں سے محروم رکھنے کی سازش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر نوٹیفکیشن کے ساتھ کسی نہ کسی جی او کو رکاوٹ کے طور پر کھڑا کیا جا رہا ہے، جس سے لاکھوں نوجوان متاثر ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈگری لکچررس کی بھرتیوں کے لئے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں جی او نمبر 4 کو اس انداز میں نافذ کیا گیا ہے کہ اس سے مخصوص افراد کو فائدہ پہنچایا جا سکے

 

۔انہوں نے الزام عائدکیا کہ انٹرویو کے لئے 10 مارکس اور پی ایچ ڈی کے لئے 25 مارکس ویٹیج دینا بھی اسی سازش کا حصہ ہے، جبکہ طویل عرصے سے پی ایچ ڈی میں داخلے ہی نہیں ہوئے۔کویتا نے کہا کہ جس طرح گروپ-1 میں اپنے من پسند افراد کو فائدہ پہنچانے کے لئے خصوصی امتحانی مراکز قائم کئے گئے تھے اسی طرز پر اب ڈگری لکچررس کی بھرتیوں میں بھی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2011 کے بعد پہلی بار 15 سال کے وقفے کے بعد ڈگری لکچررس کے تقرر کے خصوص میں نوٹیفکیشن جاری کیا گیا مگر اس میں بھی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں۔

 

اسی طرح نرسنگ امتحان کے نتائج بھی 9 ماہ گزرنے کے باوجود جاری نہیں کئے گئے۔کویتا نے مختلف شعبوں میں رکاوٹ بننے والے جی اوز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ڈی ایس سی کے لئے جی او 104، گروپس کے لئے جی او 29، پولیس بھرتیوں کے لئے جی او 46، گروکل اسکولوں کے لئے جی او 81 اور خواتین کو ریزرویشن سے محروم رکھنے والا جی او 4 جیسے احکامات بےروزگاروں کے مستقبل سے کھلواڑ ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان تمام جی اوز کا فوری جائزہ لے کر انہیں منسوخ کیا جائے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو ریاست بھر میں بے روزگار نوجوانوں کو منظم کیا جائے گا اوربڑے پیمانے پر تحریک چلائی جائے گی

 

اور نوٹیفکیشن جاری ہونے تک جدوجہد جاری رہے گی۔کویتا نے کہا کہ کانگریس نے اقتدار میں آنے سے قبل 2 لاکھ ملازمتیں دینے کا وعدہ کیا تھا اور اس وعدے کو پورا کرنے کے لئے راہول گاندھی سے بھی اشوک نگر میں اعلان کروایا گیا، مگر اب تک اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے 30 سے 40 لاکھ خاندانوں کے نوجوان مسابقتی امتحانات کی تیاری کر رہے ہیں، مگر حکومت ان کے مستقبل سے کھیل رہی ہے۔انہوں نے وزیر اعلیٰ کے بیان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ کہتے ہیں کہ وہ خود جدوجہد کر کے اوپر آئے ہیں تو حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے بے روزگار نوجوانوں کے سروں پر قدم رکھ کر اقتدار حاصل کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے نہ صرف بے روزگاروں کو نظر انداز کیا بلکہ دیگر فلاحی اسکیموں کو بھی متاثر کیا ہے۔

 

زچگی امداد اور کٹس کی فراہمی بند کر دی گئی ہے، آنگن واڑی کارکنوں کو تنخواہیں وقت پر نہیں دی جا رہی ہیں اور فیس ری ایمبرسمنٹ کے لئے 7 ہزار کروڑ روپئے واجب الادا ہونے کے باوجود جاری نہیں کئے گئے، جبکہ موسیٰ پراجیکٹ کے لئے اتنی ہی رقم مختص کی گئی ہے۔کویتا نے کہا کہ بے روزگاروں کے مسائل پر حکومت انتہائی غیر سنجیدہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہے جبکہ وزراء اور عوامی نمائندے اس صورتحال میں بھی غیر سنجیدہ طرز عمل اپنا رہے ہیں۔

 

انہوں نے راشن کارڈس کے مسئلہ پر بھی سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے پہلے سابقہ حکومت پر راشن کارڈس نہ دینے کا الزام عائد کیا مگر اب خود لاکھوں کارڈس منسوخ کرنے کی مہم چلا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت 5 لاکھ نئے کارڈس دینے کے بجائے 10 سے 15 لاکھ کارڈس ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے

 

۔انہوں نے کہا کہ معمولی نجی ملازمت کرنے یا انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرنے کو جواز بنا کر غریبوں کے راشن کارڈز منسوخ کئے جا رہے ہیں، جو انتہائی ظالمانہ اقدام ہے۔کویتا نے حکومت کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ غریبوں اور چھوٹے ملازمین کے مفاد میں جاری کردہ راشن کارڈس کے معاملے میں اس طرح کے غیر انسانی اقدامات برداشت نہیں کئے جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button