ہیلت

غیر معیاری کھانے کا تیل ہارٹ اٹیک میں اضافہ کی بڑی وجہ

حیدرآباد: ملک میں بڑھتے ہوئے دل کے دورے سے ہونے والی اموات کی ایک بڑی وجہ غیر معیاری کھانے کے تیل کا استعمال قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرینِ صحت نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ صرف تیل کی مقدار کا نہیں بلکہ اس کے معیار کا ہے۔

 

نیوٹریشن لٹریسی اینڈ امپروومنٹ آف فوڈ انوائرنمنٹس (NIULAF) اور فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (FSSAI) کے مشترکہ زیرِ اہتمام منعقدہ زوم اجلاس میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نیوٹریشن (NIN)، عالمی ادارۂ صحت (WHO) اور دیگر اداروں سے وابستہ سائنس دانوں نے شرکت کی۔

 

این آئی این کے چیف سائنٹسٹ ڈاکٹر بھانو پرکاش ریڈی نے کہا کہ کوئی ایک تیل تمام غذائی اجزاء فراہم نہیں کرتا، اس لئے یا تو ہر مہینے مختلف قسم کا تیل استعمال کیا جائے یا دو تا تین اقسام کے تیل ملا کر استعمال کئے جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بیشتر تیلوں میں اومیگا-6 کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، اور اگر اس کے توازن کیلئے اومیگا-3 سے بھرپور غذائیں یا تیل شامل نہ کئے جائیں تو دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

 

ڈبلیو ایچ او کے جنوب مشرقی ایشیائی علاقائی دفتر کی مشیر ڈاکٹر اینجیلا ڈی سلوا نے حکومتوں کو مشورہ دیا کہ چھوٹے تاجروں کیلئے کم قیمت پر صحت بخش تیل کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔

 

چنڈی گڑھ کے پی جی آئی ایم ای آر کے پروفیسر اور ورلڈ این سی ڈی فیڈریشن کے صدر جے ایس ٹھاکر نے کہا کہ ڈاکٹروں کو چاہئے کہ وہ مریضوں کو ادویات کے ساتھ یہ بھی بتائیں کہ کون سا کھانے کا تیل استعمال کرنا زیادہ مفید ہے۔

 

آئی آئی سی ٹی کے ریٹائرڈ سائنس دان ڈاکٹر آر بی این پرساد نے بتایا کہ رائس بران آئل میں موجود غذائی جز ’اوریزانول‘ کولیسٹرول کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

 

ڈاکٹر سبباراؤ کی نگرانی میں منعقدہ اس اجلاس میں سنٹرل فوڈ ٹیکنالوجیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی سائنس دان ڈاکٹر اُشا رانی اور این آئی این کے سائنس دان ڈاکٹر ابراہیم ابراہیم نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button