اسپشل اسٹوری

مغربی ریلوے اسٹیشنوں سے اے ایچ وہیلر کے بک اسٹالز کا خاتمہ — 147 سالہ روایت کا اختتام

ممبئی:2،اپریل / انڈین ریلوے کی تاریخ کا ایک روشن اور یادگار باب اب اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ویسٹرن ریلوے نے اپنے نیٹ ورک کے تمام اہم اسٹیشنوں سے معروف اور تاریخی اے ایچ وہیلر کے بک اسٹالز کو مرحلہ وار ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد ایک صدی سے زائد پر محیط علمی و ثقافتی روایت ماضی کا حصہ بن جائے گی۔

 

ممبئی کے مصروف ترین اسٹیشنوں جیسے چرچ گیٹ، اندھیری، بوریولی اور دیگر مقامات پر دہائیوں سے قائم یہ بک اسٹالز نہ صرف مسافروں کی علمی ضرورت پوری کرتے رہے، بلکہ سفر کے ایک لازمی جزو کے طور پر بھی پہچانے جاتے تھے۔

 

ریلوے حکام کے مطابق یہ فیصلہ نئی "کثیر المقاصد اسٹال پالیسی” کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد اسٹیشنوں پر دستیاب جگہ کا بہتر استعمال اور مسافروں کو ایک ہی مقام پر مختلف سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اس پالیسی کے تحت اب ایسے جدید اسٹالز قائم کیے جائیں گے جہاں کتابوں کے ساتھ ساتھ ادویات، کھانے پینے کی اشیاء، موبائل ایکسسریز اور دیگر ضروری سامان بھی دستیاب ہوگا۔ ریلوے انتظامیہ کا ماننا ہے کہ اس تبدیلی سے نہ صرف مسافروں کو سہولت ملے گی بلکہ ریونیو میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

 

اے ایچ وہیلر کا آغاز 1877ء میں الہ آباد ،موجودہ پریاگ راج، سے ہوا تھا۔ یہ ادارہ دراصل ایک برطانوی کمپنی کے طور پر قائم ہوا اور جلد ہی ہندوستانی ریلوے اسٹیشنوں پر کتابوں اور اخبارات کی فروخت کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اے ایچ وہیلر نہ صرف ایک تجارتی ادارہ رہا بلکہ ایک ثقافتی علامت کے طور پر ابھرا، جس نے ہندوستان میں مطالعہ کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔

 

یہ اسٹالز مسافروں کے لیے صرف خریداری کی جگہ نہیں تھے بلکہ ایک ایسا گوشہ تھے جہاں سے لوگ تازہ خبریں، ادبی رسائل، ناول اور تعلیمی کتب حاصل کرتے تھے۔ سفر کے دوران ایک اخبار یا رسالہ خریدنا ایک روایت بن چکا تھا، جو اب بتدریج ختم ہوتی نظر آ رہی ہے۔

 

ڈیجیٹل دور اور بدلتی ترجیحات

 

گزشتہ چند برسوں میں اسمارٹ فونز اور ڈیجیٹل میڈیا کے فروغ نے مطالعہ کے انداز کو یکسر بدل دیا ہے۔ اب زیادہ تر مسافر اپنے موبائل فون پر خبریں پڑھنے یا وقت گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں، جس کے باعث پرنٹ میڈیا کی فروخت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اے ایچ وہیلر جیسے ادارے، جو کبھی ریلوے اسٹیشنوں کی شناخت تھے، اب اپنے وجود کی بقا کے لیے جدوجہد کرتے نظر آئے۔

 

ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ضروری ہے، اور نئی پالیسی اسی سوچ کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق کثیر المقاصد اسٹالز نہ صرف جدید تقاضوں کو پورا کریں گے بلکہ مسافروں کے لیے زیادہ مفید بھی ثابت ہوں گے۔

 

ادبی حلقوں میں تشویش

 

اس فیصلے پر ادبی و علمی حلقوں کی جانب سے افسوس اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کئی دانشوروں اور کتاب دوست افراد کا ماننا ہے کہ اے ایچ وہیلر جیسے اداروں کا خاتمہ دراصل مطالعہ کی ثقافت کے زوال کی علامت ہے۔ ان کے مطابق ریلوے اسٹیشن ہمیشہ سے عوامی سطح پر علم کے فروغ کا ایک اہم ذریعہ رہے ہیں، اور ان بک اسٹالز نے اس روایت کو زندہ رکھا۔

 

مسافروں کی ایک بڑی تعداد نے بھی اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرین کا انتظار کرتے ہوئے ایک رسالہ یا اخبار خریدنا ان کے سفر کا ایک خوشگوار حصہ ہوتا تھا، جو اب ختم ہو جائے گا۔

 

مستقبل کی تصویر

 

ویسٹرن ریلوے کے مطابق پرانے بک اسٹالز کو ہٹانے کا عمل مرحلہ وار جاری ہے، اور جلد ہی ان کی جگہ جدید طرز کے اسٹالز نظر آئیں گے۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ ان نئی سہولیات سے اسٹیشنوں کی شکل و صورت میں بہتری آئے گی اور مسافروں کو ایک بہتر تجربہ حاصل ہوگا۔

 

تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ اے ایچ وہیلر کے بک اسٹالز کا خاتمہ صرف ایک تجارتی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ثقافتی دور کے اختتام کی علامت ہے۔ یہ وہ اسٹالز تھے جنہوں نے لاکھوں مسافروں کے سفر کو علم، ادب اور خبروں سے جوڑے رکھا۔بلکہ چند سال قبل ہی عمل شروع ہواہے،لیکن باقاعدہ اعلان اب کیا جارہا ہے ۔

 

یوں 147 سالہ روایت کا سورج غروب ہو رہا ہے، اور ریلوے اسٹیشنوں کی فضا میں ایک خاموش تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے—ایک ایسی تبدیلی جو ترقی کی علامت تو ہے، مگر ماضی کی خوشبو سے محروم بھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button