انٹر نیشنل

ایران امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرے ورنہ اسے پتھر کے زمانے میں واپس دھکیل دیا جائے گا۔ ٹرمپ کی دھمکی

نئی دہلی: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے بارے میں ایک اہم بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دو سے تین ہفتوں میں ایران پر شدید حملے کیے جائیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی اہم قیادت ختم ہو چکی ہے

 

اور اس کی بحریہ اور فضائیہ کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ وہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرے ورنہ اسے پتھر کے زمانے میں واپس دھکیل دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ جلد ختم ہونے والی نہیں ہے اور "آپریشن ایپک فیوری” جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اپنے تمام طے شدہ اہداف حاصل کرنے کی

 

سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق اس جنگ میں ایران کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے اور اس کی فوجی صلاحیتیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی اہم قیادت کو ہٹا دیا گیا ہے۔ٹرمپ نے دوبارہ زور دیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے اب تک

 

ایران کے تیل کو نشانہ نہیں بنایا لیکن ضرورت پڑنے پر ایسا بھی کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق "آپریشن ایپک فیوری” امریکہ کی سلامتی کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ انہوں نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ امریکہ کو ختم کرنا چاہتا ہے۔اس موقع پر ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنے اہداف حاصل کر چکا ہے

 

اور یہ جلد ہی اختتام پذیر ہوگی۔ جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ عارضی ہے۔توانائی کی ترسیل کے لیے اہم آبنائے ہرمز کے بارے میں بھی ٹرمپ نے اہم تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس آبنائے سے آنے والے تیل پر انحصار نہیں کرتا اور مستقبل میں بھی اس کی ضرورت نہیں ہوگی۔

 

انہوں نے کہا کہ جو ممالک اس پر انحصار کرتے ہیں وہی ہمت کریں اور اس کی حفاظت کریں۔ اس موقع پر انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ایران کے جوابی حملوں کا سامنا کرنے والے خلیجی ممالک کی امریکہ حمایت کرے گا اور اپنے اتحادی ممالک کو کسی بھی نقصان سے بچائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button