میدان جنگ میں امریکہ کو بڑا دھکہ ۔ آنکھوں اور کانوں کی طرح کام کرنے والا طیارہ تباہ

نئی دہلی: ایران کے ساتھ جاری جنگ میں امریکہ کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔ میدانِ جنگ میں فوج کے لیے آنکھوں اور کانوں کی طرح کام کرنے والے نگرانی طیارے E-3 Sentry پر ایران نے حملہ کر کے اسے تباہ کر دیا۔
یہ واقعہ سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس میں پیش آیا۔ اس بات کا انکشاف امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے کیا ہے۔جنگ کے میدان میں E-3 Sentry AWACS کوئی عام طیارہ نہیں ہے۔ یہ بوئنگ 707 ماڈل میں تبدیلیاں کر کے ایک فضائی کمانڈ سینٹر کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔
یہ دشمن ممالک کے ڈرونز، میزائل، جنگی طیاروں اور ٹینکر طیاروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھتا ہے۔ 250 میل کے دائرے میں فضا میں ہونے والی ہر سرگرمی کو یہ اکیلا طیارہ شناخت کر سکتا ہے۔امریکی فضائیہ کے کرنل جان وینیبل نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے سے جنگی میدان میں امریکہ کی صلاحیت پر اثر پڑ سکتا ہے۔
خاص طور پر خلیجی خطے پر نگرانی اور صورتحال کو سمجھنے میں امریکی افواج کو مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔امریکہ کی فضائی کارروائیوں کے لیے پرنس سلطان ایئر بیس نہایت اہم ہے۔ ایران کی سمت جانے والے طیاروں کو فضا میں ایندھن فراہم کرنا، انٹیلیجنس اکٹھا کرنا اور حملوں کی ہم آہنگی جیسے کام یہیں سے انجام دیے جاتے ہیں۔
ان میں E-3 طیارہ انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ایران کی جانب سے امریکی اڈوں پر کیے گئے حملوں میں اب تک 303 فوجی زخمی ہو چکے ہیں، جن میں سے 273 صحت یاب ہو کر دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔ایران کے بڑھتے ہوئے حملوں کے پیش نظر امریکہ نے 3,500 میرینز کو مغربی ایشیا کی جانب روانہ کیا ہے۔
یو ایس ایس ٹرپولی آج سینٹرل کمانڈ کے دائرہ کار میں پہنچ گئی ہے۔ اس کے بعد یہاں سے امریکہ زمینی کارروائی کیسے شروع کرے گا، اس پر بحث جاری ہے۔



