March 05, 2021

چیف منسٹر چندرشیکھر راو چاند اور تاروں کو دینے کا بھی وعدہ کرسکتے ہیں: محمد علی شبیر

چیف منسٹر چندرشیکھر راو چاند اور تاروں کو دینے کا بھی وعدہ کرسکتے ہیں: محمد علی شبیر

 

حیدرآباد ، 22 جنوری( اردو لیکس)سابق وزیر اور تلنگانہ قانون ساز کونسل کے سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کا معاشی طور پر کمزور طبقات (ای ڈبلیو ایس) کو ملازمتوں اور تعلیم میں 10 فیصد کوٹہ دینے کا وعدہ عوام گمراہ کرنے کا انتخابی حربہ ہے اور 10 فیصد ای ڈبلیو ایس کوٹہ کا یہ وعدہ مسلمانوں کو 12فیصد  اور درجہ فہرست قبائل کو 10فیصد  کوٹہ دینے کے وعدے کی طرح ہے۔کیونکہ چیف منسٹر کے سی آر نے ایک طویل عرصے تک مسلمانوں اور ایس ٹی کے جذبات کا استحصال کیا اور اب وہ اس کے بارے میں بات بھی نہیں کررہے ہیں۔ اسی طرح مجوزہ 10 فیصد ای ڈبلیو ایس کوٹہ کا وعدہ بھی عمل میں نہیں آئے گا اور وہ کونسل کے دو گریجویٹ حلقوں اور ناگرجنا ساگر ضمنی انتخابات کے  بعد بھول جائیں گے ایک صحافتی بیان میں محمد علی شبیر  نے یہ بات بتائی۔شبیر علی نے یاد دہانی کرائی  کہ چیف منسٹر کے سی آر نے اپریل 2014 میں وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد چار ماہ کے اندر 12 فیصد مسلم کوٹے پر عمل درآمد کریں گے۔ کے سی آر نے تین سال تک کچھ نہیں کیا اور کافی انتظار کے بعد قانون ساز اسمبلی اور کونسل میں ایک ناقص بل 16 اپریل 2017 کو منظور کیا ۔ اور  اس نئے قانون کو نافذ کرنے کے بجائے اسے مرکز کو منظوری کے لئے بھیجا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے تلنگانہ حکومت کو تین سے زیادہ سرکلر بھیجتے اس بات کی وضاحت کرنے کی ہدایت دی تھی کہ  مسلم کوٹہ کو 4 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد اور ایس ٹی کوٹہ کو 6 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کیوں کیا گیا ۔ تاہم ، ریاستی حکومت نے ان نوٹسوں کا جواب تک نہیں دیا۔ محمد علی شبیر نے کہا  “کے سی آر ایک عادی جھوٹے بن گئے ہیں ہے۔اگر انھیں انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا ہے تو وہ چاند اور تاروں کا بھی وعدہ کرسکتا ہے کانگریس لیڈر نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے 2004 کے انتخابات میں اپنے انتخابی منشور میں مسلمانوں کو 5 فیصد ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا تھا اور اقتدار میں آنے کے صرف 58 دن میں اس پر عمل درآمد کیا  تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کی ہدایت پر 5 فیصد  کو کم کرکے 4 فیصد کردیا گیا ہے اور ان تحفظات کو تقریبا 15 سالوں سے نافذ کیا جارہا ہے۔

Post source : urduleaks