جنرل نیوز

دیہی و شہری علاقوں میں آر ایم پی ڈاکٹرس کی غیر ذمہ دارانہ پریکٹس پر حکام کی تشویش، فوری اصلاحات کی ضرورت

تحریر صحافی خضر احمد یافعی عادل آبادی

عادل آباد۔ 8/اپریل (اردو لیکس)ہندوستان کے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں صحت کا نظام آج بھی کئی چیلنجس سے دوچار ہے۔ اسپتالوں کی کمی، مستند ڈاکٹرس کی عدم دستیابی اور عوام میں طبی شعور کی کمی نے ایک ایسا خلا پیدا کر دیا ہے، جسے عموماً آر ایم پی (Registered Medical Practitioner) کہلانے والے افراد پُر کرتے ہیں۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ آیا یہ خلا پُر کرنے کا عمل عوام کے لئے فائدہ مند ہے یا مزید خطرات کو جنم دے رہا ہے؟

 

حالیہ دنوں عادل آباد میں عالمی یومِ صحت کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب میں ضلع کلکٹر راجرشی شاہ اور رکن پارلیمنٹ ناگیش نے اسی حساس مسئلے پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔ رِمس اسپتال کے آڈیٹوریم میں منعقدہ اس پروگرام میں ضلع کلکٹر اور ایم پی ناگیش نے واضح کیا کہ آر ایم پی ڈاکٹرس کا دائرہ کار محدود ہے، لیکن عملی طور پر وہ اس حد سے تجاوز کرتے ہوئے عوامی صحت کے لئے سنگین خطرات پیدا کر رہے ہیں۔

 

کلکٹر راجرشی شاہ نے خاص طور پر اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ غیر مستند آر ایم پی ڈاکٹرس کی جانب سے غیر ضروری اینٹی بایوٹکس اور انجکشن کا استعمال مریضوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے طریقہ علاج سے گردوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور کئی معاملات میں مریضوں کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اسی طرح رکن پارلیمنٹ ناگیش نے بھی دیہی علاقوں میں آر ایم پی ڈاکٹرس کی غیر ذمہ دارانہ پریکٹس پر روشنی ڈالتے ہوئے ماضی کے واقعات کا حوالہ دیا، جہاں غیر مستند علاج کے باعث کڈنی کے مسائل اور اموات تک کے واقعات پیش آئے۔

 

آر ایم پی ڈاکٹرس کا تصور بنیادی طور پر ابتدائی طبی امداد تک محدود ہونا چاہیے، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ وہ پیچیدہ امراض کا علاج، ہائی ڈوز ادویات کی فراہمی اور انجکشن کے استعمال جیسے اقدامات بھی انجام دے رہے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مسئلہ انتہائی سنگین ہو جاتا ہے، کیونکہ طبی مہارت کے بغیر کئے جانے والے ایسے اقدامات براہ راست انسانی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔

 

مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ آر ایم پی ڈاکٹرس اب صرف دیہی علاقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ انہوں نے شہری علاقوں میں بھی بڑے پیمانے پر اپنا دائرہ کار بڑھا لیا ہے۔ باقاعدہ شہروں میں کلینکس قائم کئے جا رہے ہیں اور خود کو مستند ڈاکٹر ظاہر کرتے ہوئے عوام کا اعتماد حاصل کیا جا رہا ہے۔ اس رجحان نے مسئلے کو مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا دیا ہے، کیونکہ شہری عوام بھی غیر مستند علاج کے جال میں پھنس رہے ہیں۔

 

دیہی اور شہری دونوں علاقوں کے عوام عموماً فوری علاج اور کم خرچ کی وجہ سے آر ایم پی ڈاکٹرس پر انحصار کرتے ہیں، مگر انہیں اس بات کا مکمل ادراک نہیں ہوتا کہ یہ وقتی سہولت طویل مدتی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ انجکشن لگانے جیسے بظاہر سادہ عمل میں بھی مکمل طبی تربیت، صفائی کے اصول اور دوا کے صحیح استعمال کا علم ضروری ہوتا ہے۔ بصورت دیگر انفیکشن، ہیپاٹائٹس، ایچ آئی وی اور دیگر مہلک بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

 

مزید برآں، اینٹی بایوٹکس کے بے جا استعمال سے “اینٹی بایوٹک ریزسٹنس” جیسے عالمی مسئلے کو بھی تقویت مل رہی ہے، جو مستقبل میں علاج کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ اس تناظر میں عادل آباد کے اعلیٰ حکام کی جانب سے دی گئی وارننگ نہایت اہمیت کی حامل ہے، جو نہ صرف عوام بلکہ محکمہ صحت کے لئے بھی ایک سنجیدہ پیغام ہے۔

 

یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف آر ایم پی ڈاکٹرس کو موردِ الزام ٹھہرانا مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرے، مستند ڈاکٹرس کی دستیابی کو یقینی بنائے اور عوام میں طبی شعور کو فروغ دے۔ ساتھ ہی آر ایم پی افراد کو مناسب تربیت دے کر انہیں محدود اور محفوظ دائرہ کار میں لانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

 

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ صحت کا شعبہ کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ اگر اس بنیاد میں کمزوری ہو تو اس کے اثرات پوری قوم پر مرتب ہوتے ہیں۔ عادل آباد میں پیش کئے گئے حقائق اور انتباہات اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ اگر بروقت اقدامات نہ کئے گئے تو یہ مسئلہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔ لہٰذا حکومت، طبی ماہرین اور عوام کو مشترکہ طور پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے محفوظ اور معیاری طبی نظام کی تشکیل کے لئے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button