ہیلت

چار ماہ بعد کتے کے کاٹنے کا خوفناک انجام – 14 سالہ لڑکا کتے جیسی آوازیں نکالنے لگا

اتر پردیش کے ضلع مرزا پور سے ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں کچوا علاقہ کے ایک 14 سالہ لڑکے میں کتے کے کاٹنے کے تقریباً چار ماہ بعد ریبیز کی سنگین علامات ظاہر ہو گئیں۔ اطلاعات کے مطابق لڑکے کو پانی سے شدید خوف محسوس ہونے لگا اور وہ کتے جیسی آوازیں نکالنے لگا، جس کے بعد گھر والوں نے اسے فوری طور پر ہاسپٹل منتقل کیا۔

 

میڈیا رپورٹ کے مطابق متاثرہ لڑکے کی شناخت کرن کے طور پر ہوئی ہے جو ایک مقامی پجاری کا بیٹا بتایا جاتا ہے۔ خاندان کے مطابق گزشتہ سال کے آخر میں اسے ایک آوارہ کتے نے کاٹ لیا تھا، مگر اس نے اس وقت یہ بات اپنے والدین کو نہیں بتائی، جس کے باعث اسے بروقت علاج اور اینٹی ریبیز ویکسین نہیں لگ سکی۔

 

تقریباً چار ماہ بعد اچانک لڑکے میں ریبیز کی شدید علامات ظاہر ہونے لگیں۔ اسے پانی سے ڈر لگنے لگا، بے چینی محسوس ہونے لگی اور اس کا رویہ غیر معمولی ہو گیا۔ گھر والوں نے فوراً اسے کچوا کے سرکاری میڈیکل سنٹر میں داخل کرایا جہاں ڈاکٹروں نے معائنہ کے بعد ریبیز کی علامات کی تصدیق کی۔

 

ڈاکٹروں کے مطابق ریبیز وائرس جسم کی اعصاب کے ذریعہ آہستہ آہستہ دماغ تک پہنچتا ہے، اسی لئے اس کی علامات بعض اوقات چند ہفتوں کے بعد تو بعض اوقات کئی ماہ بعد ظاہر ہوتی ہیں۔ کاٹنے کی جگہ اور وائرس کی مقدار کے لحاظ سے اس بیماری کی علامات ظاہر ہونے کی مدت مختلف ہو سکتی ہے۔

 

اس معاملہ میں چار ماہ تک کوئی علامت ظاہر نہ ہونے کی وجہ سے گھر والوں کو لگا کہ خطرہ ٹل گیا ہے، مگر جیسے ہی وائرس دماغ تک پہنچا تو لڑکے میں شدید اعصابی علامات سامنے آ گئیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق ایک مرتبہ ریبیز کی علامات ظاہر ہو جائیں تو اس بیماری کا علاج تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ فی الحال ڈاکٹر مریض کو آرام پہنچانے اور اس کی دیکھ بھال پر توجہ دے رہے ہیں۔

 

مرزا پور کے چیف میڈیکل آفیسر نے مشورہ دیا ہے کہ جن افراد کا رابطہ لڑکے کے لعاب یا زخم سے ہوا ہو وہ احتیاطی طور پر اینٹی ریبیز ویکسین ضرور لگوا لیں۔

 

ماہرین صحت کے مطابق ریبیز ایک نہایت خطرناک مگر ویکسین کے ذریعہ قابلِ روک تھام بیماری ہے۔ اگر کسی شخص کو کتا یا کوئی اور جانور کاٹ لے تو سب سے پہلے زخم کو کم از کم 15 منٹ تک صابن اور بہتے پانی سے اچھی طرح دھونا چاہیے اور اس کے بعد فوری طور پر اینٹی ریبیز ویکسین لگوانی چاہیے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بروقت ٹیکہ لگوا لیا جائے تو اس جان لیوا بیماری سے بچاؤ ممکن ہے، لیکن غفلت کی صورت میں یہ انفیکشن مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button