کم جانگ ان کی موت کی خبرکا سچ

نئی دہلی: شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ اُن کی صحت کے حوالے سے ایک بار پھر شدید بحث شروع ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ وہ برین ہیمرج کے باعث کوما میں چلے گئے اور علاج کے دوران ان کا دیہات ہو گیا۔
ان دعوؤں کے بعد بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش پیدا ہوگئی تھی۔یہ افواہیں بھی پھیلائی گئیں کہ کم جونگ اُن کی موت کے بعد ان کی بہن کم یو جونگ نے شمالی کوریا کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ ان قیاس آرائیوں میں مسلسل اضافے کے درمیان شمالی کوریا نے سرکاری میڈیا کے ذریعے کم جونگ اُن کی نئی تصاویر جاری کی ہیں۔
ان تصاویر میں انہیں ایک نمائش میں شرکت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔شمالی کوریا کے سرکاری اخبار روڈونگ سنمون کی شائع کردہ تصاویر کے مطابق کم جونگ اُن نے ملبوسات اور جوتوں کی ایک نمائش کا دورہ کیا۔ ایک تصویر میں وہ ایک خاتون ملازمہ کے ہاتھ میں موجود چھوٹے گلابی رنگ کے جوتے کا معائنہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
دوسری تصویر میں وہ حکام سے گفتگو کرتے ہوئے ہاتھ پھیلائے نظر آتے ہیں۔ ایک اور تصویر میں انہیں نمائش کے لیے رکھی گئی ایک مصنوعی مورت پر پہنے ہوئے خواتین کے کوٹ کی آستین چھوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے تاہم ان تصاویر کے کھینچے جانے کی تاریخ واضح نہیں کی گئی ہے۔
افواہیں آخر شروع کیسے ہوئیں؟ امریکہ میں مقیم چینی حکومت کے ایک ناقد وانگ جون شی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر کم جونگ اُن کی صحت کے حوالے سے سنسنی خیز دعوے کیے۔انہوں نے ابتدا میں دعویٰ کیا کہ کم جونگ اُن کا انتقال ہو چکا ہے
اور اقتدار کی منتقلی کے ممکنہ بحران کے پیش نظر چین نے بیجنگ سے 9,000 فوجی پیانگ یانگ بھیجے ہیں۔بعد ازاں انہوں نے دعویٰ کیا کہ کم جونگ اُن کو دماغ میں شدید خون بہنے کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد علاج کے لیے بیجنگ کے پیکنگ یونین میڈیکل کالج اسپتال سے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم شمالی کوریا بھیجی گئی۔
ان کے مطابق کم جونگ اُن کوما میں چلے گئے تھے اور بعد میں انہیں بیجنگ منتقل کیا گیا لیکن ڈاکٹر انہیں بچانے میں ناکام رہے۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ان کی نعش خفیہ طور پر شمالی کوریا واپس لے جائی گئی۔تاہم ان دعوؤں کی حمایت میں کوئی ٹھوس ثبوت عینی شاہدین کی گواہی یا ایسی معلومات سامنے نہیں آئیں جن کی آزادانہ طور پر تصدیق کی جا سکے۔
ماضی میں بھی کم جونگ اُن کی موت کی افواہیں پھیل چکی ہیں۔کم جونگ اُن کی صحت کے بارے میں افواہیں پھیلنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔سال 2020 میں جنوبی کوریا فرار ہونے والے شمالی کوریا کے سابق رہنما جی سیونگ ہو نے دعویٰ کیا تھا کہ کم جونگ اُن دل کی سرجری کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ انہیں اس بات کا تقریباً 99 فیصد یقین ہے۔تاہم بعد میں کم جونگ اُن عوامی سطح پر نظر آئے جس سے یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا۔ اس کے بعد جی سیونگ ہو نے اپنے بیان پر معذرت بھی کی تھی۔



