جنرل نیوز

انجمن خواتینِ اردو (تمل ناڈو) کا سالانہ جلسہ کامیابی کے ساتھ منعقد

چینئی، ١٠ اپریل ٢٠٢٦/انجمن خواتینِ اردو (تمل ناڈو) کے زیرِ اہتمام سالانہ تقریب نہایت تزک واحتشام کے ساتھ شام ٣.٣٠بجے منعقد ہوئی۔ اس بابرکت اور باوقار تقریب میں اردو زبان و ثقافت کے فروغ کو اجاگر کیا گیا اور مختلف علمی، ادبی و ثقافتی پروگرام پیش کیے گئے۔

 

تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جسے عافیہ فاطمہ نے خوش الحانی سے پیش کیا جبکہ اس کا بامحاورہ ترجمہ ثمینہ فاطمہ نے کیا ،اس کے بعد نعتِ رسولِ پاک ﷺ نظیرہ سلطانہ نے نہایت عقیدت کے ساتھ پیش کی۔ استقبالیہ کلمات ڈاکٹر غوثیہ سعیدہ ہ نے ادا کیے، جنہوں نے معزز مہمانوں کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔اور مادری زبان کی ترویج و ترقی پر زور دیا

 

صدرِ انجمن پروفیسر ڈاکٹر پروین فاطمہ نے صدارتی خطاب میں اردو زبان کی اہمیت و افادیت پر نہایت جامع اور فکر انگیز خیالات پیش کیے انھوں نے کہا کہ نی نسل کو اردو سے جوڑنا ہم سب کی مشترکہ ذمےداری ہے اگر ہم اپنے بچوں کو لکھنے پڑھنے کی ترغیب دیں گے تو انشاءاللہ یہ زبان ہماری نسلوں میں منتقل ہوتی رہی گی۔مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر حسینہ بیگم صاحبہ نے مادری زبان کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مادری زبان سے دوری قوموں کی پسماندگی کا سبب بنتی ہے۔ مہمانِ اعزازی محترمہ فاخرہ عتیق صاحبہ نے بھی اپنے خطاب میں اسی موضوع کو سراہتے ہوئے قوم کی ترقی کے لیے زبان کے فروغ پر زور دیا ۔

 

تقریب کے دوران شال پوشی کی رسم بھی ادا کی گئی، جس میں مہمانِ خصوصی کی شال پوشی پروفیسر ڈاکٹر پروین فاطمہ صاحبہ کے ہاتھوں انجام پائی، جبکہ مومنٹو محترمہ امت السعیدہ صاحبہ نے پیش کیے۔ اسی طرح محترمہ فاخرہ عتیق صاحبہ کی شال پوشی ڈاکٹر غوثیہ سعیدہ نے کی اور مومنٹو محترمہ پروین پاپا صاحبہ نے پیش کیے

 

اس موقع پر "بیسٹ ٹیچر ایوارڈ” ڈاکٹر بشیرہ سلطانہ (ہیڈ شعبۂ اردو، جسٹس بشیر احمد سعید کالج، چینئی) کو پیش کیا گیا۔ ڈاکٹر بشیرہ سلطانہ نےبھی کہا کہ اردو کی ترقی اور بقا کے لئے ہر فرد کو اپنے دائرہ کار میں محنت کرنی چاہئے ۔پروین پاپا صاحبہ نے بھی کہا کہ اگر ہم سب مل کر اس کی خدمت کریں تو یہ زبان زندہ و تابندہ رہے گی ۔

 

انجمن کی سالانہ رپورٹ ڈاکٹر نکہت ناز (اسسٹنٹ پروفیسر اردو کوئین میرس کالج نے پیش کی، جس میں سال بھر کی سرگرمیوں اور کامیابیوں کو تفصیل سے بیان کیا گیا۔

 

بچوں کے پروگرام نے تقریب کو مزید رنگا رنگ بنا دیا، جس میں حمد، نعت، تقاریر، نظمیں اور گروپ گیت اور ڈاکٹر پروین فاطمہ کا تحریر کردہ ڈراما ” شناخت” شامل تھا۔ مدرسہ دارالہدیٰ کی طالبہ حسینہ منیر نے "میرا اردو سیکھنے کا سفر” پر خطاب کیا جبکہ محمد زید حسین نے "موبائل فون کے فوائد و نقصانات” پر روشنی ڈالی۔ ہانیہ نے "سوشل میڈیا اور ہماری زندگی” کے موضوع پر تقریر پیش کی۔

 

تقریب کا خاص مرکز بچوں کی جانب سے پیش کیا گیا ڈرامہ "شناخت” رہا، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔ اس کے علاوہ اقبال کی مشہور نظم "لب پہ آتی ہے دعا” بھی پیش کی گئی۔

 

آخر میں انعامات کی تقسیم عمل میں آئی اور شکریہ کی ادائیگی مسز طیبہ نے کی، جنہوں نے تمام مہمانوں، منتظمین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔محترمہ ساجدہ فردوس نے نظامت کی ذمےداری بخوبی انجام دی۔تقریب کے دوران چاے اور سنیکس کا بہترین و عمدہ انتظام تھا ۔

 

یہ تقریب اردو زبان کے فروغ اور نئی نسل میں اس کی اہمیت اجاگر کرنے کی ایک کامیاب کوشش ثابت ہوئی۔

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button