تلنگانہ

ہائی کورٹ کے عبوری حکم سے کمزور طبقات کے طلبہ کو خطرہ اسیم اور اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن (SIO) تلنگانہ کی حکومت سے فوری اپیل دائر کرنے کی اپیل

 

اسیم اور اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن  تلنگانہ نے تلنگانہ ہائی کورٹ کے اس عبوری حکم پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے جو مختلف کالجوں کی درخواستوں کی سماعت کے دوران جاری کیا گیا۔ اس حکم کے تحت نجی کالجوں کو تعلیمی سال 2026–27 سے طلبہ سے براہِ راست ٹیوشن فیس وصول کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے، حالانکہ حکومت کی طرف سے اسکالرشپ اور فیس ری ایمبرسمنٹ کی بڑی رقم اب بھی بقایا ہے۔

 

اگرچہ اس حکم کو عبوری قرار دیا گیا ہے، لیکن اس کے اثرات خاص طور پر معاشی طور پر کمزور طبقات کے طلبہ پر بہت سنگین ہوں گے، جن میں SC، ST، BC، EBC اور اقلیتی برادریوں کے طلبہ شامل ہیں۔ کئی برسوں سے ان طلبہ کو یہ یقین دہانی کرائی جاتی رہی ہے کہ ان کی ٹیوشن فیس حکومت فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم کے تحت ادا کرے گی۔ مگر مسلسل تاخیر اور ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے اب اداروں کو یہ بوجھ طلبہ پر ڈالنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

 

ہم تعلیمی اداروں کی ان مالی مشکلات کو بھی سمجھتے ہیں جو حکومت کی طرف سے فیس ری ایمبرسمنٹ کی رقم جاری نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں۔ لیکن ان اداروں کا غریب اور محروم طلبہ سے فیس وصول کرنے کا طریقہ نہایت غیر حساس اور امتیازی ہے۔ اس سے ان طلبہ کی تعلیم شدید متاثر ہوگی جو پہلے ہی سماجی اور معاشی طور پر پسماندہ ہیں۔

 

اس فیصلے سے فلاحی اسکیم کا اصل مقصد کمزور پڑ جاتا ہے اور طلبہ کو دباؤ، ہراسانی اور تعلیم سے محرومی جیسے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ کئی کالج پہلے ہی طلبہ پر دباؤ ڈالتے ہیں، جیسے کہ سرٹیفکیٹس روک لینا، ہال ٹکٹ نہ دینا یا جبراً فیس ادا کرنے پر مجبور کرنا۔ اس حکم کے بعد ایسے واقعات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

 

یہ بھی قابلِ غور ہے کہ عدالت نے خود تسلیم کیا ہے کہ حکومت پر بڑی رقم واجب الادا ہے اور وہ رقم بھی جاری نہیں کی گئی جس کے لیے ٹوکن پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں۔ ایسی صورت میں طلبہ سے فیس وصول کرنے کی اجازت دینا انتہائی تشویشناک ہے اور انتظامی ناکامی کا بوجھ سب سے زیادہ محروم طبقات پر ڈال دیتا ہے۔

 

ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تعلیم ایک حق ہے، کوئی مراعات نہیں۔ کسی بھی طالب علم کو حکومت کی مالی ذمہ داری پوری نہ ہونے کی وجہ سے اپنی تعلیم چھوڑنے یا ذلت کا سامنا کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔

 

اس پس منظر میں ہم درج ذیل مطالبات پیش کرتے ہیں:

 

1. حکومتِ تلنگانہ فوری طور پر اس عبوری حکم کے خلاف اپیل دائر کرے۔

 

 

2. تمام بقایا اسکالرشپ اور فیس ری ایمبرسمنٹ کی رقم فوراً جاری کی جائے۔

 

 

3. کالجوں کو سختی سے ہدایت دی جائے کہ وہ طلبہ پر کسی قسم کا دباؤ یا ہراسانی نہ کریں۔

 

 

4. بقایا جات کی ادائیگی اور آئندہ ادائیگیوں کے لیے واضح اور شفاف ٹائم لائن عوام کے سامنے رکھی جائے۔

 

 

5. طلبہ اور تعلیمی اداروں کے مسائل کے حل کے لیے ایک مؤثر نظام قائم کیا جائے تاکہ تمام فریقوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے مسائل حل کیے جا سکیں اور اعتماد بحال ہو۔

 

 

 

اگر حکومت طلبہ اور اداروں کے مسائل پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دیتی تو اس کے ریاست کی مجموعی ترقی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

 

ہم یہ بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اسکالرشپ کی بقایا رقم اور طلبہ کو درپیش ہراسانی کے مسئلے پر ہماری پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن (PIL) پہلے ہی معزز ڈویژن بنچ کے سامنے زیرِ سماعت ہے۔ ہم وہاں بھی اس مسئلے کو بھرپور طریقے سے اٹھاتے رہیں گے تاکہ زمینی سطح پر پیدا ہونے والے اس بحران کو کم کیا جا سکے۔

 

ہم طلبہ کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں اور ان کے حقوق اور وقار کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اور جمہوری طریقوں سے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button