جنرل نیوز

"گنڈی پیٹ کا پانی جو بھی ایک بار پی لے وہ حیدرآباد کا ہو کر رہ جاتا ہے ” 

عذراسلطانہ کے شعری مجموعے "بچھڑے مسافر" کی رسم اجرا-پروفیسر ایس اے شکور اور جناب انوار الہدی کا خطاب

حیدرآباد 2 اپریل( اردو لیکس) پروفیسر ایس اےشکور ڈائریکٹر دائرۃ المعارف عثمانیہ یونیورسٹی نے کہا کہ حیدرآباد دکن اردو کا ایک عظیم مرکز ہے جس زبان کا رسم الخط موجود ہو وہ زبان کبھی بھی ختم نہیں ہو سکتی حیدرآباد دکن میں اردو اپنی آب و تاب اور شان و شوکت کے ساتھ قائم ہے

 

اور ان شاءاللہ قائم رہے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے محترمہ عذرا سلطانہ کی تصنیف ،”بچھڑے مسافر” کی "لامکاں” بنجارہ ہلز حیدرآباد میں رسم اجرا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا پروفیسر ایس اے شکور نے محترمہ عذررا سلطانہ کے دہلی سے حیدرآباد منتقل ہو جانے اور یہاں پر اپنی ادبی سرگرمیاں جاری رکھنے پر خوشگوار تبصرہ اور روایتوں کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ

 

"ایک بار جو گنڈی پیٹ(عثمان ساگر) کا پانی پی لیتا ہے وہ حیدرآباد کا ہو کر رہ جاتا ہے” اس کے علاوہ ایک اوربات یہ بھی مشہور ہے کہ "جو کوئی حیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد کے صحن میں موجود پتھر کے تخت پر ایک بار بیٹھ جاتا ہے وہ بھی حیدرآباد کا ہو کر رہ جاتا ہے یا پھر بار بار حیدرآباد آتا رہتاہے ،” انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کی سرزمین اور پانی میں یہ خاصیت ہے کہ وہ ہر ایک کو اپنے میں سمو لیتے ہیں

 

انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں قومی اردو یونیورسٹی ہے، سیٹلائٹ ہے، اردود کےچینلس ہیں، اردو کی محفلیں ہر روز ہوتی ہیں ،اردو کی سرگرمیاں بہت زیادہ دکھائی دیتی ہیں اور حیدرآباد دکن کےاہل اردو دنیا بھر میں جہاں بھی ہیں وہ اپنے اپنے مقام پر اردو کی شمع جلا رہے ہیں جو بہت خوشی کی بات ہے انہوں نے محترمہ عذرا سلطانہ کے شعری مجموعے” بچھڑے مسافر” کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہ شعری مجموعہ اردو شعری دنیا میں ایک نیا اضافہ ہے عذرا سلطانہ نے بڑی ہی عرق ریزی کے ساتھ اس مجموعے کو ترتیب دیا ہے

 

جس کے لیے وہ قابل مبارکباد ہیں انہوں نے تمام اردو والوں کی طرف سے عذراسلطانہ کو دلی مبارکباد بھی دی پروفیسر ایس اے شکور نے اس موقع پر موجود جناب انوار الہدی کی اردو دوستی اور اردو والوں کی حوصلہ افزائی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہا کہ جناب انوار الہدی صاحب اردو ادب کی محفلوں سے دلچسپی لیتے ہیں جس سے اردو والوں کو حوصلہ ملتا ہے یہ بات اردو والوں کے لیے ایک خوش آئند بات ہے اس سے اردو بولنے والوں اور اردو جاننے والوں کی ہمت افزائی ہو رہی ہے انہوں نے محترمہ عذرا سلطانہ کی دختر کی جانب سے بھی اظہار خیال پر

 

اظہار خوشنودی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ماں کی کتاب پر اپنے الفاظ میں اظہار کرنا اور ماں کی ادبی دلچسپیوں سے اپنے اپ کو وابستہ کرنا یہ بہت بڑی مسرت کی بات ہے جناب انوار الہدی سابق آئی پی ایس و ڈائریکٹر جنرل پولیس آندھراپردیش (متحدہ) نے کہا کہ شعر و شاعری اظہار خیال کا ایک موثر ذریعہ ہے انہوں نے کہا کہ شعر کہنایا مضمون نگاری بڑا ہی مشکل کام ہے اور جو لوگ یہ کام کر رہے ہیں اور قابل ستائش ہیں محترمہ عذرا سلطانہ کو ان کی تصنیف "بچھڑے مسافر” پر مبارک باد دیتے ہوئے اور ان کے دہلی سے حیدرآباد منتقل ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے

 

جناب انوار الہدی نے کہا کہ نواب میر عثمان علی خان کے زمانے میں بھی کافی لوگ حیدرآباد آئے میر انیس اور داغ دہلوی, امیر مینائی بھی حیدرآباد آئے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے علامہ اقبال بھی حیدرآباد آئے تھے انہوں نے اردو والوں کو مشورہ دیا کہ وہ سول سرویسیس امتحانات میں جوابات اردو میں تحریر کریں جس کی کہ سہولت رکھی گئی ہے ممتا زسماجی کارکن وادیبہ محترمہ رفیعہ نوشین نے بڑی عمدگی کے ساتھ کاروائی چلائی اس موقع پر مہمان خصوصی جناب وسیم الرحمن آئی آرایس کمشنر انکم ٹیکس تلنگانہ،مولاناڈاکٹر محمد محامدہلال اعظمی، ڈاکٹر عبدالقدوس اسسٹنٹ پروفیسر گورنمنٹ ڈگری کالج فار ویمن حسینی علم، ڈاکٹر مختار احمد فردین نے بھی مخاطب کیا اور عذراسلطانہ کو ان کی تصنیف پر دلی مبارکباد پیش کی ڈاکٹر شریف انصاری، ڈاکٹر ایمن محمد، ثنا شریف اور اریب عبداللہ نے انتظامات میں حصہ لیا

 

ڈاکٹرعذرا سلطانہ نے اپنی جوابی تقریر میں تمام مقررین سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ ان کی لکھی گئی کتاب "بچھڑے مسافر” کو سب لوگ پڑھیں انہوں نے اس بات کی بھی خواہش کی کہ اہل اردو اپنے آپ کو اردو کی محفلوں سے زیادہ سے زیادہ جوڑیں اس تقریب میں ممتاز سینیئر صحافی جناب کے این واصف، ممتاز و معروف مزاحیہ و سنجیدہ شاعر جناب لطیف الدین لطیف، جناب نجیب احمد نجیب ،شکیل حیدر کانپوری ،جناب خادم رسول عینی، اردو ادب نواز شخصیت محترمہ رحیم النساء صاحبہ

 

ڈاکٹر ثمینہ بیگم،قدسیہ تبسم ایڈوکیٹ، ڈاکٹر فہمیدہ بیگم ,محترمہ مجیب النساء( ایم ایچ کوچنگ سنٹر قاضی پورہ ) جناب محمد حسام الدین ریاض کے علاوہ دیگر معززین شہر ومحبان اردو موجود تھے محترمہ شبینہ فرشوری نے محترمہ عذرا سلطانہ کی گل پوشی کی محترمہ رفیعہ نوشین نے شال پوشی کی

متعلقہ خبریں

Back to top button