ایران اور امریکہ کے درمیان 45 دن کے جنگ بندی کی کوشش

نئی دہلی: امریکہ اور ایران کے درمیان علاقائی ثالث 45 دن کے جنگ بندی معاہدے کے لیے آخری کوشش کر رہے ہیں جس سے موجودہ جنگ کے مستقل خاتمے کا راستہ نکل سکتا ہے۔ تاہم معاہدے کے امکانات کم نظر آتے ہیں۔
ایران نے آبنائے ہرمز پر جھکنے سے انکار کر دیا ہے۔امریکہ، ایران اور علاقائی ثالثوں کا ایک گروہ ممکنہ 45 دن کے سیزفائر کی شرائط پر بات چیت کر رہا ہے۔ اس سے جنگ کے مستقل خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
امریکی میڈیا Axios کو چار امریکی اسرائیلی اور علاقائی ذرائع نے یہ معلومات دی ہیں جو ان مذاکرات سے واقف ہیں۔خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے دو عہدیداروں نے بتایا کہ ایران اور امریکہ کو ایک مسودہ تجویز ملی ہے
جس میں 45 دن کی جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی اپیل کی گئی ہے تاکہ جنگ کے خاتمے کا راستہ نکالا جا سکے۔ یہ تجویز مصر، پاکستان اور ترکی کے ثالثوں کی جانب سے دی گئی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ 45 دن کا عرصہ
دونوں ممالک کے درمیان وسیع مذاکرات کے لیے کافی ہوگا تاکہ مستقل جنگ بندی تک پہنچا جا سکے۔ دونوں ممالک نے ابھی تک اس تجویز پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔رائٹرز کے مطابق ایران اور امریکہ کو ایک منصوبہ موصول ہوا ہے
جو پیر سے نافذ ہو سکتا ہے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے دشمنی ختم کرنے کے لیے ایک فریم ورک تیار کیا ہے جس میں فوری جنگ بندی اور اس کے بعد ایک جامع معاہدہ شامل ہے۔
دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے 48 گھنٹوں میں کسی جزوی معاہدے کے امکانات بہت کم ہیں۔ تاہم یہ آخری کوشش تصادم میں شدت کو روکنے کا واحد موقع سمجھی جا رہی ہے۔
بصورتِ دیگر ایران کے شہری انفراسٹرکچر پر بڑے حملے اور خلیجی ممالک میں توانائی اور پانی کی سہولیات پر جوابی حملے ہو سکتے ہیں۔اس سے پہلے امریکہ نے 15 نکاتی جنگ بندی منصوبہ
پیش کیا تھا جسے ایران نے "غیر منصفانہ” قرار دے کر مسترد کر دیا۔ ایران نے اپنے مطالبات پیش کیے جن میں معاوضہ اپنے حکام کے قتل کو روکنا اور خودمختاری کی ضمانت شامل تھی۔ ایران کے انکار کے بعد ٹرمپ
نے کئی بار دھمکیاں دیں۔ ان کی اہم شرط آبنائے ہرمز کو کھولنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے بنیادی ڈھانچے پر شدید حملے کیے جا سکتے ہیں بعد میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ 7 اپریل تک معاہدہ ممکن ہے۔
ایران نے عوامی طور پر مذاکرات سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ مستقل حل اور سیکیورٹی ضمانت چاہتا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ جنگ بندی کی بات
کو جنگ جاری رکھنے کے بہانے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔



