انٹر نیشنل

ایران کی فوجی صلاحیت ختم ہوجانے ٹرمپ کے دعوے کے بعد خطے میں قیامت خیز کشیدگی: ایران کے میزائلوں سے اسرائیل میں دھماکے، خلیج میں سائرن بج اٹھے

ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں ایران نے اسرائیل کی جانب مزید میزائل داغنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن نے ایرانی فوجی صلاحیتوں کو بڑی حد تک تباہ کر دیا ہے اور جنگی مقاصد کے قریب پہنچ گیا ہے۔ تاہم تہران نے ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے کسی جنگ بندی کی درخواست نہیں کی۔

 

دوسری جانب اسرائیل کے شمالی علاقے گلیلی میں راکٹ حملوں کے بعد دھوئیں کے بادل دیکھے گئے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق لبنان کی جانب سے داغے گئے 30 سے زائد راکٹ چند منٹوں میں مختلف علاقوں میں گرے، جس کے بعد علاقے میں سیکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔

 

ایران کی کمانڈ “خاتم الانبیاء” نے امریکہ اور اسرائیل کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کی عسکری صلاحیتوں کو مکمل طور پر سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے اسٹریٹجک ہتھیار، میزائل سسٹم اور دفاعی صلاحیتیں اب بھی محفوظ اور فعال ہیں، اور مزید “تباہ کن کارروائیاں” جاری رہیں گی۔ ادارے نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک دشمن “حتمی اور فیصلہ کن شکست” تسلیم نہیں کر لیتا۔

 

خطے میں کشیدگی صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں رہی، بلکہ خلیجی ممالک بھی اس کے اثرات محسوس کر رہے ہیں۔ دبئی اور بحرین میں رات بھر سائرن بجتے رہے، جبکہ سعودی عرب کی وزارت دفاع کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں میں متعدد ڈرونز اور ایک میزائل کو ناکارہ بنایا گیا ہے۔

 

کویت میں بھی صورتحال تشویشناک ہے، جہاں بین الاقوامی ایئرپورٹ کے قریب دھماکے اور آگ لگنے کے واقعات کے بعد احتیاطی اقدامات کے تحت بعض ادارے عارضی طور پر بند کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق شہری انفراسٹرکچر کو ممکنہ خطرات کے پیش نظر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

 

مجموعی طور پر خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ عام شہری فوری طور پر کشیدگی میں کمی اور جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button