جنرل نیوز

حضرت علامہ محمد عبدالقدیر صدیقیؒ کی علمی و روحانی خدمات مشعلِ راہ — مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب

حضرت علامہ محمد عبدالقدیر صدیقیؒ کی علمی و روحانی خدمات مشعلِ راہ — مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب

 

حیدرآباد6اپریل (پریس ریلیز):

علم و عرفان کی روشن روایت میں برصغیر کی سرزمین ہمیشہ سے مینارۂ نور بنی رہی ہے، جہاں سے ایسے رجالِ کار اٹھے جنہوں نے دینِ متین کی خدمت کو اپنا شعار بنایا اور علم کی شمع سے دلوں کو منور کیا۔ انہی نفوسِ قدسیہ میں ایک درخشاں نام وہ بھی ہے جنہوں نے اپنی علمی بصیرت، تقویٰ و للہیت، اور تدریسی خدمات کے ذریعہ امت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا۔

خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز، نامپلی، حیدرآباد، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے اپنے خطاب میں بتلایا کہ حضرت علامہ محمد عبدالقدیر صدیقی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی پوری زندگی علمِ دین کی اشاعت اور شریعتِ مطہرہ کے فروغ میں صرف فرمائی۔ آپ نے عصری تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے دینی علوم کو جدید انداز میں پیش کیا اور طلبہ کی فکری و عملی تربیت کا ایک مثالی نظام قائم کیا۔

انہوں نے مزید فرمایا کہ حضرت کی علمی خدمات کا دائرہ نہایت وسیع تھا۔ آپ نے تفسیر، حدیث، فقہ، اصولِ فقہ، ادب، منطق، فلسفہ اور تصوف جیسے مختلف علوم میں گراں قدر خدمات انجام دیں اور اپنے شاگردوں کو ایسے سانچے میں ڈھالا جو دین و ملت کے معمار بنے۔ آپ کے فیض یافتگان آج بھی ملک و بیرونِ ملک دینِ اسلام کی خدمت میں مصروف ہیں۔

مولانا نے بتایا کہ حضرت کی شخصیت کا نمایاں پہلو ان کی تدریسی مہارت اور طلبہ سے شفقت تھی، جس کے باعث آپ کے دروس میں علمی گہرائی کے ساتھ روحانیت کی چاشنی بھی محسوس ہوتی تھی۔ آپ نے ہمیشہ اعتدال، اخلاص اور عمل کی دعوت دی اور امت کو اتحاد و اتفاق کا پیغام دیا۔تکمیلِ تعلیم کے بعد حضرت کا تقرر بلا درخواست مدرسہ دارالعلوم میں عمل میں آیا، جہاں آپ نے مختلف علوم کی تدریس انجام دی۔ جب دارالعلوم کو ترقی دے کر کلیہ عثمانیہ بنایا گیا تو آپ کو شعبۂ دینیات کی صدارت سونپی گئی اور آپ حدیث کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ بعد ازاں جب یہی ادارہ جامعہ عثمانیہ (یونیورسٹی) میں تبدیل ہوا تو بھی آپ اسی منصب پر فائز رہے۔

مولانا نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے زیرِ قیادت شعبۂ دینیات میں ملک بھر کے منتخب اور ممتاز اساتذہ خدمات انجام دیتے تھے، جن میں مولانا شبیر علی علمِ کلام کے ماہر، مولانا عبدالواسع فقہ کے مسلم الثبوت عالم، مفتی عبداللطیف تفسیر کے امام، اور دیگر جلیل القدر علماء شامل تھے۔ ان سب کے باوجود حضرت کی علمی برتری اور وقار کا اعتراف ہر ایک کرتا تھا، حتیٰ کہ مغربی علوم کے اساتذہ بھی آپ کے علمی مقام کے قائل تھے اور جدید سوالات کے آپ کے مدلل و شافی جوابات سے متاثر ہوتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ حضرت کا گھر بھی ایک علمی مرکز کی حیثیت رکھتا تھا، جہاں ہر وقت اہلِ علم کا اجتماع رہتا اور آپ ان کی علمی و فکری الجھنوں کو نہایت حکمت کے ساتھ حل فرماتے۔ آپ کو سرکاری سطح پر کمیٹی اصلاحِ نصاب میں شامل کیا گیا، جہاں آپ کی آراء کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا اور نصاب کی بہتری میں آپ کے مشوروں نے نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ کی تصنیف ’’روح الادب‘‘ اور ’’انتخابِ شاہنامہ‘‘ کو سرکاری نصاب میں شامل کیا جانا آپ کی علمی عظمت کا بین ثبوت ہے۔

مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے بتایا کہ 1933ء میں جامعہ عثمانیہ سے وظیفۂ حسنِ خدمت پر سبکدوش ہونے کے بعد آپ کو مدرسہ نظامیہ کا اعزازی ناظم مقرر کیا گیا، جہاں آپ نے اپنی غیر معمولی انتظامی صلاحیتوں سے اسے ’’جامعہ نظامیہ‘‘ کا درجہ دلایا۔ اسی طرح ’’دائرۃ المعارف‘‘ جیسے عظیم علمی ادارے میں بھی آپ نے قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔

انہوں نے مزید فرمایا کہ سرکاری ذمہ داریوں سے فراغت کے بعد بھی آپ کا گھر علم کا مرکز بنا رہا اور ہر شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد آپ سے استفادہ کرتے رہے۔ یہاں تک کہ اہلِ علم نے متفقہ طور پر آپ کو ’’استاذ العلماء‘‘ کا لقب عطا کیا۔ آپ کے شاگردوں میں نہ صرف دینی علماء بلکہ سائنس، طب، ادب اور معاشیات کے ممتاز ماہرین بھی شامل تھے، جو آپ کی ہمہ گیر علمی شخصیت کا واضح ثبوت ہیں۔

مولانا نے کہا کہ حضرت کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ علم کے ساتھ اخلاص، وسعتِ نظر اور خدمتِ خلق کو اپنایا جائے، کیونکہ یہی وہ اوصاف ہیں جو انسان کو حقیقی معنوں میں عظیم بناتے ہیں۔

آخر میں مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اپنے اکابرین کی علمی و عملی زندگی سے سبق حاصل کرتے ہوئے دینِ اسلام کی صحیح تعلیمات کو عام کرنا چاہیے اور نئی نسل کی صحیح رہنمائی کے لیے ان کے نقشِ قدم پر چلنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button