سعودی عرب دنیا کے لیے ایک ماڈل – مملکت خواتین کو “اے آئی لیڈر” بنا رہا ہے

ریاض۔ کے این واصف
وژن 2030 کے اہداف کے تحت سعودی عرب ڈیجیٹل دور میں شمولیت کے لیے ایک نئے عالمی معیار کی قیادت کر رہا ہے۔حکومتی ہدایات اور نجی شعبے کے انیشیٹیو کے ذریعے، مملکت خواتین کو مصنوعی ذہانت (AI)کے دور میں فرنٹ پر کھڑا ہونے کے لیے تیار کر رہی ہے۔
انگریزی روز نامہ “عرب نیوز” سے گفتگو میں “ہیومین اے آئی ریسرچ” کی نائب صدر عریب العویشق نے کہا کہ سعودی عرب اب مصنوعی ذہانت کی تربیت میں خواتین اور مردوں کے تناسب کے اعتبار سے دنیا میں سبقت رکھتا ہے جو مملکت کی اس شعبے میں خواتین کو آگے بڑھانے کے عزم کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں کہ یہ رفتار صرف تربیت تک محدود نہیں رہے گی بلکہ جدت کے دوسرے شعبوں تک بھی پھیلے گی۔ یہی طریقہ سعودی عرب کو منفرد بناتا ہے۔
عریب العویشق جو اس شعبے میں 20 سال سے زیادہ تجربہ رکھتی ہیں اور اولین عربی اے آئی ماڈلز تیار کر رہی ہیں، نے زور دیا کہ سعودی عرب کی اس شعبے میں ترقی راتوں رات حاصل نہیں ہوئ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعلیم میں دہائیوں کی مسلسل سرمایہ کاری اور 2016 کے اقتصادی “مو” کا نتیجہ ہے۔انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کہ ملکی سطح پر شہزادی نورہ بنت عبدالرحمن یونیورسٹی جو دنیا کی سب سے بڑی خواتین کی یونیورسٹی ہے، دہائیوں سے ایس ٹی ای ایم، طب اور انجینیئرنگ میں خواتین کو اعلیٰ تعلیم دے رہی ہیں۔
عریب العویشق نے بتایا کہ خواتین کے ورک فورس میں شامل ہونے کا اصل موڑ 2016 میں وژن 2030 کے ساتھ آیا۔ عریب العویشق نے کہا کہ سعودی عرب گلوبل اے آئی لینڈ سکیپ کے منظرنامے میں اپنی موجودگی بڑھا رہا ہے اور پہلا عرب ملک بن گیا ہے جو گلوبل پارٹنرشپ آن اے آئی میں شامل ہوا اور ریاض میں یونیسکو کے تحت انٹرنیشنل سینٹر فار آرٹیفیشل انٹیلی جنس ریسرچ اینڈ ایتھکس کی میزبانی کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں خواتین کی تعداد بہت کم ہے۔ یونیسکو اور یو این ویمن کے مطابق اس شعبے میں ہر پانچ میں سے ایک پیشہ ور خاتون ہے، یعنی تقریباً 22 فیصد۔



