کانگریس کی سینئر قائد و سابق مرکزی وزیر محسنہ قدوائی کا انتقال: سیاسی افق کا روشن باب ختم

کانگریس کی سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر محسنہ قدوائی چہارشنبہ کی علی الصبح انتقال کر گئیں۔ان کی عمر 94 برس تھی وہ طویل عرصہ سے عمر رسیدگی سے متعلق عوارض میں مبتلا تھیں اور نوئیڈا کے ایک ہاسپٹل میں زیرِ علاج تھیں، جہاں صبح تقریباً 4 بجے انہوں نے آخری سانس لی۔ ان کے داماد رضی الرحمٰن قدوائی نے اس کی تصدیق کی۔
خاندانی ذرائع کے مطابق مرحومہ کی میت کو آج دوپہر 3 بجے ان کی رہائش گاہ سے روانہ کیا جائے گا، جبکہ شام 5 بجے نظام الدین قبرستان میں تدفین عمل میں آئے گی۔
محسنہ قدوائی یکم جنوری 1932 کو اتر پردیش کے بارہ بنکی میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے کم عمری میں ہی سیاست میں قدم رکھا اور ریاستی سطح سے قومی سطح تک نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہ اتر پردیش کے میرٹھ حلقہ سے کئی مرتبہ لوک سبھا کی رکن منتخب ہوئیں، جبکہ 2004 سے 2016 تک چھتیس گڑھ سے راجیہ سبھا کی رکن رہیں۔
انہوں نے سابق وزرائے اعظم اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کی کابینہ میں اہم ذمہ داریاں سنبھالیں اور دیہی ترقی، صحت، خاندانی بہبود، ٹرانسپورٹ اور شہری ترقی جیسے اہم محکموں کی وزارتیں سنبھالیں۔
وہ کانگریس کی اعلیٰ فیصلہ ساز کمیٹی کی رکن رہیں اور آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی جنرل سیکریٹری کے طور پر بھی پارٹی کی حکمت عملی میں کلیدی کردار ادا کیا۔
انہوں نے اپنی سیاسی زندگی پر مبنی کتاب “مائی لائف اِن انڈین پالیٹکس” بھی تحریر کی۔ ان کے انتقال پر کانگریس کے اعلیٰ قائدین اور مختلف سیاسی جماعتوں کی شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ مرحومہ کے پسماندگان میں تین بیٹیاں شامل ہیں۔



