انٹر نیشنل

’زندہ ہیں مگر بے روح‘۔ غزہ میں سخت زندگی کی جھلک انجیلینا جولی نے دنیا کو دکھا دی

نئی دہلی ۔ ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ اور انسان دوست انجلینا جولی نے ایک بار پھر غزہ میں جاری انسانی بحران کی طرف عالمی توجہ مبذول کرائی ہے۔

 

انہوں نے انسٹاگرام پر ایک 26 سالہ فلسطینی خاتون کا نہایت درد بھرا خط شیئر کیا جس میں جنگ کے دوران عام لوگوں، خصوصاً خاندانوں کو درپیش مشکلات کو دل سوز انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

 

پناہ گزینوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی جولی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بچوں کی تصاویر اور اس خط کے سکرین شاٹس بھی شیئر کیے۔ خط لکھنے والی خاتون، جو گولہ باری میں اپنے والد کو کھو چکی ہیں، اب اپنے مفلوج جڑواں اور دیگر اہلِ خانہ کے ساتھ ایک خیمے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

 

جولی نے لکھا "اس نے مجھے بتایا کہ اس کے لیے اس کے خاندان اور اس کے پڑوسیوں کے لیے روزمرہ زندگی کیسی ہے۔ میں یہ حقیقت سب کے ساتھ شیئر کرنا چاہتی تھی۔ ان کی مشکلات بدستور جاری ہیں، مگر دنیا کی توجہ دیگر سانحات کی جانب منتقل ہو چکی ہے۔”

 

یہ خط غزہ کی زندگی کی ایک نہایت کٹھن اور دل دہلا دینے والی تصویر پیش کرتا ہے "ماضی کی جنگوں میں ہم سمجھتے تھے کہ نقصان یا موت ہی سب سے بڑی آزمائش ہے، لیکن اس جنگ نے ہمیں سکھایا کہ موت سے بھی بدتر کچھ ہوتا ہے۔زندہ رہنا مگر روح کے بغیر، اور ایسا دکھ اٹھانا جو ہماری تباہ حال بستیوں کے ملبے جتنا بھاری ہو۔”

 

خط میں بنیادی ضروریات کے حصول کی جدوجہد کو بھی اجاگر کیا گیا ہے، جیسے شدید حالات میں پانی لانا، خیراتی کچن سے کھانے کے لیے طویل قطاروں میں کھڑا ہونا، اور تعلیمی اداروں کی بندش۔

 

مزید کہا گیا "بہت سے بچے یہ بھی بھول چکے ہیں کہ اسکول کیسا ہوتا ہے، قلم کیسے پکڑا جاتا ہے، یا کاپیوں میں رنگ کیسے بھرے جاتے ہیں۔ ان کے خواب اب صرف ایک لیٹر پانی یا ایک پلیٹ کھانے تک محدود ہو چکے ہیں۔”

 

خاتون نے آگ، زہریلی گیسوں، تباہ شدہ ہسپتالوں، ادویات کی کمی، بجلی کے بحران اور ایندھن کی قلت جیسے سنگین مسائل کا بھی ذکر کیا۔ تاہم ان تمام تر مشکلات کے باوجود امید کی ایک کرن باقی ہے۔

 

"غزہ کے لوگ اب بھی زندگی اور خوشی کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ اس یقین کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں کہ ایک دن ایک بہتر اور زیادہ روشن مستقبل ضرور آئے گا۔”

متعلقہ خبریں

Back to top button