انٹرٹینمنٹ

محمد شامی ایک بار پھر نظرانداز، سلیکٹرس کے فیصلے پر سوالات، کیریئر پر خدشات

حیدرآباد _ 3 جنوری ( اردولیکس ڈیسک) بھارتی کرکٹ ٹیم کے ایک وقت کے سب سے بڑے فاسٹ بولنگ ہتھیار محمد شامی کو ایک بار پھر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں مسلسل وکٹیں حاصل کرنے اور شاندار کارکردگی کے باوجود سلیکٹرس نے انہیں نیوزی لینڈ کے خلاف تین میچوں کی ون ڈے سیریز کیلئے منتخب اسکواڈ میں شامل نہیں کیا۔ اس فیصلہ نے کرکٹ حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے اور شامی کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

 

تیز گیند باز جسپریت بمراہ کی عدم موجودگی کے باعث یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ شامی کو ٹیم میں موقع ملے گا، مگر سلیکٹرس نے ایک بار پھر تجربہ کار بولر کو نظرانداز کرتے ہوئے محمد سراج کے ساتھ ساتھ ہرشیت رانا اور ارشدیپ سنگھ کو ترجیح دی۔ اس فیصلے کے بعد یہ تاثر گہرا ہو گیا ہے کہ شامی کو مسلسل ناانصافی کا سامنا ہے۔

 

واضح رہے کہ شامی گھٹنے کی سرجری کے بعد مکمل فٹنس حاصل کر چکے ہیں اور حال ہی میں سید مشتاق علی ٹرافی اور وجے ہزارے ٹرافی میں پانچ میچوں میں 12 وکٹیں لے کر اپنی فارم ثابت کر چکے ہیں۔ اس کے باوجود انہیں قومی ٹیم میں واپسی کا موقع نہ ملنا شائقین کیلئے حیران کن ہے۔

 

شامی اس سے قبل بھی سلیکشن کے عمل پر ناراضگی کا اظہار کر چکے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب اجیت اگرکر نے انہیں فٹنس کی بنیاد پر آسٹریلیا دورے کیلئے منتخب نہ کئے جانے کی وضاحت دی تھی۔ اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے شامی نے کہا تھا کہ وہ مکمل طور پر فٹ ہیں اور ان کی کارکردگی ہی ان کی فٹنس کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

 

رنچی ٹرافی میں بنگال کی نمائندگی کرتے ہوئے پہلے ہی میچ میں چار وکٹیں حاصل کر کے انہوں نے ایک بار پھر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، مگر اس کے باوجود قومی ٹیم کے دروازے ان کیلئے بند نظر آ رہے ہیں۔ ایک وقت میں ون ڈے ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ وکٹیں لے کر ‘پلیئر آف دی سیریز’ بننے والا یہ تجربہ کار بولر آج ایک موقع کیلئے بے چین دکھائی دیتا ہے۔

 

مسلسل نظرانداز کئے جانے کے بعد اب یہ سوال شدت اختیار کر رہا ہے کہ آیا شامی کا بین الاقوامی کیریئر اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے یا انہیں ایک بار پھر خود کو ثابت کرنے کا موقع ملے گا۔ شائقین کرکٹ اور ماہرین اس فیصلے پر سلیکٹرس کے رویے کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button