آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ان کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے۔ اسرائیل کی دھمکی

نئی دہلی: ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد اسرائیل کی جانب سے سخت مؤقف سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع یسرائیل کاٹز نے عندیہ دیا ہے کہ ایران میں جو بھی نئی قیادت سنبھالے گا اسے بھی اسرائیل کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر دفاع نے بیان دیا کہ آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ایران کی باگ ڈور سنبھالنے والی ہر شخصیت اسرائیل کے نشانے پر ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کو درپیش خطرات کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا۔
اسرائیل کاٹز کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی اسرائیلی فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایران کی ممکنہ نئی قیادت کے حوالے سے ہر قسم کی پیش رفت پر نظر رکھیں اور ضروری اقدامات کے لیے تیار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف حکمت عملی میں کسی قسم کی نرمی اختیار نہیں کی جائے گی اور امریکا کے ساتھ تعاون جاری رکھا جائے گا۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل ایران کی عسکری اور اسٹریٹیجک صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے مربوط اور مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔واضح رہے کہ دو روز قبل ایک فضائی حملے میں تہران کے قریب ایک زیرِ زمین بنکر کو نشانہ بنایا گیا تھا جہاں آیت اللہ خامنہ ای اہم سیکیورٹی اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق اس حملے میں آیت اللہ خامنہ ای ان کی اہلیہ اور خاندان کے بعض دیگر افراد کے علاوہ اجلاس میں شریک اعلیٰ عسکری و سیکیورٹی حکام بھی ہلاک ہوگئے۔ایران میں نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل تاحال مکمل نہیں ہوا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ممکنہ امیدواروں میں آیت اللہ خامنہ ای کے
صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کا نام بھی زیرِ غور ہے تاہم حتمی فیصلہ ایران کے متعلقہ آئینی اداروں کی جانب سے کیا جائے گا۔



