عادل آباد میں "وائٹ پلیٹ” گاڑیوں کا غیر قانونی کاروبار عروج پر ۔ یلو پلیٹ گاڑی مالکان پریشان؛ کارروائی کا مطالبہ

نمائندہ خصوصی صحافی خضر احمد یافعی
عادل آباد۔10/اپریل (اردو لیکس)ضلع عادل آباد میں سفید نمبر پلیٹ (پرائیویٹ) گاڑیوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر مسافروں کی نقل و حمل کا معاملہ سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف سرکاری آمدنی کو بھاری نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ کمرشل "یلو پلیٹ” گاڑی مالکان بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق عادل آباد مستقر کے شانتی نگر کے رہنے والے باپو راؤ نے خود روزگار کے تحت ایک کمرشل گاڑی خریدی، جس پر وہ باقاعدہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ تاہم کرایوں میں کمی کے باعث انہیں ماہانہ اقساط (EMI) ادا کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ اس کے برعکس کئی افراد، جن میں سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں، اپنی سفید پلیٹ والی نجی گاڑیوں کو ٹیکسی کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کرایہ پر چلا رہے ہیں، جو کہ قواعد کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ذرائع کے مطابق ضلع میں ایسے درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں سفید پلیٹ گاڑیاں ٹیکسی اسٹینڈز پر کھڑی نظر آتی ہیں، جو مسافروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جا رہی ہیں۔ اس غیر قانونی عمل سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ بے روزگار نوجوانوں کے روزگار کے مواقع بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
قواعد کے مطابق سفید پلیٹ گاڑیاں صرف ذاتی استعمال کے لئے ہوتی ہیں، جبکہ کمرشل "یلو پلیٹ” گاڑی مالکان کو بھاری ٹیکس، انشورنس اور دیگر اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ اس کے باوجود پرائیویٹ گاڑی مالکان بغیر کسی اضافی ٹیکس کے مسافروں کو لے جا کر فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کے افسران اس صورتحال سے بخوبی واقف ہیں، لیکن اس کے باوجود کارروائی نہ ہونا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
اس سلسلے میں ڈپٹی ٹرانسپورٹ کمشنر رویندر نے کہا کہ اگر ایسی خلاف ورزیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں تو محکمہ فوری طور پر معائنہ کرتے ہوئے قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گا اور گاڑیوں کو ضبط کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سفید پلیٹ گاڑیوں کو ٹیکسی کے طور پر استعمال کرنا غیر قانونی ہے۔
عوام اور متاثرہ گاڑی مالکان نے مطالبہ کیا ہے کہ حکام فوری مداخلت کرتے ہوئے اس غیر قانونی کاروبار کو روکا جائے تاکہ سرکاری آمدنی کا تحفظ اور جائز روزگار کے مواقع برقرار رہ سکیں۔



