شانِ مصطفی ﷺ اور شعرائے اسلام — عشق و عقیدت کا درخشاں باب،مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
شانِ مصطفی ﷺ اور شعرائے اسلام — عشق و عقیدت کا درخشاں باب،مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
حیدرآباد، 4 اپریل (پریس ریلیز):انسانی تاریخ کے اوراق میں اگر کسی ہستی کے ذکر سے دلوں کو سکون، روحوں کو طمانیت اور زبانوں کو تقدیس ملتی ہے تو وہ ذاتِ اقدس سیدِ عالم، رحمۃٌ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہے۔ آپ ﷺ کی شانِ اقدس وہ آفتابِ درخشاں ہے جس کی روشنی میں نہ صرف ایمان والوں کے دل منور ہوئے بلکہ ادب، محبت اور عقیدت کے ایسے لازوال نقوش ثبت ہوئے جو رہتی دنیا تک مٹ نہیں سکتے۔ عشقِ مصطفیٰ ﷺ وہ مقدس جذبہ ہے جس نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے قلوب کو اس طرح گرمایا کہ انہوں نے اپنی جان، مال، عزت اور آبرو سب کچھ آپ ﷺ کی ناموس پر نچھاور کر دیا۔
اسی والہانہ محبت اور بے مثال عقیدت کا ایک حسین اور مؤثر اظہار "مدحِ مصطفیٰ ﷺ” کی صورت میں سامنے آیا، جسے شعرائے اسلام نے اپنے دلوں کی دھڑکن، روح کی تڑپ اور ایمان کی حرارت کے ساتھ صفحاتِ ادب میں ہمیشہ کے لیے رقم کر دیا۔ یہ محض شاعری نہیں بلکہ ایمان کی گہرائی، محبت کی صداقت اور عقیدت کی معراج ہے، جس میں عاشق اپنے محبوبِ حقیقی ﷺ کی تعریف و توصیف کو اپنی سعادت سمجھتا ہے۔
اسی تناظر میں مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری (شعبہ عربی، محکمہ تعلیم حکومت تلنگانہ) نے "شانِ مصطفیٰ ﷺ اور شعرائے اسلام” کے عنوان پر اپنے خطاب میں اس حقیقت کو نہایت بلیغ اور مؤثر انداز میں اجاگر کیا کہ نبی اکرم ﷺ کی مدح سرائی کا آغاز خود ربِ کائنات نے فرمایا، اور صحابہ کرامؓ نے اس الٰہی تعلیم کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اپنے اشعار، اپنے کردار اور اپنی جانثاری سے اس روایت کو دوام بخشا۔
آپ نے فرمایا کہ حضرت حسان بن ثابتؓ، حضرت کعب بن مالکؓ، حضرت عبداللہ بن رواحہؓ اور دیگر شعرائے اسلام نے نہ صرف اپنے اشعار کے ذریعے دشمنانِ اسلام کے اعتراضات کا جواب دیا بلکہ اپنے کلام سے عشقِ رسول ﷺ کی ایسی لازوال مثالیں قائم کیں جو رہتی دنیا تک اہلِ ایمان کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔ ان کے کلام میں جہاں دفاعِ رسالت کی جرأت ہے وہیں محبتِ مصطفیٰ ﷺ کی مٹھاس اور روحانیت کی گہرائی بھی نمایاں ہے۔
مزید برآں، بعد کے ادوار میں حضرت امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ جیسے عظیم شعراء نے قصیدہ بردہ شریف جیسی شاہکار تخلیقات کے ذریعے مدحِ مصطفیٰ ﷺ کو ایک ایسا ادبی و روحانی مقام عطا کیا جس نے دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور عشقِ رسول ﷺ کو نئی جہتیں عطا کیں۔
یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ مدحِ مصطفیٰ ﷺ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایمان کی تجدید، روح کی بالیدگی اور اللہ تعالیٰ سے قربت کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو امت کو جوڑتا، سنوارتا اور اسے اپنے مرکزِ محبت، یعنی ذاتِ مصطفیٰ ﷺ سے وابستہ رکھتا ہے۔
الغرض، شعرائے اسلام کی نعتیہ کاوشیں عشقِ رسول ﷺ کا وہ حسین گلدستہ ہیں جس کی خوشبو صدیوں سے اہلِ ایمان کے دلوں کو معطر کر رہی ہے اور قیامت تک کرتی رہے گی۔



