مدرسہ محمدیہ سلفیہ لتحفیظ القرآن کے افتتاحی اجلاسِ عام کا شاندار انعقاد

مدرسہ محمدیہ سلفیہ لتحفیظ القرآن کے افتتاحی اجلاسِ عام کا شاندار انعقاد

مدرسہ محمدیہ سلفیہ لتحفیظ القرآن کے زیرِ اہتمام ایک پُروقار افتتاحی اجلاسِ عام کا انعقاد کیا گیا، جس میں علماء کرام، معززینِ شہر اور عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ یہ روحانی و علمی اجتماع نہایت منظم اور باوقار انداز میں منعقد ہوا۔اجلاس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت ایک کمسن طالب علم نواز چاندی نے حاصل کی۔ بعد ازاں مہمانانِ خصوصی کا استقبال کیا گیا اور مدرسہ کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی گئی۔
اس موقع پر شیخ عبدالرحیم صابر جامعی حفظہ اللہ نے اپنے بصیرت افروز خطاب میں دینی تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں جہاں دنیاوی تعلیم کو فروغ حاصل ہو رہا ہے، وہیں دینی تعلیم کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے والدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی اولاد کی دینی تربیت پر خصوصی توجہ دیں تاکہ ایک صالح اور باکردار معاشرہ تشکیل پا سکے۔
بعد ازاں شیخ محمد یعقوب جامعی حفظہ اللہ نے اپنے منفرد اور پُراثر اندازِ بیان میں حاضرین کو حصولِ علم کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ قرآنِ کریم کی تعلیم نہ صرف دنیا میں کامیابی کا ذریعہ ہے بلکہ آخرت میں بھی بلند درجات کا سبب بنے گی۔ انہوں نے حدیثِ مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ قیامت کے دن حافظِ قرآن اور اس کے والدین کو جو اعزازات عطا کیے جائیں گے، وہ بے مثال ہوں گے۔ اس موقع پر انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ اگر وہ اپنے بچوں کو حفظِ قرآن نہیں کروا سکتے تو کم از کم کسی مستحق بچے کی کفالت کر کے اس عظیم کارِ خیر میں حصہ ضرور لیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مدارسِ دینیہ امت کی بقا اور اسلامی تشخص کے محافظ ہیں، لہٰذا ان اداروں کی سرپرستی ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
اجلاس میں محمد سلیم الدین ، امیر ضلی جمعیت اہل حدیث محبوب نگر ،مولانا نذیر احمد جامعی، مولانا سمیر جامعی ،محمد جاوید امیر مقامی جمعیت اہل حدیث اوٹکور، جناب مقبول احمد،صدر ایکمنار مسجد، محمد خورشید گدوال ،صدر تعلیمی کمیٹی ،محمد شمش الدین ،صدر مسجد محمدی ،جمعیت الحدیث عیدگاہ کے صدر محمد اصف، مکہ مسجد کے صدر محمد فاروق سمیت دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔ مقررین نے مدرسہ کے قیام کو ایک خوش آئند قدم قرار دیتے ہوئے اس کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
آخر میں مدرسہ کی ترقی، امتِ مسلمہ کی فلاح و بہبود اور ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ منتظمین نے تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ مدرسہ میں معیاری دینی تعلیم کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔




