میڈیا ایران کی کامیابیوں پر پردہ ڈال رہا ہے۔مشرق وسطی کے موجودہ حالات اور عالمی سیاست کے تناظر میں ایران جنگ کی تفہیم کے موضوع پر ڈان ہائی اسکول میں سیمینار۔ معزز شخصیات کا خطاب

حیدرآباد ۔ مشرق وسطی کے موجودہ حالات اور عالمی سیاست کے تناظر میں ایران جنگ کی تفہیم کے موضوع پر ڈان ہائی اسکول پرانی حویلی میں ایک سیمینار منعقد ہوا جس کا اہتمام چیئرمین ڈان گروپ آف انسٹی ٹیوشنس جناب فضل الرحمن خرم نے کیا تھا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جناب شجیع اللہ فراست سینئر صحافی و اینکر4 ٹی وی نے امریکہ اور ایران جنگ پر مختلف پہلوؤں سے روشنی ڈالی اور اپنے پر مغز خطاب میں بتایا کہ موجودہ پرامن ماحول کی تباہی کا سب سے بڑا سبب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مختلف پابندیوں کے باوجود ایران کی حیرت انگیز کامیابیاں عنقریب دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھے گی انہوں نے کہا کہ 1979 عیسوی میں امام خمینی نے ایران میں قائم امریکی مفادات کا تحفظ کرنے والی حکومت کے خلاف انقلاب برپا کیا تھا جس کے بعد 1980 میں ایک جنگ مسلط کی گئی ایران پر حملے کے لیے صدام حسین کو اکسایا گیا یہ جنگ اٹھ سال تک چلتی رہی لیکن اس میں ایران کو فتح حاصل ہوئی اور یہ حقیقت ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو شہیدوں نے نئی زندگی عطا کی جناب شجیع اللہ فراست نے کہا کہ ایران نہ فلسطینیوں کی طرح عرب ہے اور نہ ہی سنی لیکن وہ فلسطین کا زبردست حامی ہے۔ عرب حکمرانوں نے فلسطین کے مسئلے پر خاموشی اختیار کی ہے لیکن چونکہ ایران نے واضح طور پر فلسطین کو تسلیم کیا اور فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کے مذمت کی اس لیے ایران کو اس کی بڑی سزا مل ر ہی ہے۔
انہوں نے امریکہ اور ایران جنگ پر اظہار خیال کرتے ہوئے واضح انداز میں کہا کہ ایران جنگ جیت چکا ہے اور امریکہ کی ہار ہو چکی ہے اور وہ دن دور نہیں جب ایران مشرق وسطیٰ کا سوپر پاور اور بڑی عالمی طاقت بن جائے گا انہوں نے کہا کہ ایران میں ہر روز اعلی شہادتیں ہو رہی ہیں ایران کی پالیسی منفرد پالیسی ہے ایران انقلاب نے مردہ قوم میں جوش پیدا کیا ہے۔ ایران میں خارجہ پالیسی بنائی ہے اور اس کے ایک حکم پر ہزاروں لوگ اپنی جانیں دینے کے لیے تیار ہیں عوام کے اس طرح کے عزم سے امریکہ کی نیند حرام ہو چکی ہے۔ امریکی صدر انسانیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے امریکہ کی کوشش ہے کہ ایران اور فلسطین کو ہر طرح سے کمزور کر دیا جائے انہوں نے کہا کہ ساری دنیا یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ آخر امریکہ اور اسرائیل کو ایران سے کیا مشکلات ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امام خمینی کی کوششوں کے بعد ایران میں سب کچھ بدل گیا یہ انقلاب عرب حکمرانوں کو پسند نہیں آیا اور انہوں نے اپنے اپ کو بھی خطرہ محسوس کیا ایران میں بہت بڑی تعداد خواتین کی بھی ہے جو مختلف شعبوں میں کام کرتے ہوئے ایران کو مستحکم بنا رہی ہیں انہوں نے کہا کہ امریکہ جو خود کو سپر پاور سمجھ بیٹھا تھا آج امریکہ کے طیارے گرائے جا رہے ہیں جو لاکھوں ملین ڈالر کی مالیت کے بتائے جاتے ہیں مڈل ایسٹ میں امریکہ کے 13 یا 14 ڈبے تباہ ہو چکے ہیں۔ امریکہ کا سب سے بڑا جہاز ابراہم لنکن برباد ہو چکا ہے اور دیگر جہاز بھی تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں دریائے ہرمز اور باب المندب سے دنیا کی 32 فیصد انرجی منتقل ہوتی ہے لیکن اگر ایران اس کو مستقل بند کر دے تو پھر عالمی سطح پر عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور اب یہ موقف ہے کہ ایران ساری دنیا کا انٹرنیٹ سٹم بھی بند کر سکتا ہے دبئی کی روشنیاں کم ہو سکتی ہیں اور صورت یہ حال ہے کہ امریکہ خود اپنے مفادات کا تحفظ کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے ڈالر کی اہمیت گھٹ رہی ہے۔ ایران کے جوابی حملوں کے نتیجے میں کئی لوگ اسرائیل چھوڑ کر جا رہے ہیں ہزاروں عوام پریشان ہیں لیکن امریکی میڈیا ایران کی کامیابیوں پر پردہ ڈال رہا ہے انہوں نے کہا کہ فلسطین میں سارا غزہ کھنڈر بن چکا ہے
لیکن اگر امریکہ میں اور اسرائیل میں ایران کوئی جوابی کاروائی کرتا ہے تو اسے انسانیت کے خلاف کہا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے ظالمانہ اقدام کی وجہ سے لاکھوں فلسطینی بے گھر زندگی گزار رہے ہیں اور ایسے حالات میں فلسطینی تو چاہیں گے کہ تیسری عالمی جنگ کا آغاز ہو جائے اور ایک نیا عالمی نظام وجود میں آیا جناب شجیع اللہ فراست نے عوام پر زور دیا کہ وہ اس جنگ کو شیعہ اور سنی کی نظروں سے نہ دیکھیں ،مسلکی اختلافات سے بالاتر ہو کر یہ دیکھیں کہ ایران کس طرح سے ظالم اسرائیل اور ظالم امریکہ کا مردانہ وار مقابلہ کر رہا ہے جبکہ دوسرے ممالک کو اسرائیل اور امریکہ کے خلاف جنگ لڑنا تو دور کی بات ہے ایک لفظ بولنے کی بھی ہمت نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد ایڈوکیٹ نے کہا کہ 28 فروری کی صبح سے امریکہ نے ایران پر حملوں کا آغاز کیا حد تو یہ ہے کہ ایران نے اس سے قبل کوئی اشتعال انگیزی بھی نہیں کی تھی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای جن کی عمر 86 سال کی ہو چکی تھی انہیں ناحق شہید کر دیا گیا جو انسانیت کے خلاف ہے یہ عالمی بربریت ہے اور اسی دن ایران میں ایک اسکول پر بمباری کرتے ہوئے 140 بے گناہ معصوم بچیوں کو بھی شہید کر دیا گیا۔
دنیا یہ بتانے سے قاصر ہے کہ آخر ان بچیوں کا کیا قصور تھا؟ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ 21ویں صدی کا انسانیت پر بد نما داغ ہے لیکن ساری دنیا خاموش ہے انہوں نے کہا کہ ایران کو شکست دے کر امریکہ اپنی چودھراہٹ قائم کرنا چاہتا ہے یہ نظریات کی جنگ ہے ایک فریق اپنے نظریے کو دوسرے پر غالب کرنا چاہتا ہے امریکہ سامراجیت کا علمبردار ہے انہوں نے کہا کہ پنڈت جواہرلال نہرو، اندرا گاندھی ،مرار جی دیسائی اور اٹل بہاری واجپائی نے ہندوستان کی خارجہ پالیسی بنائی تھی اس پالیسی میں2014 کے بعد تبدیلیوں سےہندوستان کو کافی نقصان پہنچا انہوں نے کہا کہ ہند_ایران تعلقات قدیم ہیں نازک وقتوں نے مسلم دنیا نے ہندوستان کا ساتھ دیا انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کی ایران پر مسلط کردہ جنگ پر اگر ہندوستان کا موقف غیر جانبدارانہ ہوتا تو جنگ اتنی نہ پھیلتی۔ انہوں نے حکومت ہند سے خواہش کی کہ وہ مجاہدین ازادی ہند کی پالیسیوں پر عمل کریں انہوں نے کہا کہ ایران نے فلسطین فلسطین کے لیے عملی ہمدردی دکھائی ہے ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو خود کی حفاظت کے لیے بنایا لیکن امریکہ نہیں چاہتا کہ ایران اپنی خود کی حفاظت کے لیے اپنا جوہری پروگرام بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ تیس فیصد تیل ایران سے ہم کو اتا ہے اور اگر ایران سے امریکہ کی جنگ کے نتیجے میں تیل کی قلت پیدا ہوتی ہے تو ایندھن کی قلت ہوگی اور ہم کو جنگل جا کر لکڑیاں لانا اور اپنا چولہا جلانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ غذا خط عام پر ایران نے اواز بلند کی جس کی ایران کو 28 فروری سے امریکہ مسلسل سزا دیتا ا رہا ہے انہوں نے کہا کہ جرات ایمانی اور حوصلہ حسینی سے ہی ہم باطل طاقتوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔
مولانا سید تقی رضا عابدی صدر تنظیم جعفریہ نے کہا کہ عربوں کے ساتھ امریکہ نے بہت بڑی غداری کی ہے اور یہ بات عربوں کو سمجھ میں انی چاہیے انہوں نے کہا کہ فلسطینی بچے بھوک سے مر رہے ہیں ہمیں سمجھ میں نہیں اتا کہ اخر عربوں کی دولت کہاں جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کی تمام پابندیوں کے باوجود تعلیم کھیل اور دیگر میدانوں میں ایران نے اپنی ترقی کا لوہا منوایا ہے انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکہ اور اسرائیل ساری دنیا میں یہ بات عام کر چکے ہیں کہ فلسطینی بچے امریکی اور اسرائیلی فوج پر پتھر پھینکتے ہیں اور پتھر پھینکنے والے بچوں کو وحشی کہا جاتا ہے درندے کہا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ پتھر دبئی سے فلسطین کو بھیجے جاتے تھے تاکہ جب یہ بچے پتھر پھینکیں تو ان کے ویڈیو بنا کر دنیا بھر میں ان کو بدنام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اج حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ اج مظلوم بھی پہچانا جا رہا ہے ظالم بھی پہچان نہ جا رہا ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ لوگ اس جنگ کے دوران مسلک کی بات کر رہے ہیں میں کہتا ہوں کہ مسلک کو چھوڑیے یہاں انسانیت ہی خطرے میں پڑ گئی ہے اسلام تو ہمیں کسی بھی مظلوم حتی کہ مشرک کی مدد کے لیے بھی حکم دیتا ہے اس وقت کوئی مذہب نہیں بلکہ انسانیت خطرے میں ہے ۔
مولانا تقی رضا عابدی نے سرپرست ڈان ہائی سکول جناب فضل الرحمن خرم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دیگر اسکولز بھی اس طرح اس طرح کے سیمینار منعقد کرتے ہوئے عوام کو حقائق سے واقف کروائیں انہوں نے کہا کہ ان کی اپنی معلومات کے مطابق ہندوستان بھر میں ڈان اسکول یہ واحد اسکول ہے جہاں ایران میں شہید طالبات خراج عقیدت پیش کرنے اور امریکہ کی ایران پر ایت کردہ غیر ضروری جنگ کے خلاف عوام کو سمجھانے کے لیے اس طرح کا سیمینار منعقد کیا گیا ہے۔



