ایرانی میزائل کے حملے میں 9 اسرائیلی ہلاک 40 زخمی ، یہودی عبادت گاہ اور بنکر بھی تباہ

نئی دہلی: اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار کی دوپہر یروشلم کے قریب بیت شیمش میں ایرانی میزائل کے براہِ راست حملے کے نتیجے میں نو افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہو گئے۔
میزائل شہر کے ایک رہائشی علاقے میں گرا جس سے ایک کنیسہ (یہودی عبادت گاہ) مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور اس کے نیچے قائم عوامی بم شیلٹر سمیت اطراف کے مکانات کو شدید نقصان پہنچا۔
میگن ڈیوڈ آدوم ایمبولینس سروس کے مطابق آٹھ افراد کو موقع پر ہی مردہ قرار دیا گیا جبکہ 28 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا جن میں دو کی حالت تشویشناک تھی۔ نویں شخص کی موت کا اعلان کچھ دیر بعد کیا گیا۔
یروشلم کے شعرے زیدک میڈیکل سینٹر نے بتایا کہ وہاں چھ افراد کا علاج جاری ہے جن میں چار سالہ بچہ بھی شامل ہے جس کی حالت درمیانی نوعیت کی ہے۔
دیگر زخمیوں کو بیت شیمش کے تیریم ایمرجنسی میڈیکل سینٹر اور یروشلم کے حداسا یونیورسٹی اسپتال (ماؤنٹ اسکوپس اور عین کریم) منتقل کیا گیا۔فوج نے جائے وقوعہ پر سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں اور طبی عملہ روانہ کیا
جبکہ زخمیوں کو منتقل کرنے کے لیے ایک ہیلی کاپٹر بھی تعینات کیا گیا۔دوپہر تقریباً دو بجے ملک کے بیشتر حصوں میں سائرن بجنے کے بعد حملے کا لمحہ ویڈیو میں ریکارڈ ہوا۔
اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے کہا کہ میزائل کو روکنے میں ناکامی کی تحقیقات اسرائیلی فضائیہ کر رہی ہے۔ علاقے میں فضائی دفاعی نظام فعال کیا گیا تھا تاہم نامعلوم وجوہات کی بنا پر میزائل کو مار گرایا نہ جا سکا۔
ہوم فرنٹ کمانڈ بھی واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے خاص طور پر اس شیلٹر کی مضبوطی کا جائزہ لیا جا رہا ہے جس پر تقریباً 500 کلوگرام وار ہیڈ والا میزائل براہِ راست گرا۔
فوج کے مطابق ہوم فرنٹ کمانڈ کا ابتدائی انتباہی نظام درست طور پر کام کر رہا تھا اور بیت شیمش میں سائرن سے قبل الرٹ جاری کر دیا گیا تھا۔یروشلم ڈسٹرکٹ پولیس کے سربراہ ڈپٹی کمشنر
اوشالوم پیلیڈ نے کہا کہ ان کے علم کے مطابق زیادہ تر ہلاک شدگان عوامی شیلٹر کے اندر موجود تھے۔



