ایس آئی آر پر تلنگانہ اسمبلی میں اکبر اویسی اور بی جے پی لیڈر مہیشور ریڈی کے درمیان لفظی جھڑپ
حیدرآباد _ تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے مسئلہ پر ایوان اس وقت تماشہ گاہ بن گیا جب مجلس کے فلور لیڈر اکبر الدین اویسی اور بی جے پی کے فلور لیڈر اے مہیشور ریڈی آمنے سامنے آ گئے۔ چند لمحوں میں ایوان میں گرما گرمی اس حد تک بڑھ گئی کہ لفظی جھڑپ نے سیاسی طوفان کی شکل اختیار کر لی۔
اسمبلی میں پرجوش اور جارحانہ انداز میں خطاب کرتے ہوئے اکبر الدین اویسی نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا ملک بھر میں ایس آئی آر کو مرحلہ وار نافذ کر رہا ہے اور تیسرے مرحلے میں تلنگانہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل نہ صرف عجلت میں بلکہ مکمل غیر شفاف انداز میں کیا جا رہا ہے، جس سے لاکھوں اہل ووٹروں، بالخصوص مسلمانوں، کے حقِ رائے دہی پر تلوار لٹک رہی ہے۔
اکبر اویسی نے ایوان میں بم پھوڑتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بہار میں بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام حذف کر دیے گئے جبکہ مغربی بنگال میں مسودہ ووٹر لسٹ سے 58 لاکھ سے زائد نام نکالے جانے کی اطلاعات ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ سب محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم سازش ہے۔
انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا:“بھارت مختلف مذاہب کا ملک ہے، یہاں کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ دوسروں کی حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ بانٹے۔ یہ ملک سب کا ہے، کسی کے باپ کی جاگیر نہیں!”
اکبر اویسی نے چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ ایس آئی آر کے دوران بہار میں “ایک بھی مسلم ووٹر ایسا ثابت نہیں ہوا جو بنگلہ دیش، پاکستان یا کسی اور ملک سے آیا ہو۔”
اس جارحانہ تقریر پر بی جے پی کے فلور لیڈر اے مہیشور ریڈی چراغ پا ہو گئے۔ انہوں نے اعتراض اٹھاتے ہوئے اسپیکر سے سوال کیا کہ مجلس کے رکن کو ایسے موضوعات پر بولنے کی اجازت کیوں دی جا رہی ہے جن کا زیرِ بحث بل سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس آئی آر کا مقصد کسی مخصوص طبقے کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ووٹر لسٹ کو شفاف بنانا ہے۔
تاہم اکبر اویسی کے الزامات اور للکار نے ایوان میں سیاسی گرمی پیدا کردی



