ایران کے ساتھ جنگ میں 3 امریکی فوجی ہلاک 5 زخمی

نئی دہلی: امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اتوار کو اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع میں تین امریکی فوجی ہلاک اور پانچ شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ بین القوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اس جنگ میں امریکہ کے پہلے جانی نقصانات ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کے روز ایران پر بڑے پیمانے پر بمباری کی اور اس کے سپریم لیڈر کو ہلاک کر دیا جبکہ اتوار کو بھی حملے جاری رہے۔سینٹکام نے امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے حالات سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
بیان میں کہا گیا "صورتحال بدلتی رہتی ہے،اس لیے اہلِ خانہ کے احترام میں ہم اضافی معلومات،بشمول ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی شناخت اس وقت تک ظاہر نہیں کریں گے جب تک قریبی رشتہ داروں کو مطلع کیے جانے کے بعد 24 گھنٹے مکمل نہ ہو جائیں۔”گزشتہ روز ایران نے
امریکی۔اسرائیلی بمباری کے جواب میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ اس نے اسرائیل پر بھی میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن میں 10 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔سینٹکام کے مطابق کئی دیگر اہلکار معمولی زخموں اور دماغی جھٹکوں (کنکشن) کا شکار ہوئے ہیں
اور انہیں دوبارہ ڈیوٹی پر واپس لانے کا عمل جاری ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ "بڑی فوجی کارروائیاں جاری ہیں اور ہمارا جوابی اقدام بھی جاری ہے۔”تاہم سینٹکام نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے اس دعوے کی تردید کی کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں کہا گیا "لنکن کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ داغے گئے میزائل اس کے قریب بھی نہیں آئے۔ لنکن بدستور امریکی عوام کے دفاع اور ایرانی نظام سے لاحق خطرات کے خاتمے کے لیے فضائی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔”اس سے قبل آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا تھا
کہ "امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہام لنکن کو چار بیلسٹک میزائل لگے۔”بیان میں کہا گیا: "گزشتہ رات امریکی بی-2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں نے، جو 2,000 پاؤنڈ وزنی بموں سے مسلح تھے ایران کی مضبوط زیرِ زمین بیلسٹک میزائل تنصیبات کو نشانہ بنایا۔”
ایک امریکی دفاعی اہلکار نے فاکس نیوز کو بتایا کہ چار بی-2 بمبار طیاروں نے امریکہ سے براہِ راست پرواز کر کے ایران میں زیرِ زمین میزائل مراکز پر درجنوں 2,000 پاؤنڈ بم گرائے۔



