تلنگانہ

ریاستی حکومت فی الفور فیس ریگولیشن قانون نافذ کرے بصورت دیگر شدید احتجاج منظم کرنے کا انتباہ : کے کویتا

خانگی اسکولوں میں فیس میں بھاری اضافہ پر شدید تشویش کا اظہار

ریاستی حکومت فی الفور فیس ریگولیشن قانون نافذ کرے بصورت دیگر شدید احتجاج منظم کرنے کا انتباہ : کے کویتا

 

صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے خانگی اسکولوں کی جانب سے فیس میں بھاری اضافہ پر شدید تشویش کا اظہار کیا اورکہا کہ 30 سے 40 فیصد تک فیس میں اضافہ کے ذریعہ والدین کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر فیس ریگولیشن قانون نافذ کرے اور اس کے لئے اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کر تے ہوئے بل منظور کیا جائے

 

۔ کویتا نے آج میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں کل 39,641 اسکولس ہیں جن میں تقریباً 62 لاکھ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ ان میں 27,581 سرکاری اور 12,061 خانگی اسکول ہیں۔ سرکاری اسکولوں میں 24 لاکھ جبکہ خانگی اسکولوں میں 38 لاکھ طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ خانگی شعبہ میں 350 خصوصی اسکول ہیں جن میں 3 لاکھ طلبہ زیر تعلیم ہیں، جبکہ نارائنا اور چیتنیہ جیسے تقریباً 1200 کارپوریٹ اسکولوں میں 5 لاکھ طلبہ پڑھ رہے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ تعلیمی سال شروع ہونے سے پہلے ہی خانگی اسکول 25 سے 30 فیصد فیس بڑھا رہے ہیں، جس سے والدین پر بھاری بوجھ عائد ہورہا ہے۔ اگر فیس ایک لاکھ روپئے ہے تو اب اس میں مزید 30 ہزار روپئے اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ماہانہ فیس لینے کے بجائے ایک ساتھ 60 فیصد فیس ادا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جس کے خلاف حیدرآباد میں والدین احتجاج کر رہے ہیں۔کویتا نے کہا کہ غریب اور متوسط طبقے کے لئے یہ اضافہ ناقابل برداشت ہے کیونکہ فیس بڑھنے کے لحاظ سے ان کی آمدنی میں اضافہ نہیں ہوتا

 

۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ تین سال گزرنے کے باوجود حکومت فیس کنٹرول کے لئے کوئی اقدام نہیں کر سکی۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ فیس میں سالانہ 7 سے 8 فیصد سے زیادہ اضافہ نہ ہونے دیا جائے اور اس سے زیادہ اضافہ کرنے والے اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے

 

۔کویتا نے الزام عائد کیاکہ فیس بڑھانے کے باوجود کارپوریٹ اسکولوں میں اساتذہ کی تنخواہیں نہیں بڑھائی جاتیں اور نہ ہی پی ایف جیسی بنیادی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں، جس سے خانگی اساتذہ کی زندگی مشکل ہو چکی ہے۔انہوں نے اسکولوں میں خوراک کے معیار پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ ہزاروں طلبہ کے لئے ایک ہی جگہ کھانا تیار کیا جا رہا ہے،

 

جس سے فوڈ پوائزننگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نارائنا اور چیتنیہ جیسے اسکولوں میں فوڈ سیفٹی اور دیگر سہولیات سے متعلق دھاوے کئے جائیں اور خوراک کے نمونوں کی جانچ کی جائیں۔کویتا نے کہا کہ بعض اسکولوں میں زیادہ فیس کے باوجود تعلیمی معیار کمزور ہے اور صرف چند طلبہ ہی بہتر نتائج حاصل کرتے ہیں، جس کی بنیاد پر والدین کو گمراہ کیا جاتا ہے

 

۔انہوں نے مزید کہا کہ ایس سی اور ایس ٹی طلبہ کے لئے دی جانے والی 42 ہزار روپئے کی امداد بھی ادا نہیں کی جا رہی ہے ۔ 212 کروڑ روپئے بقایا ہیں، جبکہ فیس ری ایمبرسمنٹ کے تحت 11 ہزار کروڑ روپئے واجب الادا ہیں، جن میں سے 7,500 کروڑ روپئے انجینئرنگ کالجوں کے ہیں۔ فیس نہ ملنے کے سبب کالج انتظامیہ طلبہ کے سرٹیفکیٹس روک رہے ہیں، حالانکہ ہائی کورٹ اس کے خلاف فیصلہ دے چکی ہے۔

 

انہوں نے کالج انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ طلبہ کے سرٹیفکیٹس فوری طور پر جاری کریں اور یقین دلایا کہ بقایا جات کے حصول کے لئے وہ حکومت سے نمائندگی کریں گی۔کویتا نے کہا کہ شمالی ہند کے تعلیمی ادارے بھی ریاست میں آ کر اپنے اسکول قائم کر رہے ہیں مگر وہ مقامی افراد کو ملازمتیں نہیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسے اداروں کو اجازت نہ دی جائے جو تلنگانہ کے لوگوں کو روزگار فراہم نہیں کرتے۔انہوں نے واضح کیا کہ تمام نجی اسکول خراب نہیں ہیں، کچھ ادارے طلبہ کا اچھے طریقے سے خیال رکھتے ہیں،

 

تاہم والدین کو نظر انداز کرنے والے اسکولوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ بعض بڑے اسکول سالانہ ہزاروں کروڑ روپئے کا کاروبار کر رہے ہیں مگر ٹیکس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور کتابوں، خوراک اور دیگر مد میں بھی والدین سے زائد رقم وصول کی جاتی ہے۔کویتا نے کہا کہ ریاستی حکومت کو اس معاملے پر واضح پالیسی اختیار کرنی چاہئے اور خانگی اسکولوں میں مقامی افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کئے جانے چاہئیں۔

 

انہوں نے کہا کہ ہزاروں خانگی ملازمین کم تنخواہوں پر کام کر رہے ہیں اور ان کے حقوق کے لئے بھی جدوجہد کی جائے گی۔آخر میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ان مطالبات پر فوری کارروائی نہیں کی تو تلنگانہ جاگروتی کی قیادت میں ریاست بھر کے اسکولوں کے سامنے احتجاج کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button