انٹر نیشنل

آیت اللہ علی خامنہ ای کی تعزیتی تقریب ملتوی، نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل آخری مرحلے میں

تہران میں ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین اور تعزیتی تقریب ملتوی کردی گئی ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ فضائی حملوں میں ان کی اور ان کے اہلِ خانہ کی ہلاکت کے چند دن بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ تاخیر کی وجہ انتظامی مسائل اور مختلف صوبوں سے لوگوں کی شرکت کی درخواستیں بتائی گئی ہیں۔

 

تدفین کے انتظامات جاری ہیں اور توقع ہے کہ بڑی تعداد میں عوام شرکت کریں گے، جس کے پیش نظر سکیورٹی خدشات بھی موجود ہیں۔ یاد رہے کہ 1989 میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کی نمازِ جنازہ میں تقریباً ایک کروڑ افراد شریک ہوئے تھے۔

 

چند گھنٹے قبل اسلامی تبلیغی کونسل کے سربراہ حجۃ الاسلام محمودی نے اعلان کیا تھا کہ الوداعی تقریب رات 10 بجے امام خمینی نماز گاہ میں شروع ہوکر تین دن جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا تھا کہ عوام بڑی تعداد میں شرکت کرکے بھرپور حاضری درج کرا سکتے ہیں۔

 

آیت اللہ خامنہ ای ہفتہ کے روز 86 برس کی عمر میں ہلاک ہوئے۔ وہ 1989 سے سپریم لیڈر کے منصب پر فائز تھے اور انہوں نے 1979 کے انقلاب کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کے بعد قیادت سنبھالی تھی۔

 

ایران میں سپریم لیڈر کو حکومت کے تمام شعبوں، فوج اور عدلیہ پر حتمی اختیار حاصل ہوتا ہے اور وہ ملک کے روحانی پیشوا بھی ہوتے ہیں۔

 

سینئر عالم دین آیت اللہ احمد خاتمی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل آخری مراحل میں ہے، تاہم موجودہ حالات جنگی نوعیت کے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button