مضامین
- اکتوبر- 2026 -4 اکتوبر
خبر پہ شوشہ “آٹو رکشہ، بہترین روز گار”
کے این واصف سوشل میڈیا پر وائرل ایک نیوز کے مطابق اترپردیش کے ڈپٹی چیف منسٹر برجیش پاٹھک نے بیروزگاروں کو مشورہ دیا کہ آٹو رکشہ چلانا بھی ایک اچھا ذریعہِ روز گار ہے۔ ملازمت کی تلاش اور اس کی پابندیوں کے غلام ہونے سے کہیں بہتر ہے کہ…
مزید پڑھیں » - 4 اکتوبر
آہ! مہتاب قدر ! برصغیر سے خلیج تک گونجتی آواز خاموش
ایم آئی ظاہر (جودھپور، راجستھان) اردو جب کسی دل میں اترتی ہے تو صرف زبان نہیں رہتی، نسبت بن جاتی ہے، پھر وہ نسبت ہجرت میں بھی ساتھ چلتی ہے۔ سید مہتاب قدر اسی نسبت کا نام تھے۔ حیدرآباد دکن کی تہذیبی مٹی میں جنم لینے والا یہ چراغ، جدہ…
مزید پڑھیں » - 4 اکتوبر
انصاف کی راہ میں چھ سال
تحریر: سید سرفراز احمد ایک بوڑھا شخص برسوں سے اپنے بیٹے کے قاتل کو سزا ملنے کا انتظار کر رہا تھا۔ ہر پیشی پر وہ امید لے کر عدالت پہنچتا، مگر تاریخ پر تاریخ ملتی رہی۔ ایک دن جج نے پوچھا بابا! تم ہر بار اتنی دور سے کیوں آتے…
مزید پڑھیں » - ستمبر- 2026 -27 ستمبر
جو پاسباں تھے وہی کٹہرے میں آگئے
تحریر: سید سرفراز احمد جمہوری ملک کے آئینی اداروں کی منفرد خصوصیت یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے فرائض آئین اور قانون کے مطابق غیر جانبدارانہ طور پر انجام دیں۔ اور عوامی اعتماد برقرار رکھیں۔ معاملہ اگر اس کے برعکس ہوتو وہ دن دور نہیں جس دن ان کا خفیہ…
مزید پڑھیں » - 26 ستمبر
ووٹر لسٹ کی صفائی یا ووٹ کے حق کا امتحان؟
جاوید جمال الدین اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ووٹر لسٹ میں صرف اہل اور قانونی طور پر مستحق شہریوں کے نام ہونے چاہئیں، تاکہ انتخابی عمل کی شفافیت، اعتبار اور غیر جانب داری برقرار رہے۔ ایک صحت مند جمہوریت کے لیے یہ بنیادی ضرورت ہے کہ کسی ایسے شخص…
مزید پڑھیں » - 26 ستمبر
جب اعتماد جواب مانگنے لگے۔الیکشن کمیشن کے اندرونی اعتراضات اور انتخابی عمل کی شفافیت
از: عبدالحلیم منصور انتخابات صرف ووٹ ڈالنے کا عمل نہیں اعتماد کا آئینی معاہدہ بھی ہیں۔ ووٹر اپنا حقِ رائے دہی اس یقین کے ساتھ استعمال کرتا ہے کہ انتخابی فہرست میں اس کا نام قانون کے مطابق موجود ہے، اس کا ووٹ محفوظ ہے اور انتخابات کرانے والا ادارہ…
مزید پڑھیں » - 20 ستمبر
تعصب کی زنجیریں کب ٹوٹیں گی؟
سید سرفراز احمد ہندوستان! جس ملک کا آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی، مساوات اور اظہارِ رائے کا حق دیتا ہے، وہاں اگر ایک مسلم آئی پی ایس افسر ڈاکٹر بشریٰ بانو جنھوں نے اپنی گفتگو میں ’’السلام علیکم‘‘، ’’ان شاء اللہ‘‘ اور ’’جزاک اللہ‘‘ کہنے پر نشانہ بنایا جارہا…
مزید پڑھیں » - 20 ستمبر
خبر پہ شوشہ:اس گھر کو آگ لگ گئی…
کے این واصف “مودی جی کا ڈنکا” گودی میڈیا میں کبھی نیشنل اور کبھی انٹرنیشنل پر سطح پر بجتا رہتاہے۔ لیکن BRICS summit میں اس کی گونج کچھ زیادہ ہی اونچی ہوگئی۔ اس دوڑ میں بی جے پی کا آئی ٹی سل گودی میڈیا کے شانہ بشانہ رہنا چاہتاہے۔…
مزید پڑھیں » - 19 ستمبر
اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا
خداے سخن کی برسی پر یاسر اللہ شکیل کی خصوصی تحریر دلی ہر دور میں مختلف وجوہات کی جانب سے اپنے وجود کا احساس دلاتی رہی ۔ اس خوبصورت شہر کو کئی بار خون سے رنگا گیا ۔ لاکھوں لوگ اسی سرزمین پر حملہ آوروں کا نشانہ بنے ۔ 18…
مزید پڑھیں » - 13 ستمبر
خبر پہ شوشہ… فلموں کا اثر
کے این واصف معروف صافی ابھیسار شرما نے اپنے ایک حالیہ براڈکاسٹ میں انکشاف کیا کہ پچھلے ماہ جنتر منتر پر جنزیز (Gen Z) پر پولیس ٹوٹ پڑی تھی اس میں پولیس کے ساتھ 25 سے زائد مجرمین بھی شامل تھے جنہیں پرامن احتجاج میں ہنگامہ آرائی کے لئے جیل…
مزید پڑھیں »