یوجی سی نے ملک میں 32 جعلی یونیورسٹیوں کی نشاندہی کی، طلبہ کو خبردار رہنے کی ہدایت
یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے تازہ ترین جائزے میں ملک میں 32 ایسے غیر قانونی اور جعلی یونیورسٹیوں کی نشاندہی کی ہے، جو کسی قانونی اجازت کے بغیر ڈگریاں جاری کر رہی ہیں یا دینے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ یوجی سی نے طلبہ کو خبردار کیا ہے کہ ایسی یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے سے گریز کریں کیونکہ یہ ڈگریاں اور سرٹیفیکیٹس قانونی طور پر تسلیم شدہ نہیں ہوں گے۔
یوجی سی، جو مرکزی وزارت تعلیم کے تحت اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے ماتحت کام کرتی ہے، ملک میں یونیورسٹیوں کی اہلیت اور قانونی حیثیت کا جائزہ لیتی ہے۔ ہر سال یہ جائزے کے بعد غیر اہلیت رکھنے والی یونیورسٹیوں کو نوٹس جاری کرتی ہے، انہیں بلیک لسٹ کرتی ہے اور طلبہ کو آگاہی فراہم کرتی ہے۔
تازہ ترین فہرست میں شامل اہم جعلی یونیورسٹیوں میں دہلی میں سب سے زیادہ، 12 جعلی یونیورسٹیاں ہیں۔ آندھرا پردیش میں گنٹور کی کریسٹ نیو ٹیسٹامنٹ ڈیمڈ یونیورسٹی اور وشاکھاپٹنم کی بائبل اوپن یونیورسٹی آف انڈیا بھی جعلی قرار دی گئی ہیں۔
ریاستوں کے لحاظ سے جعلی یونیورسٹیوں کی تقسیم کچھ یوں ہے:
دہلی: 12
اتر پردیش: 4
آندھرا پردیش: 2
کرناٹک: 2
کیرالہ: 2
مہاراشٹرا: 2
پڈوچیری: 2
مغربی بنگال: 2
اروناچل پردیش: 1
ہریانہ: 1
جھارکھنڈ: 1
راجستھان: 1
یوجی سی کے مطابق، ان یونیورسٹیوں کی جاری کردہ ڈگریاں، پی جی پروگرامز اور دیگر سرٹیفیکیٹس قانونی طور پر قابل قبول نہیں ہوں گے۔ طلبہ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ہمیشہ سرکاری تصدیق شدہ یونیورسٹیوں میں ہی داخلہ لیں۔



