بزنس

یکم اپریل سے نیا ٹیکس نظام نافذ – نقد رقم اور جائیداد معاملات پر سخت اصول

بینکوں میں نقد جمع یا رقم نکلوانے، جائیداد و موٹر گاڑیوں کی خریداری، ہوٹل و ریستوراں کے بلوں کی ادائیگی اور دیگر مالی معاملات میں مستقل اکاؤنٹ نمبر (پیان) سے متعلق موجودہ قواعد میں جلد تبدیلی متوقع ہے۔ حال ہی میں جاری مسودۂ انکم ٹیکس رولز 2026 میں پین درج کرنے کی حدوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے

 

۔ ان تجاویز پر متعلقہ فریقوں سے مشاورت اور آراء حاصل کرنے کے بعد نظرثانی کرتے ہوئے ضروری ترامیم کی جائیں گی اور مارچ کے پہلے ہفتے تک مرکزی بورڈ برائے براہِ راست ٹیکسز (سی بی ڈی ٹی) قواعد کو حتمی شکل دے گا۔ مرکزی وزارتِ فینانس کے ذرائع نے یہ بات بتائی

 

یکم اپریل سے نافذ العمل نئے مالی سال 2026-27 کے آغاز کے ساتھ ہی موجودہ انکم ٹیکس ایکٹ 1962 کی جگہ نریندر مودی حکومت انکم ٹیکس ایکٹ 2025 نافذ کرنے جا رہی ہے۔ نئے قانون میں قواعد کی تعداد 511 سے گھٹا کر 333 اور فارموں کی تعداد 399 سے کم کر کے 190 کر دی گئی ہے۔ اسی سلسلے میں نئے انکم ٹیکس رولز کا مسودہ جاری کیا گیا ہے۔

 

اہم مجوزہ تبدیلیاں درج ذیل ہیں:

 

کسی بھی فرد کے ایک یا زائد کھاتوں میں مالی سال کے دوران 10 لاکھ روپے یا اس سے زیادہ کی نقد جمع کرنے یا نکالنے پر پیان کی تفصیلات لازمی ہوں گی۔موجودہ ضابطے کے مطابق ایک دن میں 50 ہزار روپے سے زیادہ نقد جمع پر ہی پیان درکار ہوتا ہے۔

 

موٹر سائیکل سمیت تمام گاڑیوں کی خریداری میں قیمت 5 لاکھ روپے سے تجاوز کرنے پر خریدار کو پین دینا ہوگا، جب کہ فی الحال موٹر سائیکل کے لیے پیان ضروری نہیں مگر کار اور دیگر گاڑیوں کے لیے لازمی ہے۔

 

ہوٹل، ریستوراں، کنونشن سنٹر یا بینکوئیٹ ہال کی ادائیگیوں اور ایونٹ مینجمنٹ سے متعلق ایک لاکھ روپے سے زائد ادائیگی پر پین دینا ہوگا۔ اس وقت 50 ہزار روپے سے زیادہ بل پر پین ضروری ہے۔

 

جائیداد کی خرید و فروخت، تحفہ یا مشترکہ ترقیاتی معاہدوں میں اگر مالیت 20 لاکھ روپے سے زیادہ ہو تو پیان لازمی ہوگا، جب کہ موجودہ حد 10 لاکھ روپے ہے۔

کسی بیمہ کمپنی کے ساتھ اکاؤنٹ پر مبنی لین دین شروع کرنے کے لیے بھی پیان دینا لازمی ہوگا۔ فی الحال زندگی بیمہ پریمیم سالانہ 50 ہزار روپے سے زیادہ ہونے پر پین درکار ہوتا ہے۔

 

سرکاری گاڑیوں پر ٹیکس سے مستثنیٰ مراعات اور مفت کھانے کی مالیت میں اضافہ کیا گیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے ملازم کو مفت کھانے اور بغیر الکحل مشروبات کی فراہمی کی قدر 200 روپے مقرر کی گئی ہے۔

1.6 لیٹر سے کم انجن والی کاروں کے لیے ماہانہ الاؤنس (ڈرائیور سمیت) 8 ہزار روپے اور اس سے بڑی گاڑیوں کے لیے 10 ہزار روپے مقرر ہوگا۔

ہاؤس رینٹ الاؤنس کے دعوے کے لیے میٹرو شہروں کی فہرست میں حیدرآباد، بنگلورو، پونے اور احمدآباد کو شامل کیا گیا ہے، جب کہ اس وقت یہ سہولت صرف دہلی، ممبئی، چنئی اور کولکتہ  تک محدود ہے۔

کرپٹو ایکسچینجوں کو انکم ٹیکس محکمہ کے ساتھ معلومات کا تبادلہ لازمی کرنا ہوگا۔

الیکٹرانک ادائیگی کے نظام میں مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسی (سی بی ڈی سی) کو شامل کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button